پاکستانی سیاستدانوں پر خونی حملوں کی تاریخ

اکستانی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک ایک صدر، تین وزرائے اعظم اور ایک چیف جسٹس پر قاتلانہ حملے ہوئے جن میں ایک سابق اور ایک موجودہ وزیر اعظم اپنی جان سے گئے۔ تاہم بے نظیر بھٹو اور لیاقت علی خان کے قاتل موقع واردات پر ہی مارے گئے۔ بےنظیر بھٹو وہ واحد سابق وزیراعظم تھیں جن پر اڑھائی ماہ کے دوران دو قاتلانہ حملے ہوئے۔ اکتوبر 2007 میں پاکستان واپسی پر بی بی پر کراچی میں ہونے والے پہلے حملے میں 139 پیپلز پارٹی کے ورکرز مارے گئے جبکہ راولپنڈی میں ہونے والے دوسرے حملے میں محترمہ سمیت پیپلزپارٹی کے درجنوں ورکرز بھی شہید ہو گئے۔

انڈیپنڈنٹ اردو کے لیے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں سینئر صحافی عبادالحق بتاتے ہیں کہ سیاسی اجتماعات میں ہونے والے قاتلانہ حملوں میں ایک سابق صدر اور دو وزرائے اعظم بال بال بچے۔ دو وزرائے اعظم پر ایک ہی شہر اور ایک ہی مقام پر قاتلانہ حملے ہوئے۔ یہ دونوں وزرائے اعظم راولپنڈی کے لیاقت باغ میں شہید ہوئے جسے پہلے کمپنی باغ کہا جاتا تھا۔ ایک وزیراعظم لیاقت علی خان جلسے کے دوران اور دوسری بے نظیر بھٹو جلسے کے اختتام پر گولی کا نشانہ بنیں۔

ملکی تاریخ میں کسی جلسے یا سیاسی اجتماع پر پہلا قاتلانہ حملہ قیام پاکستان کے چار برس بعد ہوا۔ جب پہلے وزیراعظم نواب لیاقت علی خان پر گولی چلا کر انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ یہ واقعہ 16 اکتوبر 1951 کو کمپنی باغ میں پیش آیا۔ وزیراعظم لیاقت علی پر اس وقت گولی چلائی گئی جب وہ جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ تاہم ان کے قاتل سید اکبر خان کو کو پولیس نے گرفتار کرنے کی بجائے وہیں پر گولی مار کر ہلاک کردیا۔ سابق صدر جنرل ایوب خان ملک کے پہلے صدر تھے جن پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ ایوب کو 8 نومبر 1968 کو پشاور یونیورسٹی میں خطاب کے دوران فائرنگ کر کے مارنے کی کوشش کی گئی تاہم ایوب حملے میں محفوظ رہے۔ سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو آٹھ برس کی جلاوطنی کے بعد 18 اکتوبر 2007 کو واپس آئیں تو کراچی میں ان کے جلوس پر خودکش حملہ ہوا۔ یہ حملہ بےنظیر بھٹو کے ٹرک سے کچھ فاصلے پر ہوا۔ بےنظیر بھٹو تو اس انتہائی خطرناک حملے میں محفوظ رہیں، لیکن جلوس میں 139 پارٹی ورکرز شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ لگ بھگ اڑھائی ماہ کے بعد 27 دسمبر 2007 کو بےنظیر بھٹو پر راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ کرنے کے بعد باہر نکلتے ہوئے دوبارہ قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ جان کی بازی ہار گئیں۔ اس حملے میں بھی ایک خود کش بمبار اور ایک شارپ شوٹر کو استعمال کیا گیا جس نے بی بی کے سر میں گولی ماردی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بی بی کو کسی اونچی بلڈنگ میں موجود ماہر نشانہ باز نے نشانہ بنایا کیونکہ مشرف ان کے ملک واپس آنے سے خوش نہیں تھا۔

اب سابق وزیراعظم عمران خان بھی لانگ مارچ کے دوران زخمی ہونے والوں کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں۔ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران 3 نومبر 2022 کو پنجاب کے ضلع وزیر آباد میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے دوران عمران خان کے پاؤں میں فائرنگ سے اڑنے والے لوہے کے ٹکڑے لگے۔ جبکہ ان کے 13 ساتھی زخمی ہوئے۔2007میں وکلا تحریک کے دوران اسلام آباد میں بھی ایک خود کش حملہ ہوا تھا۔

17 جولائی کی شام اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار میں ہونے والے وکلا کنونشن کے پنڈال کے قریب ہونے والے دھماکے میں اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری بال بال بچے تھے۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری اپنی معطلی کے دوران ایک جلوس کی شکل میں وکلا کنونشن میں خطاب کے لیے جا رہے تھے اور ان کا قافلہ جلسہ گاہ سے کچھ فاصلے پر تھا جب پنڈال میں بم دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور 80 کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔ اس بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں پیپلز پارٹی کے کارکن بھی شامل تھے۔ پیپلز پارٹی کے اسرار شاہ بھی اسی حملے میں شدید زخمی ہوئے اور اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم ہو گئے۔
خبیر پختونخوا کے سینئر وزیر اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما بشیر احمد بلور بھی ایک سیاسی سرگرمی کے دوران خود کش حملے میں ہلاک ہو گئے۔ یہ خودکش حملہ 22 دسمبر 2010 کو ایک ریلی کے دوران ہوا۔اس میں بشیر بلور کے علاوہ ریلی میں شریک دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے جبکہ بشیر احمد بلور کے بھائی غلام احمد بلور اس حملے میں محفوظ رہے۔ خبیر پختونخوا میں ہی جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ بھی دو سیاسی اجتماعات کے دوران خود کش حملے میں محفوظ رہے۔مولانا فضل الرحمٰن کے قافلے پر 2011 میں دو دنوں کے دوران دو حملے ہوئے۔ پہلا ضلع صوابی میں مولانا فضل الرحمٰن کے استقبالیہ جلوس پر ہوا جس میں مولانا تو محفوظ رہے لیکن حملے میں سات افراد ہلاک ہو گئے۔

فوجی اسٹیبلشمنٹ عمران خان پر ہاتھ کیوں نہیں ڈال سکتی؟

اس سے پہلے چارسدہ میں بھی مولانا فضل الرحمٰن کے قافلے پر اس وقت خود کش حملہ ہوا جب وہ جلسے سے خطاب کے لیے جا رہے تھے۔ اس حملے میں مولانا تو محفوظ رہے، تاہم پانچ پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ سابق وزیراعظم شوکت عزیز پر 30 جولائی 2004 کو ان کی انتخابی مہم کے دوران ایک قاتلانہ حملہ ہوا۔ شوکت عزیز فتح جنگ میں انتخابی مہم کے ایک جلسے سے واپس آ رہے تھے کہ ان کی گاڑی کے قریب دھماکہ ہوا۔ شوکت عزیز اس حملے میں نہ صرف محفوظ رہے بلکہ اسی حلقے سے رکن قومی اسمبلی بنے اور پھر وزیراعظم کے عہدے کے لیے چن لیے گئے۔

سیاسی اجتماع کے علاوہ سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف اور نواز شریف پر اس وقت حملے ہوئے جب وہ گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔سابق صدر جنرل مشرف پر پہلا حملہ راولپنڈی کے جھنڈا چیچی پل پر ریموٹ کنٹرول بم سے کیا گیا تھا لیکن بم اس وقت پھٹ نہ سکا، جب گاڑیاں پل سے گزر رہی تھیں۔ دس دن بعد سابق صدر پرویز مشرف پر 25 دسمبر کو دوسرا حملہ کیا گیا اور انہیں خودکش حملے کے ذریعے ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس حملے میں صدر جنرل پرویز مشرف بال بال بچ گئے۔

نواز شریف پر بھی اس وقت حملہ ہوا جب وہ وزیراعظم تھے۔ اپنے دوسرے دور حکومت میں وہ لاہور کے نواحی علاقے جاتی عمرہ میں واقعے اپنی رہائش گاہ کی جانب جا رہے تھے کہ ان کے راستے میں ایک پل کے نیچے لشکر جھنگوی کی جانب سے رکھا گیا بم ان کی گاڑی گزرنے کے بعد پھٹا اور اس طرح وہ محفوظ رہے۔

Related Articles

Back to top button