مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بننے سے کیسے روکنا ہے

بلوچستان میں قوم پرست عسکریت پسندوں کی جانب سے دن بدن بڑھتی ہوئی دہشت گردی نے پاکستانی ریاست کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ شورش کی تازہ لہر سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ بلوچ مزاحمت کو بزور طاقت کچلنا ممکن نہیں، دوسری جانب یہ بھی طے ہے کہ بلوچ مزاحمت کار بھی ریاست کو بزور طاقت جھکنے پر مجبور نہیں کرسکتے لہذا تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کو ایک سیاسی مسئلہ تسلیم کرتے ہوئے ریاست پاکستان کو بلوچ قیادت اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل بیٹھ کر اسے حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مشرقی پاکستان جیسا ایک اور سانحہ جنم نہ لے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم کے مطابق اصل سوال بلوچوں کا قومی سوال ہے جس کے جمہوری و آئینی اور سیاسی حل کے بنا نہبتو بلوچ مزاحمت ختم ہوگی اور نہ ہی وفاق مستحکم ہو گا۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ان کا کہنا ہے کہ ہم کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے بڑے چیمپیئن بنتے ہیں لیکن بلوچستان کے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق دینے کے لیے راضی نہیں۔

اس پرانے قضیہ کا نیا انسانی و جمہوری حل ڈھونڈنا ہو گا اور بلوچستان پر بلوچوں کے حق کو تسلیم کیے بنا بات آگے نہیں بڑھے گی۔ انکا کہنا یے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد جو تاریخی سبق ملنا چاہیے تھا وہ یہی ہے کہ پاکستان کی وفاقی اکائیوں کی مساویانہ اور جمہوری شراکت داری سے پاکستان کا وفاق جمہوری ہو سکتا ہے اور قائم رہ سکتا ہے۔

امتیاز عالم کہتے ہیں کہ پنجگور، نوشکی اور کیچ میں گزشتہ دنوں جو حملے ہوئے ہیں، وہ بلوچ مزاحمت کی نئی سطح کو ظاہر کرتے ہیں۔ ماضی میں اگر سوویت یونین اور افغانستان کی قوم پرست حکومتیں بلوچستان میں آزادی کی تحریکوں کی مدد کرتی تھیں تو گزشتہ برسوں میں امریکہ نواز افغان حکومتیں بلوچ علیحدگی پسندوں کو پناہ اور امداد دیتی رہیں اور اس میں بھارت اور را بھی متحرک رہیں۔

یہ جو واہمہ تھا کہ افغان طالبان کے آنے سے بیرونی ہاتھ کٹ جائے گا غلط ثابت ہوا ہے، سوال یہ ہے کہ بلوچ ناراضگی، بیگانگی اور مزاحمت بیرونی عناصر کی پیدا کردہ ہے یا یہ اندرونی نا انصافی، نابرابری اور قومی جبر کی پیداوار ہے۔

بنیادی طور پر یہ اندرونی تضادات اور عوامل کی دین ہے اور آمرانہ قوتیں اور علیحدگی پسند عناصر اس اندرونی خلفشار کو اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں اور کر رہی ہیں۔ پنجگور، نوشکی اور کیچ میں بلوچ مزاحمت پسندوں کے حالیہ حملوں کے بعد بلوچستان میں جاری خونی تصادم ایک نئی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اگر بلوچ مسلح مزاحمت کار ہنوز ڈٹے ہوئے ہیں تو ان کی پانچویں مسلح مزاحمت کو گزشتہ 21 برس میں ریاستی طاقت سے کچلا بھی نہیں جا سکا ہے۔

بقول امتیاز عالم بلوچوں کی سرکشی کو کچلنے اور ان کی طویل مزاحمتی تحریک کا قضیہ بہت پرانا ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے کا تاریخی سیاق و سباق جانا جائے۔ وہ بتاتے ہی کہ 14 اکتوبر 1955 کو جب ون یونٹ بنا تو بلوچستان کے تمام علاقے اس میں ضم کر دیے گئے۔ ون یونٹ کے خلاف مغربی پاکستان میں قوم پرست جماعتوں نے ایک طویل جدوجہد کی اور بالآخر ون یونٹ کا خاتمہ ہوا۔

اس دوران 1958 اور 1962 میں جنرل ایوب خان کے دور میں فوج کشیاں ہوئیں جن کے خلاف دو بڑی بلوچ مزاحمتیں ہوئیں اور نوروز خان کو وعدہ شکنی کرتے ہوئے قید کر دیا گیا اور اس کے بیٹوں اور ساتھیوں کو پھانسی دے دی گئی۔ بلوچستان کی پہلی بڑی مسلح تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کو 1964 میں جمعہ خان نے دمشق میں قائم کیا جس نے 1968۔ 1973 کے دوران ایران کے صوبہ سیستان میں مسلح مزاحمت شروع کی جو 1973۔ 1977 کے دوران پاکستانی بلوچستان میں پھیل گئی۔ جس کی قیادت قوم پرست شیر محمدی مری نے کی۔ اس کا دوبارہ آغاز اللہ نذر بلوچ کی قیادت میں 2003 ءمیں ہوا۔

ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ: پنجگور جنگ زدہ علاقہ لگتا ہے

امتیاز عالم یاد دلواتے ہیں کہ مشرقی پاکستان میں شکست اور بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی کی منتخب حکومتیں قائم ہوئیں۔ عام انتخابات کے نتیجے میں 30 مارچ 1970ء کو بلوچستان میں پہلی منتخب صوبائی اسمبلی وجود میں آئی۔

پیپلز پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت العلمائے اسلام کے سہ فریقی معاہدے کے تحت 1973ء کا متفقہ آئین منظور کیا گیا لیکن 1974ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے عطا اللہ مینگل کی حکومت ختم کردی جس کے خلاف ایک لمبی مزاحمت ہوئی اور نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگا کر حیدر آباد جیل میں نیپ کے رہنماؤں کو غداری کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔

جنرل ضیاءالحق کے دور میں بلوچ قوم پرستوں کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا گیا اور افغان جہاد شروع ہوگیا۔ بعد ازاں مختلف حکومتوں میں بگٹی، مینگل و دیگر سرداروں کی حکومتیں برسراقتدار رہیں۔ نواز شریف کی تیسری حکومت میں ڈاکٹر مالک کی ترقی پسند حکومت کو آدھے عرصہ کے لیے وزارت اعلیٰ ملی جس دوران خان آف قلات سلمان داؤد سے بات چیت چلی لیکن سرے نہ چڑھی۔

بعد ازاں جنرل مشرف کے دور میں جب نواب خیر بخش مری کو 2000 ء میں قتل کے کیس میں گرفتار کیا گیا تو پھر سے بلوچ مزاحمت پھوٹ پڑی۔ جنوری 2005 میں ڈاکٹر شازیہ خالد کا کیس سامنے آیا اور مارچ 2005 میں ڈیرہ بگٹی پر فوجی یلغار کردی گئی، پھر 26 اگست 2006 کو نواب اکبر بگٹی کے قتل پر بلوچ مزاحمت آگ کی طرح پھیل گئی جسے اب 21 برس ہونے کو آئے ہیں۔

اگست 2006 ہی میں خان آف قلات سلیمان داؤد احمد زئی نے ایک گرینڈ جرگہ منعقد کیا جس میں بڑی تعداد میں بلوچ عمائدین اور سرداروں نے شرکت کی۔ اس جرگے نے خان آف قلات کو اختیار دیا کہ وہ بلوچستان کی آزادی کے لیے دنیا میں بلوچوں کا مقدمہ لڑیں۔ 1973

کے وفاقی و جمہوری آئین اور اٹھارہویں ترمیم کے باوجود وفاق اور بلوچستان کے تعلقات میں قدرے بہتری تو آئی، لیکن مرکز پسند آمرانہ قوتوں کے ہاتھوں بلوچستان کے عوام کو ان کے حقیقی حقوق نصیب نہ ہوئے۔ خود بلوچ قیادتوں اور سرداروں میں اختلافات کو نہ صرف ہوا دی جاتی رہی بلکہ انہیں تقسیم کرو اور قابو رکھو کے اصول پر زیر نگیں بنایا گیا۔

بقول امتیاز عالم، پھر بلوچ سرداروں کے کردار بھی بدلتے رہے اور وہ جاگیردارانہ تسلط کے تقاضوں کے تحت آمرانہ قوتوں کا آلہ کار بنتے رہے۔ یہ اکبر بگتی ہی تھے جو سردار عطا للہ مینگل کی پہلی بلوچ قوم پرست جمہوری حکومت کو گرانے میں پیش پیش تھے اور آج کی مزاحمتی تحریک کے ایک ہیرو بھی۔

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے بڑے کمانڈر میر ہزار خان بجارانی جو بلوچ انقلابی رہنما شیر محمد مری کے ذیلی قبیلے سے تھے افغانستان سے واپس آ کر جنرل ضیا الحق سے مل گئے تھے۔ اسی طرح کا دوہرا کردار ہم گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے دیکھتے ہیں، جیسے جلاوطن بلوچ رہنما براہمداخ بگٹی بلوچستان ریپبلکن آرمی کی قیادت کر رہا ہے تو سینیٹر سرفراز بگٹی حکومت کا اتحادی ہے۔

حیر بیار مری کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی کی قیادت کرر ہا ہے تو چنگیز مری کھل کر مزاحمت کے خلاف بات کرتا نظر آتا ہے۔ جاوید مینگل اگر کالعدم لشکر بلوچستان کے ذریعے کارروائیاں کرر ہا ہے تو اختر مینگل باپ پارٹی کے بزنجو گروپ سے معاہدہ کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ دوسری طرف ڈاکٹر اللہ نذر بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے متحرک ہے۔

امتیاز عالم کہتے ہیں کہ بلوچستان میں جاری مسلح جدوجہد کو کچلنا مشکل ہے۔بلوچوں کی طویل مزاحمت کے بعد یہ خام خیالی دور ہو جانی چاہیے کہ انہیں بزور طاقت کچلا جاسکتا ہے۔ لیکن بلوچ مزاحمت پسندوں کو بھی یہ جان لینا چاہیے کہ وہ ایک مرکوز و مجتمع مزاحمت نہیں بن سکتے۔

نوآبادیاتی روایت کے مطابق پاکستان کی جدید نوآبادیاتی مقتدرہ کی طویل عرصے سے یہ حکمت عملی رہی ہے کہ سرداروں اور جاگیرداروں کے ایک کا سہ لیس حصے پر مشتمل ڈمی حکومتیں بنوائی جائیں اور ان کے ذریعے بلوچستان کے معدنی ذرائع اور جغرافیائی محل وقوع کا استحصال کیا جائے اور اگر بلوچ مزاحمت کریں تو انہیں غدار قرار دے کر ریاستی تشدد کا نشانہ بنا کر دبانے کی کوشش کی جائے۔

بار بار یہ نسخہ آزمایا جاتا رہا ہے اور ہر بار بری طرح سے ناکام رہا ہے۔ اب بھی وفاقی سیاست کرنے والی قوم پرست جمہوری جماعتوں کو تنہا کر کے اور ابن الوقتوں پر مشتمل لوٹوں کی بلوچستان عوامی پارٹی بنوا کر اور انتخابات میں بدترین دھاندلی کر کے ایک جعلی حکومت بنوائی گئی ہے۔

مزاحمتی قوم پرست گروپوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ وفاقیت پسند قوم پرستوں کو جہاں تنہا کیا گیا ہے، وہاں متشدد قوم پرست انہیں اسلام آباد کا ایجنٹ قرار دے کر قابل گردن زدنی قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ عبد القدوس بزنجو سرکارنہ تو اچھی حکومت دے سکتی ہے نہ رائے عامہ اور عوام کی حمایت حاصل کر سکتی ہے۔

جس کے باعث ایک طرف نہ تو سی پیک منصوبے میں بلوچ عوام کی اونرشپ پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی گوادر پورٹ محفوظ رہتی ہے۔ بقول امتیاز ایسے میں ساری ذمہ داری فوج پر آن پڑتی ہے اور وہ تنقید کا نشانہ بنتی ہے جس سے ملک کی خود مختاری پر آنچ پڑتی ہے۔ لہذا اس سلسلے کو اب بند کرنا ہو گا اور ماضی کی قومی جبر کی پالیسیوں کو ترک کرنا ہو گا۔

Related Articles

Back to top button