عمران بھی شہباز حکومت کی نیب ترامیم کے حامی نکلے

چودھری پرویزالٰہی کے صاحبزادے اور مسلم لیگ قاف کے رہنما مونس الٰہی نے کہا ہے کہ موجودہ مخلوط حکومت نے نیب قوانین میں جو ترامیم کی ہیں عمران خان بھی ان کی حمایتی ہیں بلکہ وہ اپنے دور میں خود بھی ایسی ترامیم لانا چاہتے تھے۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے مونس الٰہی نے کہا کہ میری نظر میں نیب ترمیم بل کا وہ حصہ اچھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کو اپنے لگائے ہوئے الزام کو ثابت کرنا ہو گا۔

امریکہ مخالف نوم چومسکی نے عمران کا سازشی بیانیہ رد کر دیا

یاد رہے کہ پہلے نیب کے ہاتھوں کرپشن الزامات میں گرفتار ہونے والے کو اپنی بے گناہی ثابت کرنا ہوتی تھی لیکن اب یہ کام نیب کو کرنا ہو گا اور اپنا لگایا گیا الزام ثابت کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جس نے بھی نیب بھگتی ہے وہ اس بات پر راضی ہوگا کہ کرپشن الزامات پر گرفتاری کے بعد 90 دن کا ریمانڈ ختم کیا جائے، انہوں نے کہا کہ آپ 60 دن کسی کو اندر رکھو، اس نے کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہو وہ ڈانواں ڈول ہو جاتا ہے۔

مونس الٰہی نے کہا کہ نیب کے ڈریکونین اختیارات کو کم کرنا اچھا اقدام ہے بلکہ یہ تبدیلیاں عمران خان ہی لیکر آئے تھے اور انہوں نے نیب قوانین بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی اور میرے خیال میں اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔

سینئر صحافی حامد میر نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انکے پروگرام میں خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے چار سال میں چار دفعہ نیب قوانین پر ہم سے بات چیت کی، پی ٹی آئی خود نیب میں ترامیم کرنا چاہتی تھی، ہم نے جو ترامیم کی یہ وہی ہیں جو یہ چاہتے تھے، نیب قانون میں ترامیم کی بنیاد سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ یہ جو الزام لگاتے ہیں کہ ہم 35 ترامیم کی بات کرتے تھے، انہوں نے ہمیں کہا تھا کہ 7 یا ساڑھے 6 ترامیم کروا لیں۔ یہ جو ترامیم ہوئی ہیں یہ وہی ہیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں اصول ہے کہ الزام لگانے والے کو الزام ثابت کرنا ہوتا ہے، جھوٹے الزام پر کذب کی سزا ہوتی ہے۔

Related Articles

Back to top button