عمران نے ناکام لانگ مارچ کا الزام ساتھیوں پر ڈال دیا

پارٹی قائدین کی جانب سے منع کرنے کے باوجود دو دن کے نوٹس پر لانگ مارچ کا فیصلہ کرنے والے عمران خان نے 25 مئی کو لوگ اکٹھا کرنے اور اسلام آباد میں دھرنا دینے میں ناکامی کا مدعا اپنے ساتھیوں پر ڈالتے ہوئے ان کے خلاف انضباطی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تحریک انصاف پنجاب اور خیبرپختونخوا کی قیادت خصوصا ًشاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک نے عمران کو گرمی کے موسم میں لانگ مارچ نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن موصوف اپنی ضد پر اڑے رہے اور 25 مئی کی کال دے دی جو ناکام رہی اور اتنے لوگ بھی اکٹھے نہ ہو پائے کہ عمران اسلام آباد میں دھرنا دینے کے قابل ہوتے ہیں۔

عمران خان اپنے لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد اسلام آباد سے دوبارہ پشاور پہنچ جا چکے ہیں اور اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بھی وہی بلا لیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے 25 مئی کے لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد حکومت کو 6 روز کی جو ڈیڈ لائن دی ہے اس کے خاتمے کے بعد وہ اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان بھی پشاور سے ہی کریں گے جہاں ان کی پارٹی کی حکومت ہے اور وہ دل کھول کر حکومتی وسائل استعمال کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں عمران خان کو وفاقی حکومت کی جانب سے گرفتار کیے جانے کا بھی خدشہ ہے لہٰذا انہوں نے اگلے لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کرنے تک خیبر پختونخوا میں ہی پناہ گزین ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپنے ناکام لانگ مارچ کے بعد عمران خان اس بات کو تسلیم کرچکے ہیں کہ 25 مئی کو ان کی جماعت مطلوبہ تعداد میں عوام کو نکالنے میں ناکام رہی جس وجہ سے اسلام آباد میں دھرنا نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم اب اپنی ناکامی کا مدعا عمران خان نے پی ٹی آئی پنجاب کے صدر شفقت محمود پر ڈالتے ہوئے ان کے خلاف انضباطی کارروائی کر دی ہے اور انہیں غیر فعال کر دیا ہے۔ عمران خان نے شفقت محمود کی ذمہ داریاں شاہ محمود قریشی کو سونپتے ہوئے اگلے لانگ مارچ کے لئے پنجاب سے بندے اکٹھے کرنے کا ٹاسک انہیں سونپ دیا ہے۔ دوسری جانب شفقت محمود کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پنجاب سے کسی شخص پر سب سے زیادہ بندے لانے کی ذمہ داری ڈالی جانی چاہیے تھی تو وہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار تھے جنہوں نے چار برس بلاشرکت غیرے اقتدار کے مزے لوٹے لیکن حکومت کے خاتمے کے بعد منظر سے غائب ہو گئے ہیں۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کا 25 مئی کی صبح پشاور سے شروع ہونے والا لانگ مارچ 26 مئی کو اسلام آباد پہنچ کر ختم ہوا تو لانگ مارچ دھرنے میں تبدیل نہ ہونے پر کارکنان کو حیرت کے ساتھ شدید مایوسی بھی ہوئی۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ لانگ مارچ ختم کرنے پر کارکن مایوس ہیں، لیکن بقول ان کے انہوں نے یہ مارچ کسی ڈیل کے تحت نہیں بلکہ انتشار سے بچنے کے لیے ختم کرنے کا اعلان کیا اور وہ چھ روز بعد مکمل تیاری کے ساتھ دوبارہ آئیں گے۔ عمران کی جانب سے مکمل تیاری کے ساتھ دوبارہ اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا اعلان سامنے آنے کے بعد پارٹی کے حمایتی اور ناقدین بھی یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا 25 مئی کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کرنے سے قبل کوئی تیاری نہیں کی گئی تھی؟ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی تحریک انصاف کی سینئر قیادت پر بھی سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ لانگ مارچ کے دوران سینئر قیادت کہاں تھی؟ تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر اور خیبر پختونخوا کے صدر پرویز خٹک لانگ مارچ میں عمران کے ہمراہ موجود تھے اور پشاور سے آنے والے قافلے کے ہمراہ ہی وہ اسلام آباد پہنچے۔

پی ٹی آئی وسطی پنجاب کے صدر شفقت محمود لاہور سے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے قافلے کی صورت میں نکلے، لیکن وہ اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔ ان کے حوالے سے اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ وہ 25 مئی کی شام کو ہی واپس لاہور چلے گئے تھے۔ اس سے پہلے انہوں نے گوجرانوالہ میں قیام کیا اور وہاں شہباز کے تکے کھانے کے بعد تین گھنٹے نیند کے مزے لیے۔ یہ بات عمران کے علم میں آئی تو انہوں نے شفقت محمود کو بطور صدر پنجاب پی ٹی آئی غیر فعال کرنے کا فیصلہ کیا۔ لانگ مارچ میں شفقت محمود کی موجودگی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی بحث جاری ہے۔ صحافی اور اینکر علی ممتاز نے اس حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’شفقت محمود صاحب کل کامونکی پہنچ کر ایک گھر میں جا کر بیٹھ گئے جہاں انہوں نے پُرتکلف کھانا کھایا، پھر تین گھنٹے کمرہ بند کر کے آرام کیا۔ یہ اطلاع ملنے پر کہ حماد اظہر اور اعجاز چوہدری کامونکی کراس کرگئے ہیں، شفقت محمود لاہور واپس روانہ ہوگئے۔ کہیں گے تو میں انکے کھانے کا مینیو بھی بتا دوں۔‘

انہوں نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں شفقت محمودکے اعزاز میں ہونے والی دعوت کی ویڈیو بھی ٹویٹ کی، تاہم شفقت محمود کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ شفقت محمود تحریک انصاف وسطی پنجاب کے صدر ہیں اور گذشتہ حکومت میں وفاقی کابینہ کا حصہ رہے ہیں۔ اسکے علاوہ پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کے صدر خسرو بختیار لانگ مارچ میں شریک ہی نہیں ہوئے۔ ان کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ وہ چھٹیاں گزارنے بیرون ملک گئے ہیں۔ تاہم تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کے مطابق خسرو بختیار پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور عمران خان کو بھی اس حوالے سے علم ہو چکا ہے لہذا آج کل وہ ان کے خلاف گفتگو کر رہے ہیں۔

عمران خان کے ناکام لانگ مارچ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف نے ٹوئٹر پر لکھا کہ خان صاحب کے پاس تو 53 رکنی کابینہ، 135 ایم این اے اور سینکڑوں ایم پی ایز تھے، لیکن 25 مئی کو میدان میں لڑنے والے صرف 25 ہی نظر آئے۔ بلوچستان پی ٹی آئی کے صدر قاسم سوری بھی عمران خان کے ہمراہ کنٹینر پر نظر آئے اور انہوں نے لانگ مارچ میں شرکت عمران کی قیادت میں پشاور سے آنے والے قافلے میں ہی کی۔ تحریک انصاف سندھ کے صدر علی زیدی نےکراچی میں احتجاج کی قیادت کی اور کارکنوں کے درمیان کراچی کی سڑکوں پر نظر آئے، تاہم وہ بڑی تعداد میں کارکنان کو باہر نکالنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

تحریک انصاف کی پنجاب اور سندھ کی قیادت لانگ مارچ سے تین روز قبل ہی محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئی تھی جس کی وجہ سے کارکنان سے رابطے اور عوام کو باہر نکالنے میں دشواری کا سامنا رہا۔

شاہ محمود قریشی تحریک انصاف میں سینئر ترین رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے بھی لانگ مارچ سے قبل اپنا پڑاؤ اپنے حلقے ملتان کے بجائے پشاور میں ڈال دیا تھا اور عمران خان کے ہمراہ ہی لانگ مارچ کے قافلے میں شامل رہے۔ تحریک انصاف کی کابینہ میں وفاقی وزیر رہنے والے اور پارٹی کے متحرک رکن فواد چوہدری لانگ مارچ کا قافلہ لے کر جہلم سے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوئے تھے، لیکن وہ بھی جہلم پل پر لگائی گئی رکاوٹوں کو عبور نہ کرسکے۔ سوشل میڈیا پر ان کی جہلم میں فوٹیج بھی منظرعام پر آئی جس پر تحریک انصاف کے حمایتی اور مخالفین دونوں ہی انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

تحریک انصاف کی جانب سے معیشت پر فوکل پرسن اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر لاہور سے کارکنان کے ہمراہ اسلام آباد کی طرف روانہ ہوئے۔ انہیں لاہور کی سڑکوں پر پولیس کی جانب سے شیلنگ کا سامنے کرتے اور رکاوٹیں ہٹاتے بھی دیکھا گیا۔ پولیس کی جانب سے انہیں گرفتار کرنے کی بھی کوشش کی گئی تھی اور وہ شیلنگ کی زد میں آکر زخمی بھی ہوئے۔ لانگ مارچ سے قبل ہی حماد اظہر کے گھر پر پولیس نے چھاپے مارے، تاہم وہ محفوظ مقام پر منتقل ہوگئے تھے۔

25 مئی کو لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو لاہور کے بتی چوک پر کارکنان اور پولیس کے درمیان کشیدگی شروع ہوئی۔ لاہور سے تحریک انصاف کی ریلی کی قیادت کرتے ہوئے یاسمین راشد سب سے پہلے منظر عام پر آئیں۔ یاسمین راشد کی گاڑی کو پولیس کی جانب سے روکنے کی ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر بھی وائرل رہیں۔ پولیس نے یاسمین راشد اور عندلیب عباس کو گرفتار بھی کیا، تاہم کچھ ہی دیر بعد انہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔ عمران خان کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان اور سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے عثمان ڈار نے بھی لانگ مارچ میں شرکت عمران خان کے قافلے کے ہمراہ مردان سے ہی کی۔ اور مرکزی قافلے کے ہمراہ وہ ڈی چوک اسلام آباد پہنچے۔عثمان ڈار کا تعلق سیالکوٹ سے ہے اور خواجہ آصف کے مقابلے میں تحریک انصاف کے امیدوار رہے ہیں۔

شیخ رشید احمد تحریک انصاف کے رکن تو نہیں، لیکن اہم اتحادی ضرور ہیں اور انہوں نے لانگ مارچ میں بھرپور طریقے سے شرکت کرنے کے لیے لال حویلی راولپنڈی سے ریلی نکالنے کا اعلان بھی کیا تھا، تاہم وہ ریلی نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ شیخ رشید احمد 25 مئی کو لال حویلی پہنچنے پر مختصر خطاب کیا اور پھر نامعلوم مقام کی طرف روانہ ہوگئے۔ اس دوران پولیس کی جانب سے کارکنوں پر مری روڈ اور فیض آباد کے مقام پر شدید شیلنگ جاری رہی۔
تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈا پور ڈی آئی خان سے ریلی کے ہمراہ لانگ مارچ میں شریک ہوئے اور ڈی چوک پہنچنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ وہ ڈی آئی خان سے براستہ موٹروے کارکنان کے ساتھ اسلام آباد پہنچے۔

عمر ایوب سابقہ حکومت میں تحریک انصاف کی کابینہ کا حصہ ضرور رہے ہیں، لیکن انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر میں متعدد پارٹیاں تبدیل کی ہیں۔ تاہم لانگ مارچ کے دوران انہوں نے اپنے حلقے ہری پور سے ایک بڑے قافلے کی صورت میں شرکت کی بلکہ کارکنان کے ہمراہ رکاوٹیں بھی دور کرتے رہے اور اسی دوران پولیس کی جانب سے ان پر شدید لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔ وفاقی کابینہ میں شامل رہنے والی رزتاج گل ڈی چوک میں موجود رہیں اور آنسو گیس کی شیلنگ کے باعث ان کی حالت بھی غیر ہوگئی تھی۔ 25 مئی کو رات گئے تک زرتاج گل کے ہمراہ تحریک انصاف کی خواتین رہنما بھی موجود رہیں۔

تحریک انصاف نے وزیر اعظم کے انتخاب کا بائیکاٹ کر دیا

وفاقی کابینہ میں شامل رہنے والے علی نواز اعوان اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی ہیں۔ 25 مئی کو ڈی چوک پہنچنے والے سب سے پہلے تحریک انصاف کے رہنما علی نواز اعوان تھے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ اپنے پہلے لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد عمران خان دوسرے لانگ مارچ کو کامیاب بنانے کے لیے کیا حکمت عملی طے کرتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button