عمران نے اسمبلیاں توڑ کر اپنی سیاسی قبر کیسے کھودی؟

ایک جانب پاکستان شدید ترین معاشی بحران کا شکار ہوکر دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہے تو دوسری جانب کراچی سے خیبر پختونخواہ تک ایک سیاسی سرکس چل رہا ہے، عمران خان نے خیبر پختونخواہ اور پنجاب اسمبلی توڑ کر نہ صرف اپنی بلکہ ملک کی بھی قبر کھودنے کی کوسش کی۔ دوسری جانب پی ڈی ایم حکومت نے اپوزیشن کے استعفے منظور کر کے مردے کو نہلانا شروع کر دیا۔ پنجاب میں نگران وزیراعلیٰ کے انتخاب نے بھی کھڑکیاں توڑنا شروع کر دی ہیں، ایسے میں ملک خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن پاکستانی معیشت سنبھالنے کے جانب کسی کی توجہ نظر نہیں آتی۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ محسن نقوی چوہدری برادران کے رشتے دار ہیں‘ وہ چوہدری پرویز الٰہی کی بھانجی کے شوہر ہیں لیکن موصوف انہیں نگران وزیراعلیٰ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، پی ٹی آئی دعوے کر رہی ہے کہ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کی سازش محسن نقوی کے گھر تیار ہوئی تھی، شہباز شریف اور آصف علی زرداری ان کے گھر ایک دوسرے سے ملاقات کرتے تھے اورنقوی صاحب ان کے پیغامات جنرل باجوہ کو پہنچاتے تھے۔ پی ڈی ایم اور چوہدری برادران کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی محسن نقوی کے گھر سے سٹارٹ ہوا تھا اور ان ملاقاتوں کے نتیجے میں ق لیگ نے پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا چناںچہ پی ٹی آئی بھی انھیں ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر یہ لوگ محسن نقوی کو نہیں مانتے تو پھر پنجاب میں نگران حکومت نگرانی کیسے کرے گی اور یہ الیکشن کیسے کرائے گی؟

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ دوسری جانب ملک میں مردم شماری بھی شروع ہو چکی ہے جو 30 ستمبر کو مکمل ہوگی۔ الیکشن کمیشن مردم شماری کے بعد 4 مہینوں میں نئی حلقہ بندیاں کرے گا اور یوں اگست میں ملک نئے الیکشن کے قابل ہو گا‘ اب سوال یہ ہے کیا دو صوبوں میں پرانی مردم شماری اور پرانے حلقوں کے تحت الیکشن ہوں گے اور باقی دو صوبوں اور وفاق کے الیکشن نئی حلقہ بندیوں کے مطابق ہوں گے؟ تیسرا‘ کیا ملک میں اپریل میں کے پی اور پنجاب کے الیکشن ہوں گے اور پھر اکتوبر میں سندھ‘ بلوچستان اور وفاق کے الیکشن اور کیا۔ اس دوران عمران خان قومی اسمبلی کے 70 حلقوں سے ضمنی الیکشن بھی لڑیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ 70 سیٹیں جیت کر بھی قومی اسمبلی نہیں جائیں گے اور کیا 70 سیٹوں کے یہ ضمنی الیکشن بھی ضائع ہو جائیں گے اور اگر ایسا ہوگا تو کیا حکومت الیکشن‘ الیکشن کھیلے گی یایہ پٹرول‘ بجلی‘ گیس‘ خوراک اور برآمدات کا بندوبست کرے گی؟ سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ ہماری حالت یہ ہے ہم آئی ایم ایف کے بغیر نہیں بچ سکتے لیکن آئی ایم ایف کی شرائط کے بعد بجلی‘ گیس اور پٹرول کی قیمتیں بھی دگنی ہو جائیں گی اور بے روزگاری کے شکار عوام پر ٹیکس بھی بڑھ جائیں گے۔

یوں مہنگائی ایک المیے کی شکل اختیار کر جائے گی، آئی ایم ایف کی شرائط ماننے سے ملک میں ڈیڑھ کروڑ لوگ بے روزگار ہو جائیں گے اور لوگوں کا کھانا پینا تین سے ایک ٹائم پر آ جائے گا‘ ہمارے دوست ملک سعودی عرب‘ یو اے ای اور چین بھی ہماری مدد کر کر کے تھک چکے ہیں۔ ہمیں ان کی طرف سے بھی صاف انکار ہو چکا ہے اور امریکا مدت پہلے ہم سے منہ موڑ چکا ہے چناں چہ اب ہمارے پاس بیچنے کے لیے صرف دو اثاثے بچے ہیں‘ ایٹم بم اور فوج‘ ہم اگر بین الاقوامی طاقتوں کی شرائط مانتے رہے‘ ہم اگر اسی طرح قرضے لیتے رہے تو پھر ہمیں بالآخر ان کی یہ دونوںشرائط ماننا پڑیں گی۔ ہمیں ایٹمی پروگرام سرینڈر کرنا پڑے گا اور فوج کی تعداد کم کرنا ہو گی اور ان دونوں شرائط کی اپنی قیمت ہے‘ ہم اس کے بعد کشمیر بھی واپس نہیں لے سکیں گے اور سری لنکا‘ نیپال اور بھوٹان بن کر رہ جائیں گے۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہم یہاں فرض کر لیتے ہیں آرمی چیف جنرل عاصم منیر آئی ایم ایف‘ ورلڈ بینک‘ سعودی عرب اور چین کو منا لیتے ہیں اور یہ ملک آخری بار ہماری مدد کر دیتے ہیں تو کیا یہ رقم بھی الیکشنز اور اس سیاسی بحران کا لقمہ نہیں بن جائے گی اور کیا ہم اگلے سال آج سے بھی زیادہ بدتر پوزیشن میں نہیں ہوں گے، چناں چہ اب سوال یہ ہے اس صورت حال کا آخر حل کیا ہے؟ اس کا صرف اور صرف ایک ہی حل ہے۔

جاوید چوہدری تجویز دیتے ہیں کہ فوج ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کو اکٹھا بٹھائے‘ اپنی غلطیاں تسلیم کرے‘ معذرت کرے‘ سیاست دانوں کو ان کی غلطیاں بتائے اور پھر ایک چارٹر آف پاکستان سائن کرائے اور اس کے بعد بحرانوں کا باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے‘ ہم فیصلہ کر لیں ملک میں آج کے بعد کسی آرمی چیف کی ایکسٹینشن نہیں ہو گی‘ چیف جسٹس آف پاکستان کی طرح سینئر موسٹ جنرل اپنے وقت پر آرمی چیف بن جائے گا اور یہ اختیار آج کے بعد کسی وزیراعظم کے پاس نہیں ہو گا۔

آرمی چیف اپنے وقت پر ریٹائر بھی ہو جائے گا اور ملک کا کوئی عہدیدار اس کی مدت میں اضافہ نہیں کر سکے گا‘ حکومتیں خواہ بدلتی رہیں لیکن اسمبلیاں ہر صورت اپنی مدت پوری کریں گی‘ الیکشن کمیشن سو فیصد آزاد اور خود مختار ہو گا‘ اور الیکشن کمشنر کا فیصلہ بھی سو فیصد میرٹ اور خودکار نظام کے تحت ہو گا۔ ٹیکس پالیسی 20 سال کے لیے بنائی جائے گی اور اس میں کوئی ردوبدل نہیں کیا جائے گا تاکہ سرمایہ کار اس کے مطابق سرمایہ کاری کر سکیں‘ مذہب عوام کا ذاتی معاملہ ہو گا اور کوئی شخص کسی بھی شخص کو مذہبی بنیاد پر ہدف نہیں بنا سکے گا‘ مذہبی جلسوں اور جلوسوں پر پابندی لگا دی جائے‘ لاؤڈ اسپیکر کی آواز صرف مسجد کے اندر تک رہے گی۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ یہ بھی طے کیا جانا چاہیے کہ نماز کا وقت پورے ملک میں ایک ہو گا‘ اذان قومی سطح پر ہو گی اور ایک ہی وقت ہو گی‘ بچوں کا نصاب پورے ملک کے لیے ایک ہو گا‘ سڑکیں ہر صورت کھلی رہیں گی‘ آبادی کنٹرول کی جائے گی‘ بیوروکریسی میں دو سال کے اندر ریفارمز کی جائیں گی اور پورا سسٹم آن لائین اور آسان کر دیا جائے گا‘ پی آئی اے‘ ریلوے‘ ریڈیو‘ پی ٹی وی اور اسٹیل مل جیسے ادارے سالانہ 1400 ارب روپے نگل جاتے ہیں۔ یہ ایک سال کے اندر فروخت کر دیے جائیں گے اور ان سے حاصل ہونے والی رقم ملازمین میں تقسیم کر دی جائے گی اور آخری فیصلہ ہم ہر صورت ہر سال 200 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کریں گے اور اس کے لیے سالڈ اور فول پروف سسٹم بنائیں گے اگر ہالینڈ جیسا ملک صرف پھول یا کولمبیا صرف کافی بیچ کر اپنے قدموں پر کھڑا ہو سکتا ہے تو ہم یہ کیوں نہیں کر سکتے؟ سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ ہم نے اگر یہ فیصلے کر لیے تو ہم بچ جائیں گے ورنہ کنفیوژن کا یہ بحران اس ملک کو کھا جائے گا اور ہم اس سال کے آخر تک خانہ جنگی کا شکار ہو چکے ہوں گے۔

فواد چوہدری کے بھائی فراز کی ضمانت منظور، رہا کرنے کا حکم

Related Articles

Back to top button