عمران کے فوج مخالف بیانیے میں نرمی کی اصل وجہ کیا ہے؟

عمران خان کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتوں کی اطلاعات کے بعد پی ٹی آئی سربراہ کا فوجی اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ نرم پڑنا شروع ہو گیا ہے اور انہوں نے فوج کے لئے نیوٹرل، جانور، میر جعفر، میر صادق اور مسٹر ایکس اور مسٹر وائے جیسے القابات استعمال کرنا بھی چھوڑ دیئے ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عمران خان کے بیانیے میں آنے والی تبدیلی ان کے فوجی قیادت سے تعلقات میں بہتری کا شاخسانہ ہے لیکن دوسری جانب کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عمران نے اپنے خلاف زیر سماعت مختلف کیسوں میں نااہلی کے خدشات کے پیش نظر وقتی طور پر اچھا بچہ بننے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اگر انہیں یہ شک بھی پڑ گیا کہ ان کے ساتھ رعایت نہیں کی جائے گی تو وہ ایک مرتبہ پھر مولا جٹ بنتے ہوئے گنڈاسا لے کر میدان میں نکل آئیں گے اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کا رگڑا نکالنا شروع کر دیں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا اتفاق ہے کہ حالیہ دنوں آرمی چیف اور عمران خان کے مابین ملاقاتوں کی خبریں سامنے آنے کے بعد سابق وزیراعظم کے لب و لہجے میں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے، ماضی میں عمران کے خطاب میں اکثر ’نیوٹرلز‘ کا ذکر ہوتا تھا اور انہیں امپورٹڈ حکومت کے سر سے ہاتھ اٹھانے کے لیے کہا جاتا تھا لیکن اب خان صاحب کا سارس فوکس مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں بن چکی ہیں، اب پی ٹی آئی چیئرمین کے نشانے پر فوجی اسٹیبلشمنٹ نہیں رہی بلکہ حکومت آ چکی ہے، اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ عوامی جلسوں میں کی گئی تقاریر کا جائزہ لیں تو عمران نے اپنے خطاب میں لفظ ’نیوٹرلز‘ کئی ہفتوں سے استعمال نہیں کیا، اب اگر انہوں نے فوج کا تذکرہ کرنا بھی ہو تو اس کے لیے وہ اپنے خطاب میں طاقتور حلقوں جیسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج کا اعلان

یاد رہے کہ عمران خان کے سرگودھا جلسے کے بعد ان کے انداز بیان میں تبدیلی دیکھنے کو ملی، بتایا جاتا ہے کہ اس جلسے کے بعد ان کی ایوان صدر میں عارف علوی کی موجودگی میں آرمی چیف کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات ہوئی اور پھر انہوں نے اپنا بیانیہ بدل لیا۔ یکم ستمبر کو سرگودھا جلسے میں عمران نے کہا تھا کہ ‘بند کمرے میں فیصلے کیے جا رہے ہیں کہ مجھے ناک آؤٹ کیا جائے، لیکن میں نے ایک ویڈیو ریکارڈ کر رکھی ہے جس میں چار لوگوں کے نام ہیں اگر مجھے کچھ ہوا تو قوم ان کو معاف نہیں کرے گی۔ لیکن سرگودھا جلسے کے بعد عمران نے گجرات، بہاولنگر، فیصل آباد، پشاور، بہاولپور، ملتان اور گجرانوالہ میں جلسے کیے تاہم ان میں انکی جانب سے ہدف تنقید اسٹیبلشمنٹ کے بجائے حکومت اور ان کے سیاسی حریف رہے ہیں پھر عمران نے 4 ستمبر کو فیصل آباد جلسے میں آرمی چیف کی تقرری سے متعلق ذکر کرتے ہوئے کہا لہ ’آرمی چیف کی تقرری میرٹ پر ہونی چاہئے، کسی کا پسند کا آرمی چیف نہیں ہونا چاہئے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نواز شریف اور آصف زرداری کو نیا آرمی چیف لگانے کی اجازت نہیں دوں گا، اس خطاب پر فوج کے ترجمان ادارے کی جانب سے رد عمل سامنے آنے کے بعد عمران نے پشاور جلسے میں وضاحت پیش کی اور کہا کہ فوج بھی میری اور ملک بھی میرا، میں فوج پر تنقید اصلاح کے لیے کرتا ہوں۔
سابق وزیراعظم اس سے قبل آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق سوال کے جواب پر معاملے کو وزیراعظم کے اختیار کو قرار دیتے رہے لیکن 12 ستمبر کو نجی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران انہوں نے ایک ایسا فارمولا پیش کیا جس میں انہوں نے اس تعیناتی کو انتخابات تک موخر کرنے کا اشارہ دیا، انہوں نے یہ تجویز بھی دے دیں کہ نیا آرمی چیف اگلے الیکشن کے بعد نئی حکومت کو تعینات کرنے کا موقع دینا چاہئے، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران کی جانب سے اس تجویز کا بنیادی مقصد بھی جنرل باجوہ کو رام کرنا ہے کیونکہ توسیع کی تجویز کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر بارگیننگ پوزیشن میں آ گے ہیں۔
16 ستمبر کو عمران نے اپنی تقریر میں اسٹیبلشمنٹ کو یکسر بھلا کر صرف حکومت پر تنقید کی اور اپنے دور اور۔موجودہ دور کی مہنگائی کا موازنہ کیا۔ اس خطاب کو تقریبا تمام ٹی وی چینلز نے نشر کیا حالانکہ ماضی میں جب وہ فوج کے خلاف بولا کرتے تھے تو تمام ٹی وی چینلز ان کی تقریر کا مکمل بلیک آؤٹ کرتے تھے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق عمران خان کا لب و لہجہ اسٹیبلشمنٹ سے ہونی والے بیک ڈور رابطوں کے بعد بدلا۔ہے۔ تجزیہ نگار حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ عمران اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔ پہلے وہ حکومت جانے کے بعد سے کسی پر اعتبار نہیں کر رہے تھے لیکن اب ان کو احساس ہو گیا ہے کہ اگر آئندہ پاور لینی ہے تو معاملات ٹھیک کئے بغیر گزارہ نہیں۔ حبیب اکرم کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کے اندر بھی یہ احساس جاگ اٹھا ہے کہ عمران پر دباؤ ڈال کر کام نہیں چل سکتا، اس لیے دونوں طرف سے نرمی آئی ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ نگار مجیب الرحمن شامی کہتے ہیں کہ شنید تو یہی ہے کہ صدر مملکت عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطوں کا کردار ادا کر رہے ہیں اور بھی بہت سے لوگ ہیں۔ لیکن عمران کا موڈ کس وقت تبدیل ہو جائے اس کا بھی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ شامی سمجھتے ہیں کہ عمران کو اب ریلیف ملتا نظر آرہا ہے اور جو ان کے خلاف بڑھتے قدم تھے وہ اب رکے ضرور ہیں لیکن تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچے۔ حالات کا تقاضہ بھی یہی ہے محاذ آرائی نہیں ہونی چاہیے۔ مجیب الرحمن شامی کے بقول عمران لانگ مارچ کی کال نہیں دیں گے۔ یہ صرف دباؤ ڈالنے کا طریقہ کار ہے اگر وہ باہر نکلیں بھی تو اس کا فائدہ فی الوقت ان کو نہیں ہو گا کیونکہ اگر 25 مئی کی طرح ان کی لانگ مارچ کی کال پھر ناکام ہوگئی تو وہ سیاسی طور پر کمزور تر ہو جائیں گے۔

Related Articles

Back to top button