کیا عمران کا چار گولیاں لگنے کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے؟

وزیر آباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملے کے بعد سے ان کے سیاسی مخالفین مسلسل یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ انہیں ایک بھی گولی نہیں لگی اور ان کی جانب سے ایک ہی ٹانگ میں چار گولیاں لگنے کا دعوی ٰجھوٹ پر مبنی ہے؟ وزیراعظم شہباز شریف سے لے کر وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب تک یہی سوال کیا گیاہے کہ آخر عمران کی ٹانگوں میں کتنی گولیاں لگی ہیں، کیونکہ کبھی ایک گولی لگنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، کبھی دو کا، کبھی تین گولیوں کا اور کبھی چار کا دعوی ٰسامنے آتا ہے۔

عمران کو لگنے والی گولیوں کی تعداد کے متضاد دعوئوں کے پیش نظر حکومت کی جانب سے عمران خان کے چار گولیوں کے دعوے کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’عمران خان ایک جھوٹے انسان ہیں، وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ میں قسم اٹھا کر کہہ سکتا ہوں کہ انہیں چار گولیاں نہیں لگیں، کوئی آزاد میڈیکل بورڈ بیٹھے تو ان کا جھوٹ پکڑا جائے گا۔ ہو سکتا ہے کیوں نہیں ایک بھی گولی نہ لگی ہو۔ وزیر داخلہ نے کہا: ’ہم نے پہلے ہی کہا ہے کہ اس واقعے پر جے آئی ٹی بننی چاہیے، جس میں تمام ایجنسیز کے سینئر اراکین ہوں اور واقعے کی صاف و شفاف انکوائری کی جائے۔‘

عمران خان پر قاتلانہ حملے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ سے گولیوں کے 11 خول ملے ہیں جن میں سے دو خول بندوق کے اور 9 خول پستول کی گولیوں کے ہیں۔ پستول کی گولیاں حملہ آور نوید احمد نے چلائی تھیں جب کہ بندوق والی گولیاں عمران کے گارڈز نے چلائیں۔

حملے میں عمران خان کو لگنے والی گولیوں کی تعداد سے متعلق اب تک سرکاری طور پر کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں۔ البتہ تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے متضاد دعوے کیے ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے جمعے کی صبح شوکت خانم اسپتال کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کی ٹانگ میں دو گولیاں لگی ہیں اور ان کا میڈیکو لیگل کر لیا گیا ہے۔ اس سے قبل شوکت خانم اسپتال کے چیف ایگزیکٹو افسر اور عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان نے جمعرات کی شب میڈیا بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ چیئرمین تحریکِ انصاف کا مکمل معائنہ کیا گیا جس کے مطابق انہیں گولیوں کے ٹکڑے لگے ہیں اور ان کی دائیں ٹانگ کی گھنٹے کے نیچے والی ہڈی دبی ہوئی ہے۔

عمران خان کو لگنے والی گولیوں کی تعداد بارے سوال پر فیصل سلطان نے کہا تھا کہ عمران کو مختلف مقامات پر چوٹیں آئیں ہیں اور اس حوالے سے بعد میں تفصیلی بیان جاری کیا جائے گا۔ تاہم شوکت خانم ہسپتال میں عمران کی موجودگی میں اسی فیصل سلطان نے یہ نیا دعویٰ کردیا کہ عمران کو چار گولیاں لگی ہیں۔ بعد میں عمران نے بھی یہی دعویٰ کیا کہ ان کی ٹانگ میں چار گولیاں لگی ہیں۔ اس کے بعد کپتان کی ہدایت پر شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو اور عمران کابینہ کے سابق مشیر صحت فیصل سلطان نے کچھ ایکسرے رپورٹس دکھائیں جن میں دو تین مقامات پر گولیاں تو نہیں لیکن کچھ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے دکھائی دے رہے تھے۔ تاہم فیصل سلطان نے کہا کہ ’عمران خان کی دائیں ٹانگ میں دو گولیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ٹانگ کے نچلے حصے پر مزید دو گولیوں کے ٹکڑے نظر آ رہے ہیں، ان میں سے ایک گولی کے حصے نے ’ٹبیا‘ ہڈی کو نقصان پہنچایا ہے جس وجہ سےفریکچر ہوا ہے یعنی ہڈی کا ٹکڑا اکھڑ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹانگ سے چاروں ٹکڑوں کو نکال دیا گیا ہے۔ بائیں ٹانگ کے ایکسرے سے متعلق انہوں نے بتایا: ’عمران خان کی اس ٹانگ میں دو گولیاں لگنے کے باوجود فریکچر نہیں ہوا۔ انہیں نکالنے کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ یہ ٹانگ کے بڑے ڈھانچے کے لیے ممکنہ طور پر خطرناک نہیں۔

واضح رہے کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد پی ٹی آئی نے جمعرات کو عمران کی کنٹینر سے گاڑی میں منتقل ہونے کے وقت کی جو ویڈیو جاری کی تھی اس میں عمران کی ایک ٹانگ پر پٹی بندھی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے۔ لیکن شوکت خانم میں جب عمران میڈیا کے سامنے آئے تو ان کی دونوں ٹانگوں پر پلاسٹر چڑھا ہوا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر عمران کی دونوں ٹانگوں میں گولیاں لگیں تو وہ کنٹینر سے کس طرح ایک ٹانگ کے سہارے اتر رہے تھے اور ان کی دونوں ٹانگوں سے خون روکنے کے لیے پٹیاں کیوں نہیں باندھی گئیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب آنا ابھی باقی ہیں۔ ویسے بھی پلاسٹر تب چڑھایا جاتا ہے جب فریکچر ہو جب کہ عمران خان کی ٹانگوں پر صرف زخم ہیں۔

اسکے علاوہ فائرنگ کے بعد ‘اے آر وائی’ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کے سیکریٹری جنرل اسد عمر نے تصدیق کی تھی کہ عمران خان کی ایک ٹانگ میں گولی لگی ہے جب کہ پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما اور سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ‘جیو نیوز’ سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کی ٹانگ میں تین گولیاں لگی ہیں۔ عمران اسماعیل کا بتانا تھا کہ عمران خان کی ٹانگ سے نکلنے والے خون کو روکنے کے لیے پٹی باندھی گئی تھی۔

پیرا سیٹامول گولی کی قیمت میں 25 فیصد اضافہ کیوں؟

لیکن حیرت ناک بات یہ ہے کہ لاہور کے جس سرکاری ہسپتال سے عمران خان کا میڈیکل لیگل کروایا گیا ہے اس کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کو دو گولیاں لگیں۔ جناح ہسپتال کی انتظامیہ نے عمران خان کے ایکسرے اور ایم ار آئی کی بنیاد پر تیار کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ڈاکٹر سجاد گورایہ کی سربراہی میں میڈیکل ٹیم نے میڈیکو لیگل مکمل کر لیا ہے۔ ڈاکٹر سجاد جناح ہسپتال کے شعبہ آرتھو پیڈک کے سربراہ ہیں، میڈیکل ٹیم میں فرانزک ڈاکٹر فرحت سلطانہ بھی شامل تھیں۔ جناح ہسپتال کی انتظامیہ نے بتایا کہ جب عمران کو شوکت خانم ہسپتال لایا گیا تو وہ بے ہوش تھے ، عمران کی دونوں ٹانگوں میں ایک ایک گولی لگی ہے، دائیں ٹانگ کو گولی چھو کر گزری ہے جبکہ دوسری گولی نے بائیں ٹانگ کی ہڈی کو متاثر کیا ہے۔ عمران کی دونوں ٹانگوں پر زخموں کے 6 نشانات پائے گئے ہیں۔

Related Articles

Back to top button