عمران وہ خونی بلا ہے جو اب فوج کو کھانا چاہتی ہے

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو وہ خونی بلا قرار دے دیا ہے جو اپنی خالق فوج کو کھانے پر تل گئی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ عمران بوتل سے نکلا ہوا جن بن گیا ہے جسے واپس بوتل میں بند کرنے کا کوئی راستہ تلاش کرنا اشد ضروری ہے ورنہ وہ ہر جانب تباہی اور بربادی مچا دے گا۔

اپنے تازہ مضمون میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کہتے ہیں کہ پاکستانی فوج – آپ کو اچھی لگے یا بری – ملکی سیاست میں ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ بطور ایک ادارہ، فوج نے سیاست میں ہمیشہ اپنے اثر و رسوخ کی حد کو پہچانا ہے لیکن ہر تھوڑے عرصے بعد یہ ایک بیوقوفانہ اعتقاد کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ ملک ایک لیبارٹری ہے اور فوجی قیادت کو یہ خداداد حق حاصل ہے کہ وہ اس میں من مرضی کے تجربات کرے۔ ایک چیز جو ان سب سائنسدانوں کو بہت کام کی لگی وہ یہ کہ خود کو بچانے کے لئے ایک سویلین چہرہ سامنے رکھا جائے اور اختیارات اپنے پاس رکھا جائے۔ اس حرکت کو سیاسی انجنیئرنگ کہا جاتا ہے اور یہ ہر بار ناکامی کا منہ دیکھتی ہے۔ تاہم، اپنی سرشت سے مجبور ہمارے فوجی حضرات سکاٹ لینڈ کے اس جنگجو بادشاہ بروس کی پیروی کرنے کو تو تیار ہوں گے جو مکڑی کے بار بار کوشش کرنے سے متاثر ہوا تھا لیکن دنیا کے عظیم ترین سائنسدان آئن سٹائن کے کہے پر عمل نہیں کریں گے جس کے مطابق ہر بار ایک ہی کام کرنا لیکن اس سے مختلف نتائج کی توقع رکھنا بیوقوفی کی بہترین مثال ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی بتاتے ہیں کہ 2018 میں میرا کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر GHQ کافی آنا جانا رہا۔ لیکن دوسری آفات کی طرح یہ بھی میرے حق میں ہی ثابت ہوئی۔ جب مجھے لگا کہ ماضی کے کچھ مہم جو افسران کی طرح موجودہ کرتا دھرتا بھی ایک نیا چہرہ ڈھونڈ رہے ہیں جو ان کی حکمرانی کے لئے کور فراہم کرے تو میں نے سیاسی ‘انجنیئر-ان-چیف’ کے ایک قریبی ساتھی کے ذریعے ان سے درخواست کی کہ ایسا نہ کریں کیونکہ اس کام کا پہلے بھی کبھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ان کے جواب نے مجھے ششدر کر دیا۔ بولے: “سر ہم ملک کی صفائی کرنے جا رہے ہیں”۔ لیکن اب میں جلد ان سے مل کر مبارکباد پیش کروں گا کیونکہ ملک واقعی صاف ہو گیا ہے، گو یہ ان کی منشا کے مطابق نہیں ہوا۔ بقول اسد درانی، عمران خان وہ جھاڑو نہیں بن سکے جس کی ان سے امید تھی۔

انکا کہنا ہے کہ ذاتی مشاہدات اور ٹھوس شواہد کی ایک لمبی فہرست ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ عمران خان طاقت کی ہوس میں مبتلا تھا اور اس سے بھی اہم یہ کہ یہ تخت تک پہنچنے کے لئے ایک فوجی پیراشوٹ کا متلاشی تھا۔ بہت سے فوجی رہنما اس کے جال میں آنے سے انکار کر چکے تھے لیکن چار سال قبل بالآخر یہ مکار شخص کامیاب ہو گیا اور اس نے فوجی سربراہ کو پٹو ڈال دیا۔ اس کے بعد جو بھی ہوا وہ ماضی کا حصہ ہے لیکن ایک حیران کن امر نے اس کے مخالفین کو بھی حیران کر دیا – وہ یہ کہ عمران خان کی فالؤنگ خاصی وسیع ہو چکی ہے؛ یہ تعلیم یافتہ لوگ ہیں لیکن سمجھ بوجھ سے عاری۔ ان میں سے اکثر اس کے اقتدار کے دوران اس کے خلاف بولتے تھے لیکن اقتدار سے نکالے جانے کے بعد پرانے برے دنوں کی یادوں میں غلطاں ہیں۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ بتاتے ہیں کہ وزارتِ عظمیٰ کے لئے عمران خان کو دو وجوہات کی بنا پر امیدوار سمجھا گیا تھا: پہلا یہ کہ اس نے 1992 کا ورلڈ کپ جیتا، لیکن لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس کے پاس ایک بہترین ٹیم تھی جس کا وہ جیت کے بعد شکریہ تک ادا کرنا بھول گیا تھا۔ دوسرا یہ کہ اس نے لاہور میں کینسر ہسپتال کے لئے پیسے اکٹھے کیے تھے، جس کے لئے عظیم گلوکار نصرت فتح علی خان نے اس کی دل کھول کر مدد کی جو کہ دنیا کا ایک مانا ہوا گلوکار تھا لیکن اس نے عمران کے لئے بغیر معاوضے کے دنیا میں جگہ جگہ فن کا مظاہرہ کیا۔ اس کی وفات کے بعد لیکن عمران نے دعویٰ کیا کہ اس عظیم گلوکار کو اس نے ہی دنیا سے متعارف کروایا تھا۔

بقول اسد درانی، لیڈر عموماً کامیابی کی صورت میں کسی بھی چیز کا کریڈٹ لینے لگتے ہیں اور ناکامی میں اس سے دوری بنا لیتے ہیں لیکن عمران اس سے بھی ایک قدم آگے جاتے ہوئے لیڈرشپ کا یہ سنہرا اصول سامنے لائے کہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنی کہی بات پر یو ٹرن لیتا ہے اور اس بے اصولی کے اصول پر وہ سختی سے کاربند رہے۔ اس سے بھی بدتر یہ کہ عوامی فلاح کے ہر کام میں وہ ناکام ہوئے۔ کرپشن سے جنگ ان کا نصب العین تھا۔ کرپشن میں بھی پاکستان ان کے دورِ حکومت میں دنیا کے مزید ملکوں سے پیچھے چلا گیا۔ کسی نے ان سے NRO نہیں مانگا، لیکن وہ مسلسل کہتے رہے کہ وہ NRO نہیں دیں گے۔ کوئی ایک چور بھی پکڑا نہیں، لیکن کہتے رہے کسی کو چھوڑوں گا نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکہ کو اڈے دینے پر راضی ہوں گے تو انہوں نے بڑے واضح الفاظ میں کہا کہ بالکل نہیں، کیونکہ کسی نے ان سے اڈے مانگے جو نہیں تھے۔مفروضوں پر مبنی سوالات کے جواب دینا کبھی بھی سودمند نہیں ہوتا لیکن کم از کم اصل سوالوں کے جواب دینے سے یہ زیادہ آسان تھا۔ پھر اپنے آپ کو خوش رکھنے کے لئے وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ وہ امریکی مفادات کے لئے اتنا بڑا خطرہ تھے کہ دنیا کی واحد سپر پاور انہیں اقتدار سے نکالنے پر تل گئی۔ امریکہ کے لئے ملکوں میں حکومتیں تبدیل کرنا معمول کی بات ہے لیکن وہ سفارتی ذرائع سے اپنی سازشوں کے بارے میں انہیں آگاہ نہیں کرتے۔

لیکن بقول اسد درانی، عمران نے اپنے سٹینڈرڈ کے حساب سے بھی ایک حیران کن کام اس وقت کیا جب انہوں نے آرمی کو نیوٹرل ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور فتویٰ جاری کیا کہ نیوٹرل صرف جانور ہوتے ہیں۔ عمران کا یہ مؤقف غلط ہے کیونکہ انسان سے نیچے کی تمام مخلوقات دراصل اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے انسانوں سے کہیں زیاد یکسو ہوتی ہیں۔ ان کی فوج سے اصل مخاصمت یہ تھی کہ انہیں طاقت کے ایوانوں میں پہنچانے کے بعد جب انہوں نے سیٹی ماری تو وہ دوڑتی ہوئی ان کی مدد کو کیوں نہیں آئی۔ اور پھر انہوں نے اپنا مکر اس وقت بالکل واضح کر دیا جب ان کی پارٹی کو آئین کو سرِ عام پامال کرنے سے روکنے کے لئے عدالت رات کے وقت کھولی گئی۔ اسمبلیوں کو کارروائی کے دوران تحلیل نہیں کیا جا سکتا۔ صدر غلام اسحاق خان سے پوچھا گیا کہ بینظیر بھٹو کے بار بار کہنے کے باوجود وہ اسمبلی کا اجلاس کیوں نہیں بلا رہے تھے۔ چونکہ وہ پہلے ہی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے، انہوں نے ضروری سمجھا کہ اس دوران اسمبلی کی کارروائی نہ جاری ہو۔

پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا الیکشن حمزہ جیتے گا یا پرویز؟

عدم اعتماد کی ایک تحریک پر کارروائی کے دوران اس کو تحلیل کرنا ایک بدنما ترین حرکت ہوتی۔ یہی وجہ تھی کہ PTI عدالتوں کو منظر سے غائب رکھنا چاہتی تھی۔ لیکن اس سب سے ان کے فالؤرز پر کوئی فرق نہیں پڑتا جنہیں ان کی صورت میں ایک مسیحا مل گیا ہے اور وہ فیصلہ کر بیٹھے ہیں کہ تاریکی کی گہری ترین گھاٹی میں ان کے پیچھے پیچھے وہ بھی اتر کر رہیں گے۔ دیکھئے کیسے کورس میں نئے انتخابات کا گیت گا رہے ہیں – ابھی چند ماہ قبل اسی آپشن کو وہ مضحکہ خیز قرار دیتے تھے۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شاید ہی کوئی انتخابات کے نتائج کی پیش گوئی کر سکتا ہو۔ یحییٰ خان نے بہترین تخمینے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے 1970 کے انتخابات کا اعلان کیا۔ اسے یقین دلایا گیا تھا کہ ایک معلق پارلیمان وجود میں آئے گی جو اسے اقتدار میں رہنے کا جواز فراہم کرے گی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ملک ہی نہ بچا جس پر حکمرانی کرنی تھی۔ 1988 کے انتخابات میں ایجنسیوں کے تمام تخمینے بے کار گئے سوائے آخری گنتی کے۔ موجودہ صورتحال میں مجھے نہیں پتہ کہ نتائج جلسوں کے حجم کے مطابق آئیں گے یا ٹوئٹر پر ٹرینڈ چلانے والوں کی بجائے گھر سے نکل کر ووٹ دینے والوں کی تعداد کے مطابق۔ لیکن جلد انتخابات کے مطالبے سے ایک مقصد ضرور حاصل ہوگا کہ نئی حکومت کے ہاتھ سے ملک کو مشکلات سے نکالنے کا وقت نکل جائے گا۔ اس دوران ایک اور مزید گھمبیر مسئلہ بھی حل طلب ہے۔

ملٹری کی بنائی ہوئی حکومتیں عموماً فوج اور سویلینز کے درمیان کا ایک ہائبرڈ نظام کہلاتی ہیں۔ اس نظام میں ایک خوفناک کردار فرینکنسٹائین نامی خونی بلا ہوتی ہے جو اپنے بنانے والے کو ہی کھا جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح عمران بھی اب اپنے بنانے والوں کو کھانے پر تلا ہے۔ لیکن اس بار مسئلہ کچھ زیادہ گھمبیر ہے۔ عمران بوتل سے نکلا ہوا جن بن گیا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ اسے واپس بوتل میں کیسے بند کیا جائے؟

Related Articles

Back to top button