عمران خان کے لیے مکافات عمل کا سلسلہ شروع ہوچکا

معروف تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے کہا ہے کہ عمران خان کے لیے مکافات عمل کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور انہوں نے بطور حکمران جو کچھ بویا تھا اب کاٹنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ روزنامہ جنگ میں اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کی اگر تین مرتبہ ملک کے وزیر اعظم منتخب ہونے والے نواز شریف ایک جھوٹے کیس میں وزارت عظمی اور پارٹی صدارت سے محروم ہو کر سیاست سے باہر ہو سکتے ہیں تو عمران خان کیوں بچے گا؟

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان اگر اداروں کا مہرہ بن کر نواز شریف کے خلاف مہرہ نہ بنتے، سچ کا ساتھ دیتے، نواز شریف کو نااہل نہ کرواتے، اور انہیں میدان سیاست سے باہر نہ کرواتے، تو آج عمران کیلئے بھی نرمی کا برتاؤ رکھنے کیلئے آواز اُٹھتی۔ انکا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے خلاف فیصلہ، ایک جامع دستاویز ہے جس پر پی ٹی آئی کے اوسان خطا ہونا بنتا ہے۔ اب وضاحتیں اور الزامات بیکار ہیں اور خان صاحب کو بھی دوسروں کی طرح اپنی تلاشی دینا ہوگی۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ بطور وزیراعظم حضرت عمر کی مثالیں دینے والے عمران خان سے فارن فنڈنگ سکینڈل میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد ایک نوجوان صحافی نے صرف اتنا سوال کیا کہ عارف نقوی سے آپ کا کیا تعلق ہے؟ جواب میں موصوف نہایت غصے میں بولے کہ میں عارف نقوی بارے کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا۔ اسکے بعد سیکورٹی اہلکاروں نے نوجوان صحافی کا بھرکس نکالا اور اسے اُٹھا کر باہر پھینک دیا۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر فنانشنل ٹائمز میں 29 جولائی کو شائع ہونے والے فارن فنڈنگ سکینڈل کے اگلے دن عمران خان حسبِ معمول اپنے خطاب میں سیمن کلارک کی رپورٹ کا پوسٹمارٹم کرتے، اسکی دھجیاں اُڑاتے، وہ مغرب کو سب سے زیادہ میں جانتا ہوں جیسے اپنے قول کا پاس رکھتے، مغرب کے نقشِ قدم پر چکتے ہوئے پارٹی قیادت سے استعفیٰ دیتے اور خود کو احتساب کیلئے پیش کر دیتے۔ حفیظ اللہ نیازی کے مطابق عمران خان کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے وکلا کے ذریعے فنانشل ٹائمز کو برطانوی عدالتی کٹہرے میں کھڑا کرتے اور اسے جھوٹا ثابت کر کے اربوں ڈالر کماتے۔ لیکن عملاً خان صاحب اور انکے جماعت کی دوسرے درجے کی قیادت کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچ رہی ہے، اور تلاشی نہیں دے رہی۔

عزت کا راستہ یہی ہے منحرف رکن مستعفی ہو کر گھر جائے

وہ کہتے ہیں کہ شو مئی قسمت! سیمن کلارک پچھلے چند سال سے عارف نقوی کی مالی بد عنوانیوں اور اربوں ڈالر ز کے خیراتی اداروں کے پیسوں کی ہیرا پھیری کی چھان بین کر رہا تھا۔ اس دوران عمران خان تو ضمنی میں پکڑے گئے۔ لیکن اکبر ایس بابر کو کریڈٹ دینا ہو گا کہ وہ 2011ء سے عمران خان کی بدعنوانیوں کا تعین کر چکا تھا۔ حفیظ اللہ نیازی کا کہنا ہے کہ پاکستانی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ کوئی سیاستدان خیرات کے نام پر غیر قانونی فارن فنڈنگ وصول کر کے اپنی سیاست چمکاتا ہوا پکڑا گیا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے عمران کی جن بدعنوانیوں کا پردہ چاک کیا ہے وہ 2009 سے 2013 کے درمیان کی ہیں لیکن اس کے بعد کے سالوں میں جو اربوں روپیہ مذید آیا اس کا حساب کتاب لینا ابھی باقی ہے۔ انکا بقول اگر عامر کیانی، اسد قیصر، اور دیگر پی ٹی آئی لیڈرز کے اثاثوں کی تحقیقات کی جائیں تو شرطیہ کروڑوں ڈالرز کی پارکنگ تک دسترس ہو جائیگی۔ اگر عمران خان فنانشل ٹائمز کو برطانوی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کرتا تو وہ الیکشن کمیشن کے بعد سپریم کورٹ میں بھی چور اور جھوٹا ثابت ہو جائے گا۔ انکا کہنا یے کہ اس حوالے سے شہباز شریف ایک مثال قائم کر چکے ہیں۔ انہوں نے ڈیلی میل کی جانب سے اپنے خلاف جھوٹی رپورٹ شائع کرنے پر مقدمہ کیا اور جیتنے کے بعد معافی بھی منگوائی اور ہرجانہ بھی حاصل کیا۔ ایسے میں عمران خان چپ کا روزہ کیوں نہیں توڑتے؟ اب انہیں بولنا تو پڑے گا۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ فواد چوہدری فرما رہے ہیں عمران کو کیسے علم ہوتا کہ 2022 میں عارف نقوی مجرم نکلے گا؟ اسکا جواب یہ ہے کہ عمران تو آج بھی عارف نقوی کو مجرم ماننے کو تیار نہیں ہے۔ عمران خان ایک ہفتہ پہلے ہی عارف نقوی کے دفاع میں سینہ سپر تھا اور اسے ایک سرمایہ قرار دے رہا تھا۔ موصوف نے ساتھ میں یہ بھی فرمایا کہ اگر نقوی نے تھوڑی سی منی لانڈرنگ کرلی تو کیا برا کیا؟ دراصل عمران کی اب یہ عادت بن چکی ہے کہ عدالتی کارروائی ہو یا تحقیق و تفتیش، وہ اسے اپنے خلاف اعلانِ جنگ سمجھتے ہیں اور جھوٹ کے زور پر اس کا دفاع کرتے ہیں کیونکہ جھوٹ کی سہولت انکو وافر مقدار میں میسر ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ افراد سے لیکر اداروں تک سب کو بلیک میل کر کے اپنا الو سیدھا رکھنا عمران کا نظریہ بن چکا یے۔ دوسری جانب نواز شریف اور مریم نواز 2017 سے سیاست سے باہر ہیں۔ نواز شریف کو اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کی سزا یہ ملی کہ انہیں وزارت عظمیٰ سے نکال دیا گیا اور پارٹی صدارت سے علیحدہ کر دیا گیا۔ دوسری جانب عمران خان ایک ایسا شخص ہے جس نے اربوں روپے کی ہیرا پھیری کے علاوہ غیر ملکی اداروں اور افراد سے ممنوعہ فنڈنگ وصول کی اور رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا اسے بھی نواز شریف کی طرح نااہل کیا جائے گا یا ایک بسر پھر چھوڑ دیا جائے گا؟ یعنی کیا ایک بار پھر انصاف ہوگا یا انصاف کا دہرا معیار اپنایا جائے گا؟

Related Articles

Back to top button