عمران خان کا دوبارہ اسلام آباد پر چڑھائی کا منصوبہ کیا ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ عمران خان ضمنی انتخابات میں اپنی عوامی مقبولیت ثابت کرنے کے باوجود اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ بذریعہ سنجیدہ مذاکرات ملکی بحران کا حل تلاش کرنے کو آمادہ نظر نہیں آرہے اور انکی سوئی فی الفور نئے انتخابات پر ہی اٹکی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ضمنی الیکشن میں 20 میں سے 15 سیٹیں جیتنے کے باوجود عمران خان نے الیکشن کمشنر پر دھاندلی کے الزامات عائد کر دیے ہیں اور ان کے استعفے کا مطالبہ کردیا ہے۔ ایسے میں یہ بات عیاں ہے کہ اگر ان کے یہ مطالبات سر جھکا کر تسلیم نہ کئے گئے تو وہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حمایت سے چودھری پرویز الٰہی کی حکومت کے قیام کے بعد اسلام آباد پر ایک بار پھر لانگ مارچ کی صورت ”حملہ آور“ ہوں گے اور شہباز حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کریں گے۔

امریکا کو پاکستان کیساتھ طویل شراکت داری پر فخر ہے

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ عمران خان نے پچھلی مرتبہ بھی اگست میں ہی اسلام آباد پر یلغار کی تھی، لیکن اب کی بار انکا ”عوامی ہجوم“ فقط خیبر پختونخوا ہی سے اسلام آباد میں داخل نہیں ہو گا بلکہ پنجاب سے بھی بھاری تعداد میں لوگوں کو شہر اقتدار پہنچایا جائے گا تاکہ شہباز شریف حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکے۔ بقول نصرت جاوید، اس بار پنجاب سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کی قیادت بذاتِ خود عمران خان کریں گے جسے راولپنڈی تک پہنچانے میں صوبائی حکومت کی انتظامیہ فدویانہ تعاون فراہم کرے گی۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ 2014ء میں ہونے والے لانگ مارچ کے وقت تخت لاہور پر شہباز شریف براجمان تھے لیکن وہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو روک نہیں پائے تھے۔ ان کے ”جگری“ چودھری نثار علی خان وفاقی وزیر داخلہ تھے۔ وہ بھی ہجوم کے سامنے بے بس نظر آئے۔ عمران خان کا دیا دھرنا 126 دنوں تک جاری رہا۔ وہ اپنے ہدف کے حصول میں یقیناً ناکام رہے لیکن انہوں نے حکومت کی بنیادیں ہلادی تھیں۔ اگر پشاور کے آرمی پبلک سکول میں دہشت گردی کا سانحہ نہ ہوتا تو شاید نواز شریف استعفیٰ دینے پر مجبور ہو جاتے کیونکہ اس سانحے کے بعد عمران کو دھرنا ختم کرنا پڑ گیا تھا۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ چوہدری پرویز الٰہی کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کی صورت میں آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پر کنٹرول کھو دینے کے بعد وفاق میں بیٹھے شہباز شریف ویسے ہی نظر آئیں گے جیسے کسی زمانے میں افغانستان کے حامد کرزئی نظر آتے تھے اور انہیں طنزا افغانستان کا صدر نہیں بلکہ ”کابل کا میئر“ پکارا جاتا تھا۔ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی پہلی حکومت کے ساتھ بھی 1988 سے 1990ء کے دوران ایسا ہی عالم رہا تھا۔ مغلیہ دور کے زوال کے دنوں میں ایک بادشاہ شاہ عالم کے نام سے نمودار ہوا تھا اس کی حکمرانی ”ازدلی تا پالم“ تصور ہوتی تھی۔ مجھے ہرگز خبر نہیں کہ شہباز شریف اپنے بارے میں ویسی ہی تاریخ دہرانا چاہ رہے ہیں یا نہیں۔

نصرت کا کہنا ہے ان کے زیادہ تر دوست بضد ہیں کہ اگر شہباز شریف نے موجودہ حالات میں ہاتھ کھڑے کر دئیے تو پاکستان کو ”دیوالیہ“ ہونے سے روکنا ناممکن نہ سہی انتہائی دشوار یقیناًہو جائے گا۔ انہیں یہ بھی گلہ تھا کہ مجھ جیسا نام نہاد ”پڑھا لکھا“ شخص عوام کو ”دیوالیہ“ ہونے کے عواقب سے کماحقہ انداز میں آگاہ نہیں کر رہا۔ پنجاب کے ضمنی انتخاب کے نتائج کا اعلان ہوگیا تو اس کے عین ایک روز بعد پاکستانی روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں یک دم ریکارڈ بناتے انداز میں ”ٹکے ٹوکری“ ہو گئی۔ سٹاک ایکس چینج بھی بلبلااٹھا ہے۔اپنے دفاع میں یاد دلانے کو مجبور ہوا کہ ہمارے برعکس بھارت میں مودی سرکار سیاسی اعتبار سے مستحکم ہے۔ ہمارے ہمسائے کا سیاسی استحکام مگر بھارتی روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں مسلسل گرنے سے روک نہیں پارہا۔ پاکستانی روپے کی گراوٹ روکنا فی الحال میری دانست میں ممکن نظر نہیں آرہا کیونکہ اس کے اسباب ہمارے کنٹرول میں نہیں۔ مگر عام پاکستانی اپنی حکومت ہی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائے گا۔ عمران خان جن دنوں ہمارے وزیر اعظم تھے تو پاکستانی روپے کی گراوٹ ان کے ذمہ ڈالی جاتی تھی۔ اس لیے شہباز شریف کو ان کے برعکس ”بری الذمہ“ ٹھہرایا نہیں جا سکتا۔

نصرت کا کہنا ہے کہ پاکستان ہی نہیں دنیا کے ہر ملک میں اس وقت مہنگائی اور کساد بازاری نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنارکھی ہے جس کی بنیادی وجہ روس کی یوکرین کے خلاف برپا کی گئی جنگ ہے۔ اس جنگ کے خاتمے کے امکانات نظر نہیں آرہے۔ مگر عام پاکستانیوں کی اکثریت اس جنگ کے ہولناک اثرات سے قطعاً غافل ہے۔ عوام کی بھاری بھر کم تعداد خواہ وہ عمران خان کی حامی یا ووٹر نہ بھی رہی ہو، نہایت شدت سے یہ محسوس کررہی ہے کہ وہ اگر اب بھی حکومت میں ہوتے تو زندگی شاید آسان رہتی اور حکومت کے خاتمے سے اتنا بڑا معاشی طوفان نہ آتا۔ انکا خیال ہے کہ روس ہماری تیل کی ضروریات ”سستے داموں“ پوری کر دیتا۔آئی ایم ایف کو تحریک انصاف کی حکومت ٹھینگا دکھائے رکھتی اور اس کے مطالبے پر بجلی اور گیس کے نرخ بڑھانے سے انکار کر دیتی۔ لیکن سیاست میں تاثر حقائق سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔اس حقیقت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے موجودہ حکومت کو فوری انتخاب کے لئے رضا مند ہوجانا چاہیے۔ اگر نئے انتخاب عمران کو بھاری اکثریت سے وزارت عظمیٰ کے منصب پر واپس بٹھا دیں تو شاید چند ماہ بعد ہی عوام کی آنکھوں پر پڑا پردہ اتر جائے اور وہ حقائق دیکھنا شروع کر دیں۔

Related Articles

Back to top button