سعودی عرب میں تین برس کی سزا پانے والا عمرانڈو نکلا

بالآخر سعودی حکام نے وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے دوران مسجد نبوی میں انکے وفد کے اراکین کے خلاف نعرے بازی کرنے اور پھر اس کی ویڈیوز وائرل کرنے میں ملوث ایک پاکستانی عمرانڈو کو تین برس قید اور دس ہزار ریال جرمانہ کی سزا سنا دی ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ سزا کا مقصد مستقبل میں مقدس مقامات پر ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کرنا ہے۔

حکومت نے مہنگائی بم پھینکا تو خود بھی اڑ جائے گی

یاد رہے کہ اپریل 2022 میں مسجد نبوی میں یہ واقعہ تب پیش آیا جب وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کا وفد حکومت میں آنے کے بعد سعودی عرب کا دورہ کر رہا تھا کہ کچھ افراد نے مسجد نبوی کے احاطے میں ان کے خلاف ’چور چور‘ کے نعرے لگائے اور دو وزرا سے بدسلوکی کی۔

بتایا جا رہا ہے کہ سعودی عرب میں سزا پانے والے محمد طاہرپر الزام تھا کہ اس نے مسجد میں پاکستانی وفد سے بدتمیزی اور افراتفری کی ویڈیوز سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کیں جو وائرل ہو گئیں۔ ادھر سینئر صحافی سلیم صافی نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا ہے کہ محمد طاہر کا تعلق سابقہ حکمراں جماعت تحریک انصاف سے تھا۔ یعنی سعودی عرب میں سزا پانے والا یوتھیا ایک عمرانڈو ہے۔

مدینہ منورہ کی عدالت نے محمد طاہر کو تین سال قید اور دس ہزار ریال جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ عدالتی فیصلے میں تین ججوں نے مشترکہ طور پر جرم کے حوالے سے کہا ہے کہ ملزم نے مسجد نبوی میں ہلا گلا کرنے کی ویڈیو ٹک ٹاک پر وائرل کی اور جرم گواہوں اور ثبوتوں کی روشنی میں ثابت ہوا ہے۔محمد طاہر 30 روز کے اندر اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتا ہے۔

جیو نیوز سے گفتگو میں اس پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے اپنے قوانین کے مطابق فیصلہ کیا جو ان کی ذمہ داری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حرمین شریفین کے تقدس کا خیال کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

جدہ میں موجودہ صحافیوں کے مطابق اس واقعے کے بعد سے سعودی پولیس نے بڑی تعداد میں گرفتاریاں کی تھیں جس میں سے اکثریت کو ابتدائی تفتیش کے بعد چھوڑ دیا گیا جبکہ پانچ پاکستانیوں کے خلاف مناسب ثبوت اور گواہ موجود ہونے کی بنا پر ان کو گرفتار کر کے مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ ان پانچ گرفتار پاکستانیوں میں سے ایک پر جرم ثابت ہونے کے بعد مدینہ منورہ کی عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے جبکہ باقی چاروں کے خلاف مقدمہ ابھی ٹرائل میں ہے۔ مقامی صحافیوں کے مطابق جس پاکستانی کو سزا سنائی گئی ہے اس کو مسجد نبوی کے اندر ہنگامہ آرائی کرنے پر نہیں بلکہ اس شور شرابے کی ویڈیو بنا کر وائرل کرنے پر سزا سنائی گئی ہے۔

اب تک اس واقعے میں گرفتار پاکستانیوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ جدہ میں موجود صحافیوں کے مطابق اس واقعے کو سعودی پولیس نے انتہائی سنجیدہ لیا ہے۔ اس میں پانچ گرفتاریاں تو موجود ہیں مگر ابھی بھی اس کی تفتیش جاری ہے اور اس میں تحقیقات کے بعد مزید گرفتاریوں کی بھی توقع ہے۔ واضح رہے اپریل کے ماہ کے آخر میں وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران ان کے وفد کے دو ارکان وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور وزیر برائے نارکوٹیکس شاہ زین بگٹی کی مسجد نبوی میں حاضری کے دوران مبینہ طور پر تحریک انصاف کے حامیوں نے نعرے بازی کی تھی جس کی ویڈیو وائرل ہوئی اور اس کی ملکی و غیر ملکی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔ تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں نے اس احتجاج سے لاتعلقی ظاہر کی تھی۔

اس واقعے پر پاکستان میں بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد کی پولیس نے توہین مذہب کے الزام میں سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت جماعت کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ اس مقدمے میں کہا گیا کہ ‘عمران خان، فواد چوہدری، شیخ رشید، شہباز گل، شیخ راشد شفیق، صاحبزادہ جہانگیر چیکو، انیل مسرت، نبیل نسرت، عمیر الیاس، رانا عبدالستار، بیرسٹر عامر الیاس، گوہر جیلانی، قاسم سوری اور تقریباً 100 کے قریب لوگوں نے سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی حرمت و تقدس کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قرآن کے احکامات کی واضح خلاف ورزی کی ہے۔’

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ اس مقدمے میں ’عمران خان کو بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔’ دوسری طرف تحریک انصاف نے اسے سیاسی انتقام قرار دیا۔رانا ثنا اللہ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’پاکستان سعودی وزارت خارجہ سے درخواست کرے گا کہ وہ مدینہ منورہ میں ہونے والے واقعے پر کارروائی کرے۔ شناخت کر کے ان کو ملک بدر کیا جائے۔ ’سعودی حکام سے درخواست کریں گے کہ ملوث افراد کی سی سی ٹی وی فوٹیج ہمیں بھجوائی جائیں تاکہ ان کی شناخت کی جائے اور یہاں بھی ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔‘

Related Articles

Back to top button