عمران کی امریکی سازش کی کہانی عمروعیار کی داستان نکلی

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر اسد مجید خان کے لکھے گئے خط کو امریکی دھمکی آمیز خط بنا کر غیر ملکی سازش کی داستان عمرو عیار گھڑے جانے کی تصدیق ہوگئی ہے۔ معروف تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسد مجید خان کی جانب سے لکھے گئے سفارتی سائفر کو عمران خان نے کیسے اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا۔ انکا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تفصیلی معلومات صرف چند خاص افراد کو معلوم ہیں جو اس سارے گیم پلان کا حصہ تھے۔ سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ اس سازش کی تمام تفصیلات حاصل کرنے والے ہی اب یہ فیصلہ بھی کریں گے کہ آیا ان معلومات کو عوام کے سامنے رکھا جانا چاہئے یا نہیں، یا پھر انہیں کب عوام کے سامنے لایا جانا چاہئے۔

عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ عمران خان نے جس دستاویز کو مبینہ امریکی سازش کی بنیاد بنایا اس کے بارے میں ایک اہم سرکاری عہدیدار کا کہنا ہے کہ انہیں علم ہو چکا ہے کہ اس سفارتی سائفر کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ کب اور کس نے بنایا اور عدم اعتماد کے ووٹ سے قبل کس نے کسے اس حوالے سے کیا ہدایات دی تھیں۔ عمران کی جانب سے اپنی حکومت گرانے کے لیے عائد کردہ امریکی سازش کا الزام امریکا سے تعلقات کی مزید خرابی کی صورت میں سامنے آیا جو پہلے ہی افغانستان سے امریکی انخلاء کے حوالے سے عمران کے بیانات سے ناراض تھا۔ یاد رہے کہ جس وقت طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو تب عمران خان نے کہا تھا کہ طالبان نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔

ترازو سیدھا نہیں ہو سکا، دہرا نظام انصاف نامنظور

بقول عمر چیمہ، سرکاری ذریعے کا کہنا تھا کہ امریکی حکام سمجھتے تھے کہ عمران خان نے غیر ذمہ دارانہ بیانات دے کر ہمارے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے امریکا میں موجود حامیوں نے صدر ٹرمپ کی الیکشن مہم کے دوران فنڈز جمع کیے تھے اور یہ بات بھی جو بائیڈن انتظامیہ کو اچھی نہیں لگی تھی۔ سرکاری عہدیدار نے تب واشنگٹن میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید خان کو بھی قصور وار قرار دیا کہ جس نے امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے ساؤتھ ایشیا ڈونلڈ لوُ کے ساتھ اپنی الوداعی بات چیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ اس بات کو درست ثابت کرنے کیلئے سرکاری عہدیدار نے ایک اور ایسے ہی واقعے کا ذکر کیا جب عمران خان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں واشنگٹن کے دورے پر گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دیگر ملکوں سے بھی سفارتی دستاویز یا سائفر موصول ہو چکے ہیں جو امریکی سائفر کے مقابلے میں زیادہ سخت نوعیت کے تھے۔ ایسا ہی ایک سائفر خلیجی ملک کی طرف سے تب بھیجا گیا تھا جب عمران خان نے اس کے حکمران کیخلاف اچانک بیان دیدیا۔ سرکاری عہدیدار نے ایک یورپی ملک کا بھی حوالہ دیا جس نے بھی اسی طرح کا ایک تجزیہ پیش کیا تھا۔ چنانچہ عمر چیمہ کہتے ہیں کہ امریکی سفارتی سائفر میں ایسی کسی دھمکی یا سازش کا ذکر نہیں تھا جو عمران خان نے عوام کے سامنے پیش کرکے یہ تاثر دیا کہ انکی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کسی دھمکی کا نتیجہ تھی۔

Related Articles

Back to top button