عمران کا 13 اکاؤنٹس بارے لا علمی کا دعویٰ سفید جھوٹ نکلا

تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے چھپائے گئے 13 اکاؤنٹس کے بارے میں پارٹی رہنماؤں کا یہ دعویٰ سراسر غلط نکلا ہے کہ پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کو ان کا علم نہیں تھا۔ تحریک انصاف کی اپنی آفیشل دستاویزات کے مطابق پارٹی قیادت بشمول عمران خان کو ان اکاؤنٹس کا مکمل علم تھا اور انہوں نے جان بوجھ کر انہیں الیکشن کمیشن سے چھپایا اور غلط دستاویزات جمع کروا کر اسے گمراہ کیا۔ خیاک رہے کہ فواد چوہدری نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ الیکشن کمیشن کو تحریک انصاف کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کرواتے وقت عمران خان کو ان 13 پارٹی اکاؤنٹس کا علم نہیں تھا۔ انھوں نے یہ مضحکہ خیز دعوی کیا کہ کچھ پارٹی رہنماؤں نے اپنے طور پر یہ 13 اکاؤنٹس کھول رکھے تھے جو عمران خان کے علم میں نہیں تھے لہذا ان کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔

یاد رہے کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو مسلسل پانچ سال یعنی 2008 سے 2013 تک فارم ون جمع کرایا اور ہر سال اپنے دستخطوں سے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ معلومات درست ہیں اور پی ٹی آئی کو کسی ایسے ذرائع سے کوئی فنڈز موصول نہیں ہوئے جو کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے تحت ممنوع ہیں۔ چونکہ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن سے ان اکاؤنٹس کو چھپایا تھا اور ظاہر نہیں کیا تھا لہذا اسکے پاس 13 بینک کھاتوں کی تردید کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ لیکن ان اکاؤنٹس کا انکشاف تب ہوا جب اسکروٹنی کمیٹی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے پارٹی کے تمام اکاؤنٹس کا بینک ریکارڈ حاصل کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے چئیرمین کے علاوہ پارٹی کے فنانس سیکرٹری نے بھی ان اکاؤنٹس کو مسلسل چھپایا حالانکہ انہوں نے خود اسکروٹنی کمیٹی میں پی ٹی آئی کی نمائندگی کی تھی اور وہ ان 13 اکاؤنٹس کو آپریٹ بھی کرتے رہے تھے۔ قانونی ماہرین کے مطابق چونکہ یہ بینک اکاؤنٹس چھپائے گئے اور ظاہر نہیں کئے گئے تھے لہذا قانون کے تحت یہ تمام اکاؤنٹس ممنوعہ فنڈنگ ​​کا حصہ بنیں گے۔ سینئر صحافی فخر درانی کی ایک رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کی جمع کرائی گئی دستاویزات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ عمران خان نے ایک سال نہیں بلکہ مسلسل پانچ برس تک الیکشن کمیشن کو ماموں بنایا، انہوں نے حقائق کو غلط طریقے سے پیش کیا اور ان 13 بینک اکاؤنٹس کومسلسل چھپایا جن کو تحریک انصاف کے ایسے پارٹی عہدیدار چلا رہے تھے جنہیں عمران کے قریب ترین تصور کیا جاتا ہے۔

اداکارہ صاحبہ نے کبھی بیٹی کی خواہش کیوں نہیں کی؟

دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ ان اکاؤنٹس کے بارے میں نہ صرف پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کو علم تھا بلکہ ان اکاؤنٹس کے تمام دستخط کنندگان کی تقرری پارٹی کے سینٹرل فنانس بورڈ کی قراردادوں کے ذریعے کی گئی تھی۔ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ ​​کیس میں ای سی پی کے فیصلے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ الیکشن کمیشن سے چھپائے گے 13 میں سے دو اکاؤنٹس تو عمران خان نے خود کھلوائے تھے۔ فنانس بورڈ کی منظور کردہ قراردادیں واضح عکاسی کرتی ہیں کہ پی ٹی آئی کے چئیرمین کو نہ صرف انکا مکمل علم تھا بلکہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے علاوہ اسد قیصر، عمران اسماعیل، اور عاطف خان وغیرہ تو ان اکاؤنٹس کے دستخط کنندہ تھے۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ 2 دسمبر 2012 کو پی ٹی آئی کے مرکزی فنانس بورڈ کا اجلاس ہوا اور چار افراد محمد سلیم جان، خالد مسعود، ظفر اللہ خان خٹک اور انجینئر حامد الحق کی پشاور کینٹ میں کے اے ایس بی بینک لمیٹڈ میں پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے موجودہ اکاؤنٹ کے دستخط کنندگان کے طور پر تقرری کی منظوری دی گئی۔ اسی تاریخ کو ان چاروں افراد کی ایچ بی ایل پشاور میں پارٹی کے بینک اکاؤنٹ کے دستخط کنندگان کے طور پر تقرری کے لیے ایسی ہی قرارداد منظور کی گئی تھی۔ فنانس بورڈ کی قرارداد کے بعد ایچ بی ایل پشاور کے جنرل منیجر کو نوٹیفکیشن بھیجا گیا جنہیں 4 دسمبر 2012 کو اکاؤنٹ کے دستخط کنندگان کی تبدیلی کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا۔ اس نوٹیفکیشن کے مطابق اسد قیصر اور عاطف خان سمیت پارٹی کے دو دیگر عہدیداروں کو اس اکاؤنٹ کے دستخط کنندگان کے طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں محمد سلیم جان، خالد مسعود، ظفر اللہ خان خٹک اور انجینئر حامد الحق کو پارٹی بینک اکاؤنٹ چلانے کے لیے نئے دستخط کنندگان کے طور پر نامزد کیا گیا۔

لیکن ان حقائق کے برعکس پی ٹی آئی قیادت نے اپنے تحریری جواب میں ای سی پی کے سامنے حقائق کو غلط انداز میں پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ اکاؤنٹس غیر مجاز تھے اور پی ٹی آئی کے محکمہ خزانہ کے علم میں نہیں تھے۔ پی ٹی آئی کے محکمہ خزانہ کے دعوے کے برعکس دستاویزات واضح طور پر اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ فنانس بورڈ کو نہ صرف ان کھاتوں کا علم تھا بلکہ اس نے ان کھاتوں کے دستخط کنندگان کی تقرری اور ان کو ہٹا دیا گیا تھا۔ لیکن سینئر صحافی فخر درانی کے بقول جب انہوں نے ان بینک اکاؤنٹس کے دستخط کنندگان محمد سلیم جان، ثمر علی خان، جہانگیر رحمان اور نجیب ہارون سے رابطہ کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ پارٹی چیئرمین عمران خان سمیت سب کو ان اکاؤنٹس کا علم تھا اور ان کی منظوری کے بغیر یہ اکاؤنٹس کھلوائے ہی نہیں جا سکتے تھے۔ تاہم اب ان چار افراد کی گرفتاری کا امکان ہے۔

Related Articles

Back to top button