بھارتی شہری رومیتا شیٹی نے تحریک انصاف کو فنڈز کیوں دئیے؟

الیکشن کمیشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں ایک بھارتی شہری رومیتا شیٹی کا نام بھی آیا ہے جنکی پی ٹی آئی کو دی گئی فنڈنگ ممنوعہ فنڈنگ میں شمار کی گئی ہے۔ ایسے میں سوال کیا جا رہا ہے کہ یہ بھارتی خاتون کون ہیں اور انہوں نے تحریک انصاف کو فنڈنگ کیوں کی؟

الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کئی ایسے لوگوں اورکمپنیوں کے نام ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ غیرملکی شہری ہیں اور پی ٹی آئی نے ان سے فنڈز وصول کیے، ان ناموں میں اندر دوسانجھ، ویرل لعل، مائیکل لین، مرتضیٰ لوکھنڈوالا، ابو بکر وکیل، چرنجیت سنگھ، ورشا لتھرا اور دیگر لوگ شامل ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے ناقدین کی جانب سے سب سے زیادہ لیا جانے والا نام رومیتا شیٹی کا ہے۔ الیکشن کمیشن نے دیگر افراد کی طرف سے پی ٹی آئی کو دیے جانے والے فنڈز کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ رومیتا شیٹی کے حوالے سے بھی تفصیل اپنے فیصلے میں درج کی ہے۔ تحریری فیصلے کے صفحہ نمبر 67 پر الیکشن کمیشن نے لکھا ہے کہ پی ٹی آئی پاکستان انڈین نژاد امریکی بزنس ویمن مسز رومیٹا شیٹی کی ڈونیشن کی بھی بینیفشری ہے۔

حکومت نے مہنگائی بم پھینکا تو خود بھی اڑ جائے گی

اردو نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن کے فیصلے میں مزید لکھا ہے کہ رومیتا شیٹی نے سابق وزیراعظم عمران خان کی پارٹی کو 13 ہزار 750 ڈالرز فنڈ دیا ہے جو کہ ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتا ہے اور پاکستانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

رومیتا شیٹی کے حوالے سے سابقہ نیوز اینکر رابعہ انعم نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’ایمانداری کی بات ہے کہ مجھے رومیتا شیٹی عمران خان کی ایک پرستار سے زیادہ کچھ اور نہیں نظر آتیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ’انڈین ایجنٹس صرف 14 ہزار ڈالرز نہیں بھیجیں گے۔

سینئر صحافی حامد میر نے بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کا ایک صفحہ شیئر کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ انڈین شہری مسز رومیتا شیٹی نے پی ٹی آئی کو سنگاپور سے فنڈز بھیجے تھے۔ سید علی عباس زیدی نامی صارف نے ایک طنزیہ ٹویٹ میں لکھا کہ رومیتا شیٹی کے چند ہزار ڈالر پی ٹی آئی کو بہت مہنگے پڑیں گے، رومیتا، آپ نے جذبات میں آکر یہ کیا کر دیا؟ رومیتا شیٹی کا نام اس سے قبل پاکستانی انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ سے منسلک تحقیقاتی صحافی فخر درانی کی ایک خبر میں بھی سامنے آیا تھا، بلوم برگ‘ کے مطابق رومیتا شیٹی ایک امریکی کمپنی ڈی اے کیپٹل کی منیجنگ ڈائریکٹر ہیں اور پاکستانی امریکن بزنس مین ناصر عزیز احمد کی اہلیہ ہیں۔ یعنی رومیتا بھارتی نژاد امریکی ہیں جبکہ انکے شوہر پاکستانی نژاد امریکی ہیں۔ ناصر عزیز احمد کی ’بلوم برگ‘ پر موجود پروفائل کے مطابق وہ ’ڈی اے کیپٹل‘ کے منیجنگ پارٹنر ہیں، ان کی کمپنی دنیا بھر میں اپنے کلائنٹس کو انویسٹمنٹ، معاشی منصوبہ بندی اور دیگر معاملات میں رہنمائی فراہم کرتی ہے، کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق ان کا دفتر امریکی شہر نیویارک میں واقع ہے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ رومیتا شیٹی کولمبیا یونیورسٹی کے ’گلوبل تھوٹ‘ ڈپارٹمنٹ کی ایڈوائزی کمیٹی کی بھی رکن ہیں، کولمبیا یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر موجود ان کی پروفائل کے مطابق وہ ’ڈی اے کیپٹل‘ کی منیجنگ ڈائریکٹر ہیں اور معاشی شعبے میں کام کرنے کا 27 سالہ تجربی رکھتی ہیں۔ وہ اس سے قبل رومیتا شیٹی ’ڈی اے کیپٹل‘ میں ہی صدر کی حیثیت سے بھی کام کرتی رہی ہیں۔ سال 2007 اور 2008 میں وہ امریکی انویسٹمنٹ کمپنی ’لیہمن برادز‘ میں بھی کام کرتی رہی ہیں، ڈی اے کیپٹل کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق رومیتا شیٹی نے بی اے آنرز انڈین دارالحکومت نئی دہلی کے سینٹ سٹیفن کالج سے کیا تھا اور اس کے بعد انہوں نے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کی ڈگری کولمبیا یونیورسٹی سے حاصل کی۔

رومیتا شیٹی کی جانب سے تحریک انصاف کو فنڈ دینے کے معاملے پر فواد چوہدری نے موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ دراصل پیسے انہوں نے نہیں بلکہ ان کے امریکی نژاد پاکستانی شوہر ناصر عزیز احمد نے دیے تھے لیکن چونکہ دونوں میاں بیوی کا بینک اکاؤنٹ مشترکہ تھا اس لیے رومیتا کا نام زیادہ اچھالا جا رہا ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کا جائزہ لیا جائے تو فواد چوہدری کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوتا ہے چونکہ یہ فنڈز رومیتا کے نام سے ہی آئے تھے۔

Related Articles

Back to top button