شرح سود میں اضافہ عام پاکستانی کو کیسے متاثرکرےگا؟

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود کو 16 سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے سے جہاں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے وہیں شہریوں کے قرضوں میں بھی راتوں رات اضافہ ہو گیا ہے۔ کراچی کے رہائشی یاسر محمود نے 2017 میں کرائے کے مکان سے جان چھڑا کر اپنا گھر لینے کی نیت سے نجی بینک سے 30 لاکھ کا قرض لیا تھا، انہوں  نےسوچا تھا کہ ہر مہینے گھر کے کرائے کی طرح بینک کی قسط ادا کر دیں گے تو 20 سال میں گھر اپنا ہو جائے گا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بیوی کے زیور فروخت کیے۔ اپنی جمع شدہ رقم اور بینک سے لیے قرض کو ملا کر کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں دو کمرے کا فلیٹ خریدا اور اہلخانہ کے ساتھ سکھ کا سانس لے کر فلیٹ میں رہائش اختیار کی، اس دوران ہر مہینے انکی تنخواہ آتی اور بینک کی قسط جمع ہو جاتی۔ لیکن بینک قرضوں پر شرح سود میں اضافے کے بعد اب انکا گھر چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے کیونکہ مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا ہے۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں ایک مرتبہ پھر ایک فیصد اضافے کے اعلان نے ان کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ جب انہوں نے قرض لیا تھا تو شرح سود 6 فیصد تھا، جو اب 17 فیصد تک پہنچ گئی ہے، انکا کہنا ہے کہ آمدنی تو بڑھی نہیں اور بینک کو ادائیگی کی رقم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لہذا موجودہ صورتحال میں بینک کی قسط بھرنی بھی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے اگلے روز اعلان کیا ہے کہ شرح سود 16 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کر دی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑھتی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے شرح سود میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں عوام کا گزارا مشکل سے مشکل ہو گیا ہے، مرکزی بینک کی جانب سے جو اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں وہ تشویشناک ہیں۔ شاہد کہتے ہیں کہ شرح سود میں اضافہ محض نمبروں کی تبدیلی نہیں ہے، اس کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑتا ہے، ایسے افراد جنہوں نے پرسنل لون لیا ہو، گاڑی قسطوں پر لی ہو یا پھر گھر کے لیے قرضہ لیا ہے، ان سب کے لیے ادائیگیوں میں اضافہ ہوگا، یہ اضافہ اصل رقم پر نہیں بلکہ اصل رقم کے ساتھ سود کی ادائیگی کی رقم کی مد میں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ افراط زر یعنی مہنگائی بڑھنے کی وجہ سے لوگوں کے لیے اب اشیا خورد و نوش کا حصول بھی مشکل ہو رہا ہے اور مہنگائی کے ستائے شہری اب اپنے بچوں کی تعلیم، صحت سمیت دیگر شعبوں میں سمجھوتا کرنے پر مجبور ہیں۔ شاہد صدیقی کا کہنا تھا کہ مرکزی بینک کے مطابق ملک میں مہنگائی 24.5 فیصد پر ریکارڈ کی گئی ہے جو پڑوسی ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عام آدمی کے لیے گزارا کرنا کس حد تک مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

معاشی امور کے ایک اور ماہر خرم شہزاد کے مطابق شرح سود میں اضافے کی ایک وجہ عالمی مالیاتی ادارے کی شرط بھی ہوسکتی ہے، انہوں نے کہا کہ صرف شرح سود میں اضافے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ روپے کو بھی اصل حالت میں بحال کرنا پڑے گا اور اوپن مارکیٹ ریٹ کے حساب سے ڈالر کی قیمت مقرر کرنی ہوگی۔ انکا کہنا تھا کہ ملک کی ترقی کی شرح کم ہے، ایسے میں شرح سود میں اضافے سے انڈسٹری کے لیے مزید مشکلات ہوں گی، ایک فیصد شرح سود بڑھنے کا اثر عام آدمی پر پڑتادکھائی دےگا۔

حکومت کا الیکشن نئی ڈیجیٹل مردم شماری پرکرانے کی حکمت عملی پرغور

Related Articles

Back to top button