کیا نون میں سے شین نکلنے کا کوئی امکان ہے؟

پنجاب کے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کے ہاتھوں ن لیگ کی شکست کے بعد سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ دراصل شہباز شریف کے ‘خدمت کو ووٹ دو’ کے بیانیے کی شکست تھی لہٰذا نوازشریف کو اپنی جماعت کی سیاسی ساکھ بحال کرنے کے لیے پاکستان واپس آ کر’ووٹ کو عزت دو’ کا بیانیہ دوبارہ سے اپنانا ہو گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شہباز اورنوازکے مفاہمتی اورمزاحمتی بیانیوں میں کشمکش پچھلے کئی برس سے جاری تھی لیکن بڑے بھائی کی ملک سے دوری کے باعث بالآخر چھوٹے بھائی کا بیانیہ غالب آیا اور وہ عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کر کے وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف عمران کو نکالنے کے بعد اقتدار لینے اور سابقہ حکومت کی ناکامیوں کا طوق اپنے گلے میں ڈالنے کے حق میں نہیں تھے اور فوری انتخابات چاہتے تھے، لیکن شہباز شریف کے اصرار پر انہوں نے حکومت چلانے پر اتفاق کر لیا۔ لیکن پنجاب کے ضمنی انتخابات میں نون لیگ کی شکست نے نواز شریف کے خدشات درست ثابت کر دیے۔

یاد رہے کہ نواز لیگ نے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کےان اراکین پنجاب اسمبلی کو پارٹی ٹکٹ دیے تھے جنہوں نے عمران خان سے بغاوت کرتے ہوئے حمزہ شہباز کووزارت اعلیٰ کے لیے ووٹ ڈالے تھے۔ ان الیکشنز میں نون لیگ نے نواز شریف کا ‘ووٹ کو عزت دو’ کا نعرہ پس پشت ڈالتے ہوئے شہباز شریف کا ایجاد کردہ ‘خدمت کو ووٹ دو’ کا بیانیہ اپنایا اوردھڑام سے منہ کے بل آ گری۔ ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد ایک مرتبہ پھر نواز شریف کی جانب سے یہ تجویز آئی کہ حکومت چھوڑکر فوراً ہی الیکشن میں جانے کا فیصلہ کیا جائے۔ لیکن شہباز شریف سمیت پی ڈی ایم قیادت نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ موجودہ ہوشربا مہنگائی کی لہر کے دوران حکومت چھوڑکر الیکشن میں جانا سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا۔ دوسری جانب عمران خان مسلسل شہباز حکومت پر فوری الیکشن کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں اوران کا کہنا ہے کہ حکومت اس لیے الیکشن نہیں کروانا چاہتی کہ اسے ڈرہے کہ تحریک انصاف دو تہائی اکثریت سے حکومت میں آ جائے گی۔

ایسے میں سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ الیکشن جب بھی ہوں، نواز شریف کی موجودگی کے بغیر مسلم لیگ کے لیے تحریک انصاف کا مقابلہ کرنا رسکی معاملہ ہوگا اور ضروری ہے کہ وہ الیکشن سے پہلے وطن واپس آکر ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ دوبارہ سے زندہ کریں۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ نواز شریف کی غیر موجودگی میں مسلم لیگ کی قیادت کرتے ہوئے وزیراعظم بن جانے والے شہباز شریف بڑے بھائی کی وطن واپسی کے بعد دوبارہ بیک سیٹ پر جانا قبول کرلیں گے۔ ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا مسلم لیگ کی اگلی سیاست نواز شریف کی اولاد نے آگے بڑھانی ہے یا شہباز شریف کی اولاد نے۔ یہ بھی یاد رہے کہ گجرات کے چوہدری برادران کے درمیان دوریاں پڑنے سے پہلے نواز شریف اور شہباز شریف کے بچوں کے درمیان بھی اختلافات کی افواہیں گردش کرتی رہی ہیں۔ ان افواہوں پر سب سے زیادہ بات شیخ رشید بات کرتے نظر آتے ہیں۔ شیخ رشید مسلسل کہتے ہیں کہ ’ن لیگ میں سے ش لیگ نکلے گی‘۔ یعنی نواز شریف سے علیحدگی اختیار کر کے شہباز شریف اپنی الگ جماعت بنا لیں گے۔

شیخ رشید کی یہ پیش گوئی تاحال حقیقت کا روپ نہیں دھار سکی اور شہباز شریف اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں وزیر اعظم بن چکے ہیں۔ لیکن نواز لیگ کے مزاحمتی دھڑے میں یہ تاثر ضرور پایا جاتا ہے کہ شہباز شریف کو انکے مفاہمتی بیانیے کی وجہ سے سیاسی میدان میں رہنے کی اجازت ملی جبکہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کو ان کے مزاحمتی بیانیے کی وجہ سے آؤٹ کر دیا گیا۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ کیا آگے جا کر شیخ رشید کی شریف برادران بارے پیش گوئی پوری ہو گی یا نہیں؟

شریف برادران سے ذاتی تعلق رکھنے والے سینئر صحافی سلمان غنی کہتے ہیں کہ انہیں دونوں بھائیوں کے درمیان علیحدگی ہوتی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے بتایا کہ جب سے میاں محمد شریف فوت ہوئے ہیں، شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کو ہی اپنے باپ کا درجہ دیتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ شریف خاندان کی کچھ روایات ہیں اور رکھ رکھاؤ ہے۔ میاں محمد شریف بھی سیاست میں ترجیح نواز شریف کو ہی دیتے تھے۔

آئی ایم ایف سے ڈیل میں تاخیر نے روپے کی کمر توڑ دی

سلمان غنی سے ملتی جلتی بات سابق فوجی آمر پرویز مشرف نے بھی اپنی کتاب ’ان دا لائن آف فائر‘ میں لکھی تھی۔ لیکن انکے الفاظ تعریفی بلکل نہیں تھے۔ وہ شریف خاندان کے گھر جانے کا قصہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’کھانے کے وقت میاں محمد شریف، ان کے دونوں بیٹے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اور شہباز شریف بھی موجود تھے۔ کھانے کے دوران ابا جی تسلسل سے اپنی رائے اور تجربات بیان کرتے رہے۔ دونوں بیٹوں میں سے کسی ایک کی بھی ہمت نہیں تھی کہ وہ انہیں روک سکیں یا اپنی رائے پیش کر سکیں۔‘ مشرف نے اپنی کتاب میں مزید لکھا ہے کہ ’بڑوں کی عزت کرنا ایک قابل تعریف قدر ہے لیکن وہ کوئی عام بیٹے تو نہیں تھے بلکہ ایک وزیراعظم تھا اور دوسرا وزیراعلیٰ۔ لیکن دونوں گونگوں کی طرح خاموش تھے‘۔

سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا بھی یہی کہنا ہے کہ شہباز شریف بحیثیت بڑے بھائی نواز شریف کا بے حد احترام کرتے ہیں اور نواز شریف سے علیحدگی اختیار کرنے میں انکا سیاسی فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شہباز شریف کو اپنے بھائی کا اعتماد حاصل نہ ہوتا تو آج وہ وزیراعظم نہ ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست اور رکھ رکھاؤ نواز شریف کا خاصہ ہے جبکہ شہباز شریف ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر مشہور ہیں۔ ویسے بھی عمومی تاثر یہی ہے کہ شہباز بطور وزیر اعلیٰ اس لیے کامیاب رہے کہ پہلے ان کے اوپر نواز شریف وزیر اعظم ہوا کرتے تھے۔ شہباز شریف بھلے ہی پہلی بار وزیراعظم بنے ہوں لیکن ایسا نہیں کہ اس سے قبل انہیں وزارت اعظمیٰ کی پیشکش نہیں کی گئی تھی۔ سلمان غنی کہتے ہیں کہ 1999 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت گراتے وقت مشرف نے شہباز شریف کو پیش کش کی تھی کہ وہ اگر نواز سے علیحدہ ہو جائیں تو وزیراعظم بن سکتے ہیں لیکن شہباز نے یہ پیشکش ماننے سے انکار کر دیا۔‘

یاد رہے کہ پانامہ لیکس کیس میں نواز شریف کی نااہلی، سزا اور پنجاب اور وفاق میں عمران خان کی حکومت قائم ہونے کے بعد نواز شریف نے واضح اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اپنایا اور تلخی اس حد تک پہنچ گئی کہ انہوں نے گوجرانوالہ میں ایک جلسے کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور تب کے ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید تک کا نام لے دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کی سوچ سے برملا اختلاف کرتے ہوئے نظر آئے۔ جولائی 2021 میں شہباز شریف کامران خان کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ’ٹکراؤ ہمارا راستہ نہیں، اسے مشاورت ہی ہونا چاہیے کیونکہ اس کے بغیر یہ ملک آگے نہیں چل سکتا۔‘ کامران خان کے اس سوال پر کہ کیا وہ نواز شریف کو فوج سے مفاہمت پر قائل کرلیں گے؟ شہباز شریف نے کہا تھا کہ ’وہ میرے بڑے بھائی ہیں، وہ میرے لیڈر ہیں اور میرے والد کی جگہ ہیں۔ اگر مجھے قومی مفاد کے لیے ان کے پاؤں بھی پکڑنے پڑے تو میں پکڑ لوں گا۔‘

یہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں کہ شہباز شریف ہمیشہ سے مزاحمت کی بجائے اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کی پالیسی اپنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ لیکن سلمان غنی کے مطابق نواز شریف کا مزاحمتی بیانیہ شاید شہباز شریف کے بیانیے سے بہتر تھا۔ عمران خان کی حکومت کے خاتمے سے پہلے ن لیگ کے ٹکٹ کی بہت مانگ تھی، لیکن اقتدار سے نکلنے کے بعد وہی بیانیہ عمران نے اپنا لیا اور پنجاب اسمبلی کی 20 میں سے 15 سیٹیں جیت لیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگلے الیکشن میں شہباز کا بیانیہ چلے گا یا نواز کا؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ان کی رائے میں دونوں بھائیوں کے مابین کوئی بڑا اختلاف نہیں اور دونوں ’گڈ کوپ اور بیڈ کوپ‘ کا کردار اتفاق رائے سے ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں بھائیوں میں نفاق کی افواہیں دو دہائیوں سے چل رہی ہیں لیکن شہباز شریف وزیر اعظم بھی بن گئے اور دونوں بھائی آج بھی ایک ساتھ ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ شہباز شریف الگ سوچ رکھنے کے باوجود کبھی نواز شریف کا حکم نہیں ٹالتے اور اسی طرح شہباز شریف بھی اکثر انہیں اپنی بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ نوازشریف کی ممکنہ وطن واپسی کے بعد کیا شہباز شریف بیک سیٹ لے لیں گے؟ سلمان غنی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ نواز شریف کی وطن واپسی یا نااہلی ختم ہونے کی صورت میں شہباز خاموشی سے واپس پچھلی سیٹ پر جاکر بیٹھ جائیں گے اور یہ فیصلہ بھی وہی کریں گے کہ اگلی سیاست میں مریم نواز اور حمزہ شہباز کا کیا کردار ہوگا۔

Related Articles

Back to top button