کیا افغان طالبان کو TTP پاکستان سے زیادہ عزیز ہے؟

پاکستان کی جانب سے بار بار کے مطالبے کے باوجود افغان طالبان اپنی سرزمین پر پناہ لیے ہوئے تحریک طالبان کے جنگجوؤں کو پاکستان مخالف دہشت گردی کی کارروائیوں سے روکنے میں ناکام ہیں حالانکہ اسلام آباد نے کابل کی خواہش پر ٹی ٹی پی والوں سے مذاکرات بھی کر دیکھے۔

پاکستانی سفارتی ذرائع کے مطابق افغانستان کی طالبان حکومت کا موقف یے کہ ٹی ٹی پی والے انہیں میراث میں ملے ہیں اور ان کی نظر میں یہ ایک بوجھ ہیں۔ تاہم افغان حکومت کے بقول ان کے لیے یہ بھی ممکن نہیں کہ ریاست پاکستان کے مطالبے پر ٹی ٹی پی والوں کو افغانستان سے نکالے یا پاکستان کے حوالے کرے۔
سکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کا موقف دراصل واضح کرتا ہے کہ اسے پاکستان سے ذیادہ پاکستانی طالبان عزیز ہیں جس کی ایک بڑی وجہ نطریاتی اور مذہبی تعلق ہے۔

سفارتی ذرائع بتاتے ہیں کہ جب اگست 2021 میں طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد قندھار میں شوری کا پہلا اجلاس ہو رہا تھا تو وہاں ہونے والی تقاریر میں کہا گیا کہ شریعت کی رو سے افغان طالبان کو کسی اور کو اپنی جہادی سرگرمیوں سے منع کرنے کا حق نہیں۔ اجلاس میں طالبان کے مذہبی سکالروں یعنی شیوخ کی تجاویز میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسلامی نظام پر کسی کا دباؤ برداشت نہ کیا جائے اور نہ حکومت میں کسی اور کو جگہ دی جائے۔

اسی سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے افغان طالبان کی حکومت کے لیے پاکستانی طالبان پر افغانستان سے چلے جانے یا پاکستانی کے خلاف دہشت گردی بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ممکن نہیں۔ اس لئے افغان طالبان کی بھرپور کوشش تھی کہ ریاست پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مابین مزاکرات ہوں۔ دوسری جانب پاکستان نے طالبان کی خواہش تسلیم کرتے ہوئے ٹی ٹی پی سے مذاکرات بھی کیے لیکن اس کے غیر حقیقی مطالبات کی وجہ سے ناکام ہو گے۔ ماضی میں بھی ایسی کئی کوششیں ناکامی پر منتج ہوئیں۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے ایک اعلیٰ عہدے دار کے بقول ہم نے پاکستان، چین اور ازبکستان کے رہنماؤں کو ملاقاتوں میں مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے مسلح گروپس کے ساتھ سیاسی عمل کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں اور اسلامی امارت افغانستان کی حکومت اس میں تعاون اور سہولت کاری کرسکتی ہے۔ افغان طالبان کے بقول چین کا اپنے مسلح مخالفین سے متعلق موقف بہت سخت ہے اور وہ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکاری ہیں۔

ازبکستان کا بھی یہی موقف ہے کہ ان کے شدت پسندوں نے بہت جرائم کیے ہیں اور ان کے ساتھ مصالحت مشکل ہے۔ تاہم افغان عہدے دار کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رہنماؤں نے تحریک طالبان پاکستان کو اسلام آباد کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی تجويز پيش کی تھی اور یہ عمل شروع بھی ہو گیا تھا اور اعتماد سازی کے لیے نومبر میں ایک ماہ کی جنگ بندی ہوئی تھی۔

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات بند ہیں لیکن اگر دونوں فریق مذاکرات میں اپنے سخت موقف پر قائم رہے تو معاملہ پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ اگرچہ طالبان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کسی کو بھی دوسرے ملک کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔لیکن پاکستان شاید اس طرح کے بیانات سے مطمئن نظر نہیں آتا۔

افغانستان سے فائرنگ میں 5 پاکستانی فوجی ہلاک

بلوچستان کے علاقوں نوشکی اور پنجگور میں فوجی مراکز پر حالیہ حملوں کے بعد پاکستان فوجی ترجمان کے بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور افغانستان اور بھارت میں اپنے منصوبہ سازوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔ افغان طالبان نے پاکستان فوج کے بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

خیال رہے کہ پاکستانی طالبان افغان طالبان کے امیر کو اپنا امیر سمجھتے ہیں اور یہ سلسلہ 2007 میں بیت اللہ محسود اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے ٹی ٹی پی کی تشکیل کے وقت سے چلا آ رہا ہے۔ ٹی ٹی پی کے بننے سے بہت پہلے جب افغانستان میں غیر ملکی افواج کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا تو افغان طالبان کے جنگجو قبائلی علاقوں

میں پاکستانی شدت پسندوں کے مہمان تھے اور ایک لحاظ سے پاکستانی طالبان اب افغان طالبان کے مہمان ہیں۔ افغان طالبان کی مہمان نوازی کی مثال ملا عمر نے اسامہ بن لادن کی مہمان نوازی کی صورت میں قائم کی کہ اپنی حکومت کو قربان کر کے امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ 20 سال تک جنگ لڑی۔

دفاعی مبصرین سمجھتے ہیں کہ ٹی ٹی پی والے اب افغانستان میں ماضی کی نسبت زیادہ آزادی محسوس کرتے ہیں، کیونکہ امریکی ڈرون حملوں کا خطرہ تقریباً ٹل گیا ہے۔ اب ٹی ٹی پی کے لیے سابق افغان فورسز کے آپریشن کا خطرہ بھی باقی نہیں رہا اور ملا فقیر محمد، مفتی خالد بلتی جیسے اہم رہنماؤں سمیت ٹی ٹی پی کے سینکڑوں شدت پسند افغان طالبان کے اگست میں جیلوں پر حملوں کے بعد رہا ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور عوام کی اکثریت کا خیال تھا کہ افغان طالبان کے آنے کے بعد پاکستان میں تشدد کے واقعات میں کمی آئے گی لیکن معاملہ کچھ مختلف ہی ہوگیا۔

ٹی ٹی پی نے نو دسمبر 2021 کو ایک ماہ کی جنگ بندی میں توسیع کرنے سے انکار کے بعد پاکستان میں دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔ ٹی ٹی پی سے تقریباً تمام ناراض گروپس، جن میں جماعت الاحرار اور حزب الاحرار شامل ہیں، واپس ٹی ٹی پی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایسے میں افغان طالبان حکومت پاکستان کو مسلسل مایوس کر رہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button