کیا پاکستانی ریاست کی رٹ نیا آرمی چیف بحال کرے گا؟

عمران خان کے ساتھیوں کا نام نہاد لانگ مارچ سڑکیں بند کرنے کی وجہ سے پاکستانی عوام کے لیے جو مشکلات پیدا کر رہا ہے انکا احاطہ کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ ریاست رٹ کا نام ہوتا ہے۔

اگر اس رٹ کو چار لوگ ڈنڈے اٹھا کر چیلنج کر دیں اور انہیں کوئی روکنے والا نہ ہو تو ایسی ریاست ریاست کیسے کہلا سکتی ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ حکومت خاموش ہے اور تماشہ دیکھ رہی ہے جبکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی نئے آرمی چیف کے انتظار میں ہے کہ وہ آئیں گے تو پاکستان کی قسمت کا فیصلہ ہو گا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ عمران خان ہسپتال میں لیٹ کر احتجاج کا اعلان کرتے ہیں‘ جسکے بعد چند سو لوگ سڑکوں پر نکلتے ہیں اور پورا ملک بند ہو جاتا ہے‘ کیا ملک ایسے ہوتے ہیں اور کیا ملک اس طرح چل سکتے ہیں؟ یہ ملک ہے یا سرکس ہے؟ عمرانڈوز کی جانب سے راولپنڈی میں بڑی سڑکوں کے عین درمیان میں ٹینٹ لگا کر ٹریفک بلاک کر دی جاتی ہے، اس ٹینٹ میں سارا دن ایک درجن لوگ بھی نہیں ہوتے‘ وہ لوگ جو آج سے چھ ماہ پہلے تک وفاقی وزیر تھے‘ جو آج بھی سینیٹر اور ایم این اے ہیں وہ سڑکیں بلاک کر دیتے ہیں۔

پنجاب اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر واثق عباسی، جو آئین و قانون کا چوکیدار ہے، وہ خود موٹروے پر ٹائر جلانے کے بعد ٹریفک روک کر کرکٹ کھیل رہا ہے‘ سابق وفاقی وزیر غلام سرور خان ٹیکسلا کے قریب خیبر پختونخوا اور اسلام آباد کا روٹ بند کر کے بیٹھے ہیں، ایسے میں جب کوئی مظلوم شہری کہتا ہے کہ میری بیٹی ہسپتال میں ایمرجنسی میں ہے اور میرے گھر کی خواتین گاڑی میں بیٹھی ہیں تو وہ بڑی نفرت سے جواب دیتے ہیں کہ ہم سب ایمرجنسی میں ہیں یعنی اگر تمہاری بیٹی مرتی ہے تو مر جائے، ہم خان کے حکم کے مطابق سڑک نہیں کھول سکتے۔

جاوید چوہدری سوال کرتے ہیں کہ سڑکوں کی اس بندش سے کتنے لوگوں کو تکلیف ہوئی‘ کیا اس ملک میں کوئی ادارہ‘ کوئی شخص یہ سوچ رہا ہے؟ کتنے مریض ایمبولینسوں میں مر رہے ہیں‘ کتنے اسٹوڈنٹس کالجوں اور یونیورسٹیوں تک نہیں پہنچ پا رہے‘ کتنے طالب علم امتحانوں سے محروم ہیں اور کتنے لوگ دفتروں‘ فیکٹریوں اور مزدوری کی جگہوں تک نہیں پہنچ پائے اور کتنے اربوں روپے کی مشینری‘ فروٹ‘ سبزیاں اور اجناس ٹرکوں میں خراب ہو گئیں۔

ان سب سے بڑھ کر یہ بے یقینی قوم کی نفسیات پر کتنا اثر ڈال رہی ہے اور لوگ اندرونی اور بیرونی کس حد تک مریض ہو چکے ہیں‘ کیا کوئی سوچ رہا ہے‘ کیا کسی کو احساس ہے؟ بقول جاوید، آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے ہم قومی سطح پر پاگل پن کا شکار ہیں‘ ریاست عملاً ختم ہو چکی ہے‘ ملک میں اس وقت انارکی کے علاوہ کوئی قانون نہیں چل رہا‘ وفاقی حکومت صرف تماشا دیکھ رہی ہے‘ فوجی اسٹیبلشمنٹ نئے چیف کا انتظار کر رہی ہے‘ وہ آئیں گے تو ملک کے مقدر کا فیصلہ ہو گا۔

دوسری جانب عمران خان اپنی مرضی کا آرمی چیف چاہتے ہیں اور وہ اس کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ پنجاب 12 کروڑ لوگوں کا صوبہ ہے‘ لیکن چیف سیکریٹری کے بغیر چل رہا ہے جب کہ آئی جی نے تحریراً کام سے معذرت کر لی ہے اور کوئی پولیس افسر پنجاب میں آئی جی لگنے کے لیے تیار نہیں‘ چوہدری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ ہیں لیکن کیا یہ کل کے دن بھی چیف منسٹر ہوں گے‘ یہ نہیں جانتے‘ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے‘ پولیس بھی ان کے ماتحت ہے‘ پنجاب میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہو جاتا ہے‘ ان کا جاں نثار ابتسام ملزم کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیتا ہے۔

عمران خان ابتسام کو بلا کر شاباش بھی دیتے ہیں اور ان کے گھر جانے کا اعلان بھی کرتے ہیں‘ ملزم نوید احمد انکی پولیس اور انکی سی ٹی ڈی کے قبضے میں ہے‘ اس کی نشان دہی پر چار اور لوگ بھی گرفتار کر لیے جاتے ہیں لیکن ایف آئی آر سپریم کورٹ کے حکم پر درج ہوتی ہے اور پی ٹی آئی اس ایف آئی آر کو بھی نہیں مانتی‘ اعظم سواتی کا واقعہ ہوا۔ اس سے پہلے سینئر صحافی ارشد شریف کینیا میں قتل ہو گئے۔

نوازشریف آرمی چیف کا انتخاب کس بنیاد پرکرتے ہیں؟

حکومت نے کمیشن بنایا لیکن جسٹس عبدالشکورپراچہ نے کمیشن کی سربراہی سے معذرت کر لی اور ارشد کی والدہ کمیشن کے خلاف عدالت چلی گئیں‘ حالات یہ ہیں کہ سپریم کورٹ فیصلہ دیتی ہے تو کبھی پی ٹی آئی نہیں مانتی اور کبھی حکومت انکار کر دیتی ہے‘ الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر دونوں کو گالیاں پڑ رہی ہیں اور عمران خان گھر میں بیٹھ کر اعلان کر رہے ہیں ’’نواز شریف اپنا آرمی چیف لانا چاہتا ہے‘‘۔جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ایسے میں آپ ہی بتائیے کہ کیا پاکستانی ریاست کو ریاست کہنا چاہیے۔

ریاست رٹ کا نام ہوتا ہے اور اگر اس رٹ کو چار لڑکے ڈنڈا اٹھا کر چیلنج کر دیں یا درجن بھر لوگ روڈپر ٹینٹ لگا کر گھر چلے جائیں اور کسی ادارے میں ٹینٹ اکھاڑنے کی ہمت نہ ہو تو کیا وہ ریاست ‘ریاست رہ جاتی ہے اگر ہاں تو پھر آپ کو مبارک ہو اور اگر نہیں تو کیا پھر ہم پاکستان کو ڈیفالٹ سمجھ لیں‘ ہم اس کو آج سے ملک سمجھنا بند کر دیں؟ جواب دیجئے اور اگر جواب نہیں دے سکتے تو ایک لمحے کے لیے سوچ ضرور لیں۔

Related Articles

Back to top button