جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کیس اور کتنا عرصہ لٹکے گا؟

سابق چیف جسٹس گلزار احمد کی طرح موجودہ چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے اپنی برطرفی کے خلاف دائر کردہ درخواست کو سرد خانے کی نذر کر رکھا ہے اور چار برس گزر جانے کے باوجود کیس کا فیصلہ نہیں کیا جا رہا۔

ملک ریاض نے عمران کو کتنے ارب کی زمین رشوت دی؟

یاد رہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی زیر قیادت سپریم جوڈیشل کونسل شوکت عزیز صدیقی کو راولپنڈی بار میں ایک تقریر کے دوران آئی ایس آئی کے سیاسی کردار پر تنقید کرنے کی پاداش میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے فارغ کردیا گیا تھا۔ تب شوکت عزیز صدیقی نے الزام لگایا تھا کہ فیض حمید نے ان پر نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف مرضی کے فیصلے لینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا جسے انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔

اب سپریم کورٹ نے ایک لمبے وقفے کے بعد جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر کرتے ہوئے لارجر بینچ تشکیل دیدیا ہے۔ واضح رہے کہ شوکت عزیز صدیقی نے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ 13 جون کو کیس کی سماعت کرے گا۔ اس بنچ میں چیف جسٹس کیساتھ جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس مظہر عالم، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سردار طارق شامل ہوں گے۔ عدالت عالیہ نے اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو اس سلسلے میں نوٹس جاری کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ جج بننے سے پہلے جسٹس شوکت صدیقی نے عملی سیاست میں حصہ لیتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے ٹکٹ پر راولپنڈی سے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا۔ پرویز مشرف کے آمرانہ دور میں عدلیہ کی بحالی کے لیے چلنے والی وکلا تحریک میں بھی وہ دیگر وکلا کے شانہ بشانہ موجود تھے۔ ان کا نام تب بھی میڈیا میں آیا تھا جب انہوں نے ویلنٹائن ڈے کے موقع پر ہونے والی تقریبات پر پابندی عائد کر دی تھی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 2016 میں پی ٹی آئی کو اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے دھرنا دینے سے روکا تھا۔ شکرپڑیاں کے قریب پریڈ گراونڈ کو ‘ڈیموکریسی پارک’ اور ‘اسپیچ کارنر’ کا نام بھی اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے حکم پر ہی رکھا۔ یہ جگہ احتجاج کیلئے مختص کی گئی ہے، جب کہ اسی گراؤنڈ پر پاکستانی افواج اپنی سالانہ پریڈ کرتی ہیں۔ برطرفی کے وقت شوکت عزیز صدیقی جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بعد سینیر ترین جج تھے، انہوں نے سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ مواد کا نوٹس بھی لیا تھا۔ اگر انہیں برطرف نہ کیا جاتا تو وہ جسٹس اطہر من اللہ کی جگہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہوتے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے پرویز مشرف کے خلاف 3 نومبر 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے بعد ججز کو نظر بند کرنے کے مقدمے میں پولیس حکام کو انسداد دہشت گردی کی دفعات کا اضافہ کرنے کا بھی حکم دیا جب پرویز مشرف ضمانت کے لیے ان کی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سابق جج جسٹس شوکت صدیقی کو 21 نومبر 2011 کو پنجاب کے کوٹے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پہلا ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا، جس کے بعد اُنہیں مستقل جج مقرر کردیا گیا تھا۔ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ایک شکایت پر سابق جسٹس شوکت صدیقی کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے صدر سے سفارش کی تھی ان کو عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ اس سفارش پر عمل کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے اکتوبر 2018 میں ان کو برطرف کر دیا تھا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے جولائی 2018 میں راولپنڈی بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مبینہ طور پر فوج کے خفیہ ادارے عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں اور اپنی مرضی کے بینچ بنوا کر اپنی مرضی کے فیصلے لیتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ فوج کے خفیہ اداروں کی مداخلت کی وجہ سے اُنہیں نواز شریف کو احتساب عدالت سے ملنے والی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کرنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے بینچ میں شامل نہیں کیا گیا۔ شوکت عزیز صدیقی نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ فیض حمید نے جو اس وقت ڈپٹی ڈی جی آئی ایس آئی تھے، فیض آباد دھرنے سے متعلق مقدمے میں ان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔

پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے درخواست کی تھی کہ وہ اس بارے میں ایکشن لیں۔ان بیانات کے روشنی میں وزارت دفاع کی طرف سے ایک شکایت سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کی گئی تھی جس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے کارروائی کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب پاتے ہوئے اور صدر مملکت کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے چار سال پرانے کیس کا فیصلہ کب کرتی ہے؟

Related Articles

Back to top button