عمران کی میجر جنرل فیصل نصیر کو ملنے کی خواہش کا انکشاف

آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلی جنس میجر جنرل فیصل نصیر پر قاتلانہ حملے کی سازش کا الزام لگانے والے عمران خان کے بارے میں اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ حملے سے پہلے اور اس کے بعد بھی فیصل نصیر کے ساتھ ملاقات کی کوششیں کرتے رہے اور اس مقصد کے لیے انھوں نے اپنے ایک قریبی دوست کی ڈیوٹی لگا رکھی تھی۔

یہ انکشاف عمران خان کے قریبی ساتھی اور تحریک انصاف کے رہنما میجر (ر) خرم حمید روکھڑی نے کیا ہے۔ حامد میر کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ عمران خان کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے پہلے میں نے خود فیصل نصیر سے ملاقاتیں کیں اور پھر میں گلوکار سلمان احمد کو بھی ساتھ لے کر گیا۔

عمران نے جنرل باجوہ کو کونسے چارمطالبات پیش کئے تھے؟

جس کی تصدیق سلمان پہلے ہی ایک ویڈیو بیان میں کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عمران کی خواہش پر انکی میجر جنرل فیصل نصیر سے ایک نہیں بلکہ تین ملاقاتیں ہوئیں، انہوں نے بتایا کہ فیصل نصیر سے ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ شہباز گل کی گرفتاری کے بعد شروع ہوا، ان ملاقاتوں میں فیصل نصیر نے کہا آپ اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں لیکن سٹیج پر کھڑے ہو کر فوج کے جرنیلوں اور شہداء کو گالیاں دینا چھوڑ دیں۔

میجر خرم حمید روکھڑی نے کہا کہ فیصل نصیر نے عمران خان سے ملاقات پر آمادگی کا اظہار کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود خان صاحب نے وزیر آبادمیں حملے کے بعد ان پر سنگین الزامات عائد کر دیے لہٰذا میں نے ملاقات کروانے سے انکار کر دیا۔

انکا کہنا تھا کہ عمران کا فیصل نصیر پر قاتلانہ حملے کا الزام غلط ہے، معاملے کی بیک گرائونڈ بتاتے ہوئے روکھڑی نے کہا کہ ایک روز ہم بنی گالہ بیٹھے تھے جب عمران خان نے کہا کہ میرا بیانیہ اور میری پارٹی کو ختم کرنے کیلئے فیصل نصیر کو ڈی جی “سی” پوسٹ کیا گیا ہے، اس پر میں نے کہا کہ فیصل نصیر ایک بااصول اور پروفیشنل آدمی ہے، اور وہ وزیر آباد کے قاتلانہ حملے میں ملوث نہیں ہے۔

میرا موقف تھا کہ ہمیں فوجی اسٹیبلشمنٹ پر الزامات لگانے کی بجائے اس کے ساتھ چلنا چاہیے، لہٰذا عمران نے میرے ذمے لگایا کہ میں میجر جنرل فیصل نصیر سے ملاقات کروں اور اور معاملات بہتر بناؤں۔ اسکے بعد میں نے عمران کی مرضی سے فیصل نصیر سے ملاقاتیں کیں۔

خرم حمید روکھڑی نے بتایا کہ جب میں نے فیصل نصیر سے پوچھا کیا آپ پی ٹی آئی ختم کرنے آئے ہیں تو انہوں نے کہا آپ کو کیا ہوگیا ہے، کیا آپ مجھے نہیں جانتے، عمران سب سے بڑی پارٹی کا لیڈر ہے اور ملک کا ہیرو ہے میں کیوں ایسا چاہوں گا، انکا کہنا تھا کہ اگر عمران سے کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں تو انہیں بتائیں ایسی کوئی بات نہیں ہے، جنرل فیصل نصیر میرے کہنے پر عمران سے ملاقات کیلئے تیار تھے، میں نے عمران کو بتادیا کہ جنرل فیصل نصیر آپ کے خلاف نہیں، وہ ایک سچا اور کھرا انسان ہے لہذا مل کر غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا چاہیے۔

تاہم جب دونوں کی ملاقات سے پہلے ہی وزیرآباد کا واقعہ ہو گیا اور عمران نے فیصل نصیر کو ملزمان میں شامل کر دیا۔ حملے کے بعد ایک بار پھر مجھے فیصل سے ملاقات کروانے کیلئے کہا گیا مگر میں نے صاف انکار کر دیا۔ خرم روکھڑی نے کہا کہ عمران کے اردگرد خوشامدی ٹولہ ہے، جو انہیں جھوٹی کہانیاں سناتا رہتا ہے اور خان صاحب ان پر یقین کر کے چلتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خان کا جنرل فیصل نصیر پر قاتلانہ حملے کا الزام سراسر غلط ہے، وہ عمران کے ساتھ بیٹھ کر تمام معاملات کو سیاسی استحکام کی طرف لے کر جانا چاہتے تھے۔ لیکن اب بات اتنی بڑھ گئی ہے کہ میں کسی قسم کا مفاہمتی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔

Related Articles

Back to top button