دبئی میں مرنے والا مقصود چپڑاسی کون تھا اور کیسے مرا؟

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کو مطلوب 49 سالہ ملک مقصود عرف مقصود چپڑاسی نامی شخص کی دبئی میں موت سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔ پاکستان میں مقصود چپڑاسی اس لیے معروف تھا کہ وزیراعظم عمران خان اپنی ہر دوسری تقریر میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر الزام لگاتے ہوئے اس کا نام دہراتے تھے۔ مقصود چپڑاسی کی موت کی تصدیق نہ صرف ایف آئی اے کے پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ نے کی ہے بلکہ دبئی حکام کی جانب سے جاری ہونے والے ڈیتھ سرٹیفکیٹ سے بھی اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے۔

پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل سے بلوچ نوجوان کس نے اغوا کیا؟

تحریک انصاف کے سابق وزیر فرخ حبیب کی جانب سے ملک مقصود کی موت کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس پراسرار موت کی تحقیقات کروانی چاہئیں۔ اس الزام کا جواب دیتے ہوئے نون لیگ کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ملک مقصود کی موت طبعی طور پر ہوئی ہے اور دبئی حکام نے اسکے ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں بڑے واضح الفاظ میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے، لہذا سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی خاطر اتنا نہیں گرنا چاہیے۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے مطابق ملک مقصود کی وفات 7 جون کو طبعی طور پر ہوئی تھی۔

مقصود نامی یہ پاکستانی شہری کون تھا اور اس کا نام پاکستان میں جاری سیاسی کشمکش میں اتنا اہم کیوں تھا؟ اردو نیوز نے اس بابت کچھ بنیادی حقائق کا سراغ لگایا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ مقصود اصل میں تھا کون۔ ملک مقصود کا نام پہلی مرتبہ تب سامنے آیا جب 2018 میں نیب نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خاندان کے خلاف کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کا آغاز کیا۔ تب ملک مقصود کا نام میڈیا کی زینت تو زیادہ نہیں بنا تاہم نیب کی تحقیقات میں وہ اس حیثیت میں سامنے آئے کہ ان کے نام یبنک اکائونٹس میں بھاری رقوم کا تبادلہ ہوتا رہا۔ 2021 میں جب ایف آئی اے نے تب کے اپوزیشن لیڈر اور موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف بینکنگ جرائم کا مقدمہ بنایا تو اس وقت سابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے ایک طویل پریس کانفرنس کی اور الزام عائد کیا کہ ملک مقصود اصل میں رمضان شوگر ملز میں چپڑاسی تھا، اور شریف خاندان نے رقوم ادھر ادھر کرنے کے لیے اسکا نام اور بینک اکائونٹ استعمال کیا۔ ایف آئی اے اس کیس کی تحقیقات مکمل کر چکا ہے اور چالان بھی عدالت میں پیش ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز اس مقدمے میں تواتر سے عدالت میں پیش بھی ہو رہے ہیں۔تاہم وزیراعظم کے دوسرے بیٹے سلمان شہباز سمیت دیگر شریک ملزمان جن میں ملک مقصود بھی شامل ہیں، کو عدالت نے اشتہاری قرار دے رکھا ہے کیونکہ وہ نہ تو تفتیش میں شریک ہوئے اور نہ ان کا ٹرائل شروع ہو سکا۔

ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں داخل کیے جانے والے چالان کے مطابق ملک مقصود نے 1992 میں چوہدری شوگر ملز میں بطور چپڑاسی ملازمت اختیار کی۔ اس کے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیٹیوشن ریکارڈ کے مطابق بھی اسکا عہدہ چپڑاسی کا تھا۔ چوہدری شوگر ملز کے بند ہونے کے بعد مقصود نے رمضان شوگر ملز میں ملازمت اختیار کی، تاہم ای او بی آئی ریکارڈ کے مطابق اس کا عہدہ چپڑاسی کا ہی رہا۔ ایس ای سی پی میں اسکے نام کی ایک کمپنی مقصود اینڈ کو کے نام سے رجسٹرڈ ہے۔ ایف آئی اے کے چالان کے مطابق اسی کمپنی کے اکاؤنٹ سے اس نے تین ارب 40 کروڑ روپے کا لین دین کیا۔ جبکہ 2018 میں رمضان شوگر ملز سے ان کی آخری تنخواہ جو جاری ہوئی وہ 21 ہزار روپے تھی۔ ملک مقصود کے شناختی کارڈ کے مطابق وہ لاہور کے علاقے ماڈل کالونی کے رہائشی تھے۔ ان کی رہائش گاہ پراب کوئی اور خاندان رہائش پذیر ہے۔ ملک مقصود کا کوئی رشتے دار بھی ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

سال 2018 میں وہ دبئی روانہ ہو گئے تھے اور اپنی وفات تک وہیں پر رہائش پذیر تھے۔ ان کے خلاف مقدمے کے پراسیکیوٹر فاروق باجوہ نے بتایا ’ملک مقصود پر ہمارا مقدمہ یہ ہے کہ ان کے اکاؤنٹ میں اتنے بڑے پیمانے پر رقم کیوں آتی رہی اور وہ آگے کیوں بھیجتے رہے۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ رقم غیر قانونی تھی؟ تو فاروق باجوہ کا کہنا تھا ’رقم کی پوری منی ٹریل موجود ہے کیونکہ یہ بینک کے ذریعے ٹرانسفر ہوئی تھی اور ساری رقوم کا ملک کے اندر ہی لین دین ہوا۔ ہمارا مقدمہ ہے کہ جب ان کی تنخواہ صرف 21 ہزار ہے تو وہ اربوں روپے کے لین دین کے لیے اپنے اکاؤنٹس کیوں استعمال کرواتے رہے۔‘

ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر سے جب پوچھا گیا کہ کیا کوئی ٹرانزیکشن شریف خاندان سے براہ راست ان کے اکائونٹ میں ہوئی؟ تو فاروق باجوہ کا کہنا تھا ’ہمارے چالان میں ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔ براہ راست کوئی ٹرانزیکشن نہیں ہے البتہ وہ شریف فیملی کی مل کے ملازم ضرور تھے۔ ان کا خاندان اور دیگر کوئی رشتہ دار بھی کبھی سامنے نہیں آیا نہ وہ ایف آئی اے کی تفتیش میں شامل ہوئے۔‘

Related Articles

Back to top button