فوج مخالف عمران کی آخری امید بھی فوج ہی کیوں ہے؟

جنرل قمر باجوہ کی مہربانی سے وزیراعظم بننے والے عمران خان آج سابق آرمی چیف پر اپنی حکومت گرانے کی سازش کرنے کا الزام تو عائد کرتے ہیں لیکن وہ اقتدار میں واپسی کے لیے بھی اسی اسٹیبلشمنٹ کی جانب ہی دیکھ رہے ہیں اور اسی لیے اسکا سیاسی کردار ختم کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ فوج کی سیاست میں مداخلت کی ابتدا جنرل ایوب خان کے دور سے شروع ہوئی۔ انکے بقول ’’ہماری بنیادی غلطی ایوب خان کو مرکزی کابینہ میں بحیثیت آرمی چیف وزیر دفاع بنانا تھا جس کے کچھ عرصہ بعد ہی اس نے ملک میں مارشل لا لگا دیا اور فوجی مداخلتوں کا سلسلہ چل نکلا‘‘۔ جنرل حمید گل نے کئی بار اعتراف کیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی غیر معمولی مقبولیت کو روکنے کیلئے انہوں نے 1988 کے الیکشن کے وقت ان کے مخالفین کو اکٹھا کرکے اسلامی جمہوری اتحاد بنوایا۔ یہ مداخلت پھر کبھی ختم نہ ہوئی بلکہ بڑھتی ہی چلی گئی جس کا نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہیں۔

مظہر عباس کے بقول ایسا نہیں کہ سیاست دانوں سے غلطیاں نہیں ہوئیں، شاید ایک بڑی غلطی 1974میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی ISI میں سیاسی سیل بنانا تھی اور دوسری جنرل ضیاالحق کو سات جرنیلوں پر ترجیح دے کر آرمی چیف بنانا۔ ایسی غلطیاں بعد میں نواز شریف اور خود عمران خان سے بھی ہوئیں جنہوں نے پہلے جنرل قمر باجوہ کو آرمی چیف بنایا اور پھر توسیع بھی دے ڈالی۔ 1990 کے الیکشن میں بے نظیر بھٹو کو ہرانے کے لیے ان کے مخالف سیاستدانوں میں فنڈز تقسیم کرنے کے کیس میں کئی سال بعد سپریم کورٹ میں یہ جواب تو جمع کرایا گیا کہ اب سیاسی سیل بند کر دیا گیا ہے مگر بعد کے واقعات کچھ اور بتاتے ہیں، اگر سیل بند بھی کر دیا گیا تھا تو کم از کم آئی ایس آئی کی مداخلت بند نہ ہوئی، چنانچہ سیاسی جماعتیں بنانے اور توڑنے کا عمل جاری رہا۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ اس وقت دو سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور عمران خان کی بنیادی تنقید کا ہدف سابق جنرل باجوہ ہیں گو کہ وہ انہی دونوں کے طفیل نہ صرف اس عہدے پر فائز رہے بلکہ تین سال کی توسیع بھی لی۔ اب پتا نہیں مولا علیؓ کا قول یہاں صادق آتا ہے کہ نہیں ’’جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو‘‘۔ ابھی ہم نے صرف دو فریقوں کو سنا ہے اور انتظار ہے کہ جنرل باجوہ کب اپنی زبان کھولیں گے اور ان تینوں میں سے کون سچ بول رہا ہے اور کون حقائق کو مسخ کررہا ہے، اس کے لئے تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا۔ تاریخ بہت بے رحم ہوتی ہے، آپ جتنا بھی سچ کو دبانا چاہیں وقت آنے پر حقائق سامنے آ ہی جاتے ہیں۔ 2013 سے 2022 تک دو عام انتخابات کے دوران جو واقعات سامنے آئے، ان میں مداخلت تو بہرحال نظر آتی ہے ورنہ 2008 کے بعد جس جمہوری سفر کا آغاز ہوا تھا اس کے نتیجے میں ہماری تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی اور الیکشن کے بعد پرامن انداز میں اقتدار کی منتقلی ہوئی۔ اس کے علاوہ پہلی بار صدر پاکستان نے بھی اپنے پانچ سال مکمل ہونے پر یہ عہدہ آنے والے منتخب صدر کے حوالے کیا، مگر بدقسمتی سے اس سارے عمل کیلئے جو پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے ’’میثاق جمہوریت‘‘ کا حصہ تھا، سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی شہادت کی صورت میں ایک بہت بڑی قربانی دینا پڑی۔

انہی برسوں میں عمران خان ایک بڑے اپوزیشن لیڈر کے طور پر سامنے آئے اور 30 اکتوبر 2011 کو مینار پاکستان پر ایک تاریخی جلسہ کرکے دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے مقابلے میں تیسری سیاسی قوت بن کر ابھرے۔ انہیں 2013 کے الیکشن میں خیبر پختونخوا میں بڑی کامیابی ملی۔ تاہم پنجاب اور دیگر صوبوں میں اتنی نشستیں انہیں نہ مل سکیں کہ وہ مرکز میں حکومت بنا پاتے۔ عمران نے پنجاب کے چار حلقوں میں دھاندلی کا الزام لگایا اور انہیں کھولنے کا مطالبہ کیا۔ نوازشریف اگر یہ مطالبہ مان کر ان حلقوں میں دوبارہ الیکشن کروا دیتے تو جمہوری کلچر کو فائدہ ہوتا۔ اس کے بعد ہونے والے واقعات نے بہت سے سوالات اور پس پردہ کرداروں کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کئے جن میں خاص طور پر جنرل شجاع پاشا کا نام آتا ہے۔ جب اپنے 2014 کے دھرنے کے نتیجے میں تب کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے عمران سے ملاقات کی تو انکا نوازشریف کو ہٹانے اور نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ رد کر دیا گیا۔ لیکن ان کی امیدیں تب دوبارہ بندھ گئیں جب جنرل راحیل شریف اور نواز شریف کی ایک طویل ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی۔ عمران اس وقت اپنے کنٹینر پر ٹہل رہے تھے کہ حکومت اب گئی کہ جب گئی۔

مظہر عباس کے بقول اس ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے مجھے تب کے وزیر داخلہ چوہدی نثار علی خان نے بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف نےبہت سے حاضر سروس افسروں کی اپنی فیملیوں کےساتھ دھرنے میں شرکت پر سوالات اٹھائے تھے۔ آج نوازشریف جنرل باجوہ، جنرل فیض اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے سیاسی کردار پر پر سوالات اٹھا رہے ہیں، خاص طور پر پانامہ کے بعد ان کی حکومت کے خاتمے اور 2018 کے الیکشن کے حوالے سے۔

دوسری طرف عمران بھی جنرل باجوہ اور اسٹیبلشمنٹ کو اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، مگر فرق یہ ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کو مکمل طور پر ختم کرنے کے حق میں نہیں بلکہ وہ تو ISI کے کردار کو بھی احتساب کے حوالے سے برقرار ر کھنا چاہتے ہیں۔ یہی بنیادی تضاد ہے کیونکہ ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ جنرل باجوہ نے نیب کو اپنے کنٹرول میں رکھا اور نواز شریف کو نااہل کروانے میں بھی ان کا کردار ہے تو دوسری طرف وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ISI کا سیاسی کردار برقرار رہے۔ مظہر عباس کا کہنا ہے کہ میاں صاحب نے سب سے زیادہ آرمی چیفس کا تقرر کیا، بعد میں ایک سے استعفیٰ لیا اور ایک کو برطرف کیا جس پر جوابی کارروائی میں وہ خود برطرف کر دیئے گئے۔ جنرل باجوہ کو بھی وہی لائے البتہ توسیع میں ماشاء اللہ دونوں سابق وزرائے اعظم کا ہاتھ ہے، میاں صاحب کی نااہلی اور سزا کی بات تو سامنے آ گئی، لیکن عمران کی بے دخلی کی اصل وجہ سامنے آنا ابھی باقی ہے۔ شاید جنرل باجوہ، فیض حمید، جنرل پاشا اور جنرل محمود اگر آج اپنی زبان کھولیں تو 1999سے 2022 تک کی اصل کہانی سامنے آ جائے۔ سچ تو بہر حال سامنے آ ہی جائے گا اور وہ بھی زہر کا پیالہ پیے بغیر۔یہ ہےپاکستان۔

آئی ایم ایف اور پاکستان میں مذاکرات کا شیڈول طے پا گیا

Related Articles

Back to top button