طارق فاطمی کے دورہ امریکہ سے وزارتِ خارجہ کا اظہار لا تعلقی کیوں؟

پاکستانی معیشت کی بحالی کی خاطر امریکی تعاون جیتنے کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی طارق فاطمی کو امریکی محکمہ خارجہ بھیجنے اور بعد ازاں اسے ’نجی دورہ‘ قرار دینے کے فیصلے نے واشنگٹن میں سفارتی حلقوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ طارق فاطمی گزشتہ ہفتے امریکی دارالحکومت واشنگٹن پہنچے اور پاکستانی سفیر سمیت سفارت خانے کے حکام کے ساتھ ملاقاتیں کی تھیں۔ انہوں نے 21 جولائی کو امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین سے ان کے دفتر میں ملاقات کی، اسی روز وینڈی شرمین نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک مختصر پیغام پوسٹ کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ ’میں نے وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی طارق فاطمی سے ملاقات کی تاکہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو بڑھا کر تعلقات کو وسعت دینے کے اہداف کے لیے ہمارے اشتراک کی توثیق کی جا سکے‘۔ انہوں نے مزید لکھا کہ امریکا مل کر کام کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال کا جشن منانے کا منتظر ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بھی اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملاقات کے دوران گفتگو افغانستان، علاقائی استحکام اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے یوکرین پر حملے کے نتیجے میں پاکستان اور دنیا بھر میں خوراک کی سلامتی پر پڑنے والے تباہ کن اثرات پر مرکوز تھی۔ پاکستانی سفارتخانے نے بھی اسی حوالے سے ایک پریس ریلیز جاری کی اور پاکستان میں میڈیا نے بھی اس ملاقات کی کوریج کی۔ اس دوران یہ قیاس بھی کیا گیا کہ طارق فاطمی کو ستمبر 2023 میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات کا بندوبست کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔تاہم 22 جولائی کو اسلام آباد میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس ملاقات سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔

حکومت عمران خان سے خوفزدہ، آج یا کل گر جائے گی

ایک نیوز بریفنگ کے دوران اس ملاقات کے ایجنڈے سے متعلق سوال پر ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ’طارق فاطمی واشنگٹن کے نجی دورے پر ہیں، امریکی حکام کے ساتھ ان کی ملاقات میں پاکستانی دفتر خارجہ نے کوئی کردار ادا نہیں کیا‘۔ ترجمان وزارت خارجہ کی جانب سے یہ بیان امریکی فریق کے لیے اضطراب کا سبب بنا اور واشنگٹن کے حلقوں نے تشویش ظاہر کی۔اس وقت واشنگٹن میں پاکستان کا ایک ایسے ملک کے طور پر تاثر ابھر رہا ہے جہاں ملک کے اندرونی سیاسی خدشات اکثر دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات پر غالب آ جاتے ہیں، چاہے وہ تعلقات امریکا جیسی سپر پاور کے ساتھ ہی کیوں نہ ہوں۔

امریکا میں خدمات سرانجام دینے والے دو سابق پاکستانی سفارت کاروں نے نشاندہی کی کہ ایسا دوسری بار ہوا ہے، اس سے قبل عمران خان کی جانب سے اٹھائے جانے والے کیبل گیٹ تنازع کے دوران ایسا ہوا اور اب ایک سینئر پاکستانی عہدیدار کے واشنگٹن کے دورے کے بعد یہ معاملہ دیکھنے میں آیا ہے۔

دونوں سینئر پاکستانی سفارت کاروں میں سے ایک نے کہا کہ ’پہلے واقعے میں ایک خفیہ سفارتی کیبل کا استعمال ایک ایسی حکومت کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے کیا گیا جسے عدم اعتماد کے اقدام کا سامنا تھا، دوسرے معاملے میں حکومت بظاہر معیشت کی بحالی کے لیے کوششوں میں تعاون کے لیے ایک سینئر عہدیدار کو واشنگٹن بھیجتی ہے لیکن پھر اس سے انکار کر دیتی ہے، بظاہر ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ حکومت کو کچھ حلقوں کے ناراض ہونے کا خدشہ ہے‘۔سفارتی ذرائع نے اس عجیب و غریب پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’سرکاری بیانات میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، تردید سمیت ایسا کچھ بھی نہیں جس کی وضاحت کی ضرورت ہو‘۔

واشنگٹن کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات پڑھانے والے حسن عباس نے اس حوالے سے اپنی رائے دی کہ ’خاص طور پر موجودہ صورتحال میں ڈپٹی سیکریٹری کے طور پر سینئر عہدیدار سے نجی ملاقات کا امکان بہت کم ہے، ایسی ملاقاتیں ریاستی تعاون کے بغیر نہیں ہوتیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کا اپنا مؤقف اس طرح تبدیل کرنا ملک میں ادارہ جاتی ہم آہنگی کے بارے میں غیر ضروری سوالات ایک ایسے وقت میں اٹھاتا ہے جب پاکستان کو معاشی استحکام اور افغانستان کے حوالے سے علاقائی پالیسی کے لیے ہر قسم کی حمایت کی ضرورت ہے‘۔ دوسری جانب وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ طارق فاطمی نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں کے حوالے سے وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور اور حنا ربانی کھر کو اعتماد میں نہیں لیا تھا اور شاید اسی وجہ سے وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی طارق فاطمی کی ملاقات کو نجی ملاقات قرار دیا ہے۔

Related Articles

Back to top button