سیدمحسن نقوی نگران وزیر اعلیٰ کیوں اور کیسے بنے؟

پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ مقرر ہونے والے سینئر صحافی سید محسن نقوی کا نام شہباز شریف، آصف زرداری، نواز شریف، بلاول بھٹو، چودھری شجاعت حسین اور مولانا فضل الرحمن نے متفقہ طور پر تجویز کیا تھا جس پر پی ڈی ایم میں شامل چھوٹی جماعتوں نے بھی اتفاق کیا، لہٰذا یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ وہ پی ٹی آئی کے علاوہ دیگر تمام سیاسی جماعتوں کے متفقہ وزیراعلیٰ ہیں۔ اسی لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب کے نگراں وزیر اعلیٰ کے طور پر محسن نقوی کے نام کا اعلان ہوتے ہی پی ٹی آئی نے اس تقرری کو مسترد کرتے ہوئے عدالت میں جانے کا اعلان کر دیا۔ عمران خان نے بھی اس فیصلے کو رد کرتے ہوئے اس کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ تاہم آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب الیکشن کمیشن خود کو بھجوائے جانے والے ناموں میں سے ایک کا بطور نگران وزیراعلیٰ تقرر کر دے تو اس کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے اور عدالت کے پاس اس پر نظر ثانی کا اختیار نہیں ہوتا۔ جھنگ کے سید گھرانے سے تعلق رکھنے والے سید محسن نقوی 1978 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ محسن نقوی سینئر صحافی اور ایک میڈیا گروپ کے مالک ہیں اور ماضی میں طویل عرصہ تک معروف امریکی ادارے سی این این سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ وہ چینل 24 اور سٹی 42 سمیت 6 ٹی وی چینلز کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی حلقوں میں بھی جانی مانی شخصیت ہیں۔ وہ دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے ایس ایس پی اشرف مارتھ کے داماد اور چوہدری پرویز الہیٰ کی بھانجی کے شوہر ہیں۔ اسکے علاوہ محسن نقوی قاف لیگ کے صدر چوہدری شجاعت کے بیٹے سالک حسین کے ہم زلف بھی ہیں۔ لیکن انہیں پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کے زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے۔ یہ گجرات کا چوہدری خاندان محسن کا سسرال ہے لیکن وہ پرویز الٰہی کی بجائے چوہدری شجاعت کے زیادہ قریب تصور کیے جاتے ہیں۔ ان کی اہلیہ ڈاکٹر ہیں اور چودھری پرویز الٰہی انکے ماموں ہیں۔ محسن نقوی لاہور میں پیدا ہوئے، لیکن بہت چھوٹی عمر میں ان کے والدین ایک حادثے میں دنیا سے رخصت ہوگئے تھے جس کے بعد ان کی پرورش ان کی نانی اور ماموں نے کی، انہوں نے ابتدائی تعلیم کریسنٹ ماڈل سکول لاہور سے حاصل کی، اسکے بعد وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم رہے اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ چلے گئے۔ امریکہ میں قیام کے دوران محسن نقوی سی این این سے وابستہ ہوگئے، اعلیٰ تعلیم مکمل کر کے پاکستان واپسی پر بھی محسن نقوی نے سی این این کی نمائندگی جاری رکھی، وہ پہلے بطور پروڈیوسر اور پھر بطور ریجنل ہیڈ ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ محسن رضا نقوی نے سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران اپنی جاندار رپورٹنگ سے عالمی میڈیا میں خوب نام کمایا۔ بعد ازاں انہوں نے سی این این سے علیحدگی اختیار کر کے صرف 30 سال کی عمر میں لاہور سے ایک نیوز چینل سٹی 42 کی بنیاد رکھی، اس کے بعد انہوں نے چینل 24 بھی لانچ کر دیا۔ عمران خان کے دور حکومت میں چینل 24 کو اس کی آزادانہ تنقیدی ادارتی پالیسی کی وجہ سے کئی مرتبہ بند کیا گیا۔ محسن نقوی کی قیادت میں قائم میڈیا ہائوس اب 6 نیوز چینلز اور ایک اخبار چلا رہا ہے۔ 2009 میں سٹی نیوز نیٹ ورک کی بنیاد رکھنے کے بعد انہوں نے قومی سطح کی خبروں کے لیے 24 نیوز، فیصل آباد کے لیے سٹی 41، جنوبی پنجاب کے لیے روہی ٹی وی، کراچی کے لیے سٹی 21 اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ’یو کے 44‘ نامی چینلز بنائے۔ اسی ادارے نے لاہور سے ایک مقامی روزنامے ’ڈیلی سٹی 42‘ کا بھی اجرا کیا۔ میڈیا چینل کے مالک ہونے کے طور پر ان کی شہرت ایک ایسے شخص کی ہے جو اپنے ساتھ کام کرنے والے ساتھیوں اور ورکرز کا خیال رکھتے ہیں اور انھیں بہتر مواقع دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ محسن نقوی کا نام اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی جانب سے نگران وزیراعلیٰ کے لیے بھیجے گئے دو ناموں میں شامل تھا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ محسن نقوی پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے قریب ہیں اور صوبے میں انتخابات پر اثرانداز ہو کر ان کی انتخابی مہم کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ عمران خان نے محسن نقوی کو بطور وزیر اعلیٰ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ ’وہ ان کی جماعت کو ن لیگ سے بھی زیادہ نقصان پہنچانے والے شخص ہیں۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انکے الزام کی بنیاد کیا ہے اور اس کی تفصیلات کیا ہیں؟ ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا ہے کہ پی ایم ایل این کی تاریخ یہی رہی ہے کہ وہ اپنے امپائرز خود منتخب کرتے ہیں لیکن ناقابل یقین تو یہ ہے کہ کس طرح الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ایک حلیف دشمن کو نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر منتخب کیا۔ تاہم تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو محسن نقوی کے خلاف پرویز الٰہی نے بھڑکایا ہے جس کی بنیادی وجہ ان کے خاندان کے آپسی اختلافات ہیں۔ پرویز الٰہی نے محسن نقوی کی تقرری پر ٹویٹ کرتے ہوئے اپنی بھانجی کے شوہر بارے کہا ہے کہ میرا قریب ترین رشتے دار کیسے نگران وزیراعلیٰ بن سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کا متنازعہ فیصلہ ہر اصول اور ضابطے کے خلاف ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف ہم سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔‘ یاد رہے کہ چند روز قبل مونس الٰہی نے ایک ٹویٹ میں محسن کی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’یہ وہ آدمی ہے جو کہتا تھا میں زرداری کا بچہ ہوں، شہباز شریف کا پارٹنر ہوں اور چوہدریوں کا رشتہ دار ہوں۔ میں فیصلے کروں گا پاکستان کے۔‘ مونس نے یہ ٹویٹ پنجاب اسمبلی توڑنے کے بعد کی اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ فیصلے ان کے چلتے ہیں۔ دوسری جانب صحافتی اور سیاسی حلقوں نے محسن نقوی کی تعیناتی کا خیرمقدم کیا ہے۔ وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ’جمہوریت پسند، بے باک، بنیادی حقوق کے داعی، آئین و قانون کی سربلندی کے علمبردار، محسن نقوی نگران وزیر اعلٰی پنجاب مقرر۔ آزادی صحافت کے پرچم کو سربلند رکھنے کے لیے محسن نقوی نے بارہا خندہ پیشانی سے جبر کا سامنا کیا۔‘ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے مسلک کو لے کر بعض حلقوں نے ان پر تنقید کی ہے۔ سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کہتے ہیں کہ ’پاکستان کیسا ملک ہے کہ جہاں نگران وزیر اعلیٰ بنانا ہو تو پہلے اُس کا مسلک دیکھو، یہ جناح کا پاکستان تو نہیں۔‘ سینئر صحافی عاصمہ شیرازی نے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کی تقرری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سینئر صحافی اور چینل 24 کے مالک محسن نقوی کے لیے ایک سیاسی جماعت اور اُس کے کارندے انتہائی گھٹیا اور بے بُنیاد مہم چلا رہے ہیں جس سے اُن کی زندگی کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتاہے۔‘

سلیمان شہباز نے محسن نقوی کو اپ رائٹ آدمی قرار دیدیا

Related Articles

Back to top button