الطاف حسین پرعائد پابندی اٹھوانے کی کوشش کرنے والا اٹھ گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے عمران خان کی تقاریردکھانے پرعائد کردہ پابندی ختم ہونے کے بعد خوش فہمی کا شکار ہو کر اپنے قائد الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی کے خاتمے کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے والے ایم کیو ایم الطاف کے سابقہ رکن قومی اسمبلی نثار احمد پنہور کو حساس اداروں نے اٹھا لیا ہے۔ 31 اگست 2022 کو سندھ ہائی کورٹ کو بتایا گیا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن اسمبلی پنہور کو صرف اس لئے نامعلوم افراد نے غائب کردیا ہے کہ انہوں نے عمران خان کی طرح الطاف حسین کی تقاریر پر عائد کردہ پابندی ہٹانے کے لیے درخواست دائر کی تھی جسکی آج سماعت تھی۔

ایم کیو ایم کے سابق ایم این اے نثار احمد پنہور نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ الطاف حسین پر پیمرا کی عائد کردہ پابندی آئین کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لگائی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فوج اور اس کی قیادت کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے عمران خان پر پیمرا کی لگائی پابندی ختم ہوسکتی ہے تو الطاف حسین کی میڈیا کوریج کی اجازت بھی دی جانی چاہیے۔

جب یہ کیس سماعت کے لیے عدالت میں لگا تو چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ احمد علی محمد شیخ کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر سوال اٹھایا۔ 31 اگست کو چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے پابندی سے متعلق تحریری حکم نامے بارے دریافت کیا اور استفسار کیا کہ کیا اس معاملے میں درخواست گزار براہ راست متاثر شخص بنتا ہے کیونکہ پابندی کا شکار تو الطاف حسین ہے؟ عدالت عالیہ نے نثار احمد پنہور کی عدم موجودگی کے بارے میں بھی استفسار کیا تو ان کے وکیل خالد ممتاز نے جواب دیا کہ انکے موکل کو گزشتہ رات حساس اداروں نے الطاف حسین بارے پٹیشن دائر کرنے پر اٹھا لیا ہے لہذا عدالت کو اس معاملے کا ازخود نوٹس لینا چاہیئے۔

وزیرخارجہ کاغیرملکی سفارتکاروں کیساتھ سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ

یاد رہے کہ اس سے پہلے پٹیشنر نثار احمد پنہور نے اپنی درخواست میں وفاقی وزیر داخلہ، سیکریٹری اطلاعات و قانون اور پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو مدعا علیہ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بانی ایم کیو ایم کی میڈیا کوریج پر عائد پابندی آئین کے آرٹیکل 4، 17، 19 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ الطاف حسین نے کبھی کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی جب کہ ان کی تقاریر کی غلط تشریح کی وجہ سے ان کے خلاف پابندی عائد کی گئی جو کہ برقرار رکھے جانے کے قابل نہیں ہے۔ درخوست میں کہا گیا ہے کہ بانی ایم کیو ایم نے اپنی تقاریر سے پیدا ہونے والی کسی بھی غلط فہمی اور غلط تشریح کے حوالے سے تمام متعلقہ حلقوں سے متعدد مرتبہ سیاسی طور پر معافی مانگی ہے، اس لیے وہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے حقدار ہیں خصوصاً جب دیگر سیاست دانوں پر لگائی گئی پابندی ختم کی جا رہی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین کو برطانیہ کے علاوہ پاکستان بھی میں نفرت انگیز تقاریر کی بنیاد پر سزا نہیں دی گئی۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ پیمرا کو الطاف حسین پر عائد پابندی ہٹانے کی ہدایت کی جائے۔ تاہم حساس اداروں نے بھرتیاں دکھاتے ہوئے پٹیشن دائر ہوتے ہی گلستان جوہر میں کارروائی کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سابق رہنماء نثار احمد پنہور کو انکی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا۔ یاد رہے کہ پنہور نے 2001 میں ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی، وہ 2002 میں عزیز آباد سے الیکشن لڑ کر ایم این اے بنے اور 2008 تک اندرون سندھ کی تنظیمی کمیٹی کے رکن رہے۔ پنہور 2008 میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مشیر بھی رہے، 2013 تک انہوں نے ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی میں بطور رکن ذمہ داری نبھائی۔ اگست 2017 میں ایم کیو ایم کی تقسیم کے بعد نثار پنہور کسی پارٹی دھڑے میں شامل نہیں ہوئے۔

خیال رہے کہ الیکٹرانک میڈیا پر عمران خان کی لائیو تقاریر پر پابندی لگانے کے لیے پیمرا نے حال ہی میں اپنا پرانا طریقہ اختیار کیا تھا جو اس سے قبل تین دیگر سینئر رہنماؤں کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔ پابندی لگانے کے لیے عدالتی احکامات کا اطلاق اور پیمرا آرڈینس 2022 کو استعمال کیا گیا۔ پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 20 کے ذریعے عمران کی تقریر نشر کرنے پر پابندی لگانے سے قبل پیمرا نے 2019 میں اسی قانون کو مریم نواز کے خلاف استعمال کیا تھا۔عمران کے خلاف پیمرا کے حکم نامے میں اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں کی گئی ان کی تقریر کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ عمران خان اپنی تقاریر میں ریاستی اداروں اور افسران کے خلاف’اشتعال انگیز بیانات’ کے ذریعے مسلسل ’بے بنیاد الزامات’ اور ’نفرت انگیز تقریر’پھیلا رہے ہیں۔ پیمرا کا کہنا تھا کہ عمران خان کی تقریر میں ریاستی اداروں اور افسران کے خلاف ’نفرت انگیز، ہتک آمیز اور غیر ضروری’ بیانات تھے، جو آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہیں جس کا عنوان ’آزادی اظہار وغیرہ’ ہے۔

اس سے پہلے اکتوبر 2020 میں پیمرا نے چینلز کو مفرور اور اشتہاری مجرموں کی تقاریر، انٹرویوز اور عوامی خطاب نشر کرنے سے روک دیا تھا، ان ہدایات کا مقصد نواز شریف کو نشانہ بنانا تھا خصوصاً جب انہوں نے الیکشن 2018 میں دھاندلی کا الزام آرمی چیف اور جنرل فیض حمید پر عائد کر دیا تھا۔ یہ حکم تین بار کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے پارٹی اجلاس میں حکومت پر تنقید کے بعد آیا تھا جسے متعدد نیوز چینلز پر نشر کیا گیا تھا، نوازشریف پر عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے اور عدلیہ کو بدنام کرنے کا بھی الزام تھا۔

تب کے وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا تھا کہ نوازشریف ایک اور الطاف حسین بن گئے ہیں۔ شبلی فراز نے الزام لگایا تھا کہ نواز شریف کی تقاریر اشتعال انگیز تھیں اور کہا کہ جب الطاف حسین کی تقاریر کو نشر کرنے کی اجازت نہیں تو نواز شریف پر قانون کا مختلف طریقے سے اطلاق نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر نواز شریف اور الطاف حسین کی تقاریر اشتعال انگیز ہونے کی وجہ سے پابندی کا شکار ہوئیں تو عمران کی تقاریر میں تو دھمکیوں اور غنڈہ گردی کا عنصر زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔

یاد رہے کہ الطاف حسین پہلے شخص تھے جن پر الیکٹرانک میڈیا پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ ستمبر 2015 میں لاہور ہائی کورٹ نے ناصرف الطاف حسین کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی لگا دی تھی بلکہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو ان کی تصاویر نہ چلانے کی بھی ہدایت کی تھی۔

Related Articles

Back to top button