عمران لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کے مخالف کیوں ہیں؟

پچھلے کئی ماہ سے مسلسل دور کی کوڑیاں لا کر ناقابل یقین سازشی بیانیے ترتیب دینے والے تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ اگر عمران خان کے لانگ مارچ کے نتیجے میں خون ریزی ہو جائے اور سیاسی جمود معیشت کا دھڑن تختہ کر دے تو جنرل قمر باجوہ کو مداخلت کا موقع مل جائے گا جس کے نتیجے میں پی ڈی ایم کی حکومت ختم ہو جائے گی اور آرمی چیف شہباز شریف کو پارلیمنٹ تحلیل کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

اگر شہباز ایسا کرنے سے انکار کریں تو اتحادی حکومت میں شامل کچھ شراکت داروں سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیں۔

اگر ایسا ہوا تو صدر عارف علوی شہباز شریف کو قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کا کہہ دیں گے۔ لیکن اگر یہ سب نہیں بھی ہوتا تو جنرل باجوہ سپریم کورٹ کی تائید سے مارشل لا عائد کر سکتے ہیں کیونکہ اس وقت سپریم کورٹ شریف مخالف ججوں سے بھری ہوئی ہے۔ ایسی صورت میں انتخابات ملتوی کیے جا سکتے ہیں۔

فرائیڈے ٹائمز کے لیے اپنے تازہ ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ عمران خان نے لانگ مارچ کو لانگ واک میں تبدیل کردیا ہے تاکہ فوجی اسٹبلشمنٹ میں موجود پی ڈی ایم مخالف لابی کو حکومت پر مطالبات منوانے کے لیے دباؤ ڈالنے کا وقت اور موقع مل جائے یا انکار کی صورت میں اس ماہ کے آخر میں اسے گرانے کا سامان کیا جاسکے۔

چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ لانگ مارچ راول پنڈی، اسلام آباد 20 نومبر کو پہنچے گا۔ یہ وہ وقت ہوگا جب وزیرا عظم کے سامنے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی سٹاف کی نامزدگی کے لیے تین نام رکھے جائیں گے۔ اس صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے دو حقائق پر غور کرنا اہم ہے۔

نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ پہلے کا تعلق لندن سے ہے، اور اسے ”لندن پلان“ کانام دیا جاسکتا ہے۔ نواز شریف کے ساتھ ان معاملات پر بات چیت کرنے کے لیے شہباز شریف اور خواجہ آصف دو دن پہلے لندن پہنچے ہیں۔

چوں کہ ہم جانتے ہیں کہ 2019 ء میں ان دونوں افراد نے جنرل باجوہ کو تین سالہ توسیع کی حمایت پر نواز شریف کو قائل کیا تھا حالاں کہ یہ نواز شریف کی مرضی کے برعکس تھا۔ ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ موجودہ حالات میں نواز شریف کا مشورہ کیا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی اطلاع ہے کہ مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی، ملک احمد خان، جو شریفوں اور جنرل باجوہ کے قریب ہیں، بھی لندن میں ہونے والی اس ملاقات میں موجود تھے۔ ملک احمد کو جنرل باجوہ اور شریفوں کے درمیان رابطہ کار خیال کیا جاتا ہے۔

دوسرے رابطہ کار کا تعلق لاہور ہے۔ اسے ”پنڈی پلان“ کا نام دیا جاسکتا ہے۔صدر علوی تسلیم کرچکے ہیں کہ اُنھوں نے جنرل باجوہ اور عمران خان کے درمیان رابطہ بحال کرانے کے لیے کردارادا کیا ہے۔ اُنھوں نے ان دونوں کے درمیان کم از کم دو خفیہ ملاقاتوں کی سہولت کاری کی ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا پھر تیسری اور حتمی ملاقات نہیں ہوسکتی؟ ابھی اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اگلے دو ہفتے بہت اہم ہیں کیونکہ کھیل ختم ہونے تک کھیل جاری ہے۔

نجم سیٹھی کے بقول کھیل ابھی ختم نہیں ہوا اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی واضح اکثریت، بشمول تھری سٹار جنرلز چار اہم فیصلوں پر اتفاق کرچکے ہیں: پہلا فیصلہ یہ ہے کہ جنرل قمر باجوہ مدت ملازمت میں توسیع نہیں لیں گے، اور اگر حکومت نے ایسی پیش کش کی بھی تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ وہ 20 نومبر کو شیڈول کے مطابق اپنے منصب سے سبکدوش ہوکر گھر چلے جائیں گے۔ دوسرا فیصلہ یہ ہے کہ اس وقت پاک فوج کے تین سینئر ترین جرنیلوں۔

عاصم منیر، ساحر شمشاد اور اظہر عباس میں سے دو کو حکومت اس ماہ کے آخر تک چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی سٹاف کے طور پر شارٹ لسٹ کرے گی۔ تیسرا فیصلہ یہ ہے کہ فوج کی اعلیٰ قیادت سیاسی دھڑے بندیوں سے الگ، غیر سیاسی یا غیر جانب دار رہے گی۔ فوج کسی قابل قبول ٹائم فریم اور یکساں مواقع کے ساتھ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے پی ڈی ایم اور تحریک انصاف کی قیادت کو سہولت تو فراہم کرسکتی لیکن دباؤ ہرگز نہیں ڈالے گی۔

چوتھا فیصلہ یہ ہے کہ تحریک انصاف اور پی ڈی ایم کے درمیان جاری کشمکش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی جمود میں اسٹبلشمنٹ مداخلت کرتے ہوئے مارشل لا نہیں لگائے گی۔

لیکن نجم سیٹھی کے بقول معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جنرل باجوہ اور عمران خان جنرل شمشاد اور جنرل عباس کو دونوں چوٹی کے عہدوں پر دیکھنا چاہتے ہیں، جب کہ میاں نواز شریف جنرل عاصم منیر کو چیف آف آرمی سٹاف بنانے کے خواہش مند ہیں۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ اب کیا ہوگا؟ عمران حالات بگاڑنے پر تلے ہوئے ہیں۔

وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر نواز شریف نے نئے آرمی چیف کا انتخاب کیا تو وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔ دوسرے لفظوں میں وہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم کی بجائے جنرل باجوہ ہی دونوں عہدوں کے لیے چناؤ کریں۔

عمران خان کی جنرل عاصم منیر سے مخاصمت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اُنھوں نے جنرل عاصم منیر کو 2019 ء میں ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے صرف نو ماہ کی مدت کے بعد اس لیے ہٹا دیا تھا کیوں کہ خان کی اہلیہ کے قریبی ٹولے کی بدعنوانی کے دستاویزی ثبوت عاصم منیر نے اُن کے سامنے رکھ دیے تھے۔

عمران خان کے نامزد کردہ ملزمان کیخلاف ایف آئی آر کیلئے تین درخواستیں دائر

عمران نے پہلے ہی میجر جنرل فیصل نصیر کے خلاف بلااشتعال اور بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کا زہریلا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ وہ اس وقت آئی ایس آئی میں ڈی جی کاؤنٹر ٹیرر ازم ہیں اور عاصم منیر کے قریب سمجھتے جاتے ہیں۔ وہ ملٹری انٹیلی جنس میں بھی عاصم منیر کے ماتحت کام کرچکے ہیں۔ خان کے لانگ مارچ کا ہدف پی ڈی ایم حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ عاصم منیر کو اگلا چیف آف آرمی سٹاف نامزد نہ کردے، نیز مارچ 2023 ء میں انتخابات کرائے جائیں۔

ان اہداف کے حصول میں کامیابی یقینی بنانے کا ایک راستہ تو یہ ہے کہ اس ماہ پی ڈی ایم حکومت کو گرادیا جائے تاکہ نگران حکومت آکر تین ماہ میں انتخابات کرائے، اور جنرل باجوہ کو تب تک توسیع دے دے جب تک کوئی منتخب وزیر اعظم حکومت بناکر نئے آرمی چیف کو نامزد نہ کردے۔ عمران نے کئی مواقع پر کہا ہے کہ وہ ایسی شرائط پر جنرل باجوہ کو چھے ماہ کی توسیع دینا قبول کر لیں گے۔

چوں کہ عمران کو اگلے انتخابات میں جیت کا یقین ہے، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ اگلے آرمی چیف کو وہی نامزد کریں۔ اگر لانگ مارچ کے نتیجے میں خون ریزی ہو اور سیاسی جمود معیشت کا دھڑن تختہ کردے تو جنرل باجوہ کو مداخلت کا موقع مل جائے گا اور وہ سپریم کورٹ کی تائید سے مارشل لا بھی لگا سکتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button