پرویز الٰہی دھوکا نہ دیتے تو نواز لیگ اور قاف لیگ ایک ہو جاتیں

سابق وزیراعظم نواز شریف کے بڑے صاحبزادے حسین نواز نے کہا ہے کہ اگر پرویز الٰہی اتحادی جماعتوں کو دھوکا نہ دیتے تو قاف لیگ اور نواز لیگ نے ایک ہو جانا تھا۔ انکا کہنا تھا حمزہ شہباز کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ ہمارا نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کا تھا کیونکہ ن لیگ چوہدری پرویز الٰہی کو اپنا وزیراعلیٰ کا امیدوار بنا چکی تھی، چوہدری شجاعت حسین کی میاں نواز شریف سے فون پر بات بھی ہو چکی تھی اور چوہدری صاحب نے قاف لیگ کو ختم کرنے اور ایک ساتھ چلنے کا عندیہ بھی دے دیا تھا، لیکن پھر اچانک چوہدری پرویز الٰہی نے یوٹرن لے لیا اور یوں نواز لیگ کے پاس وزارت اعلیٰ کے لیے حمزہ شہباز کے علاوہ اور کوئی آپشن نہ رہا کیونکہ ان پر سب کا اتفاق ہو گیا تھا۔

نواز شریف اور حسین نواز سے لندن میں ہونے والی ایک حالیہ ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے جاوید چودھری اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ حسین نواز میاں نواز شریف کے بڑے صاحب زادے ہیں‘ ان کا زیادہ وقت اپنے والد کے ساتھ گزرا چنانچہ یہ ملک کے اہم ترین واقعات کے عینی شاہد ہیں‘ مجھے لندن میں ان کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا‘ میرے ذہن میں بے شمار سوالات موجود تھے‘ میں ان سے وہ سوال پوچھتا رہا اور یہ ان کے جواب دیتے رہے‘ ان کے پاس جس سوال کا جواب نہیں تھا انھوں نے صاف انکار کر دیا اور جس کا جواب یہ نہیں دینا چاہتے تھے۔

بالآخر شاہ رخ خان کا بیٹا آریان خان بے گناہ ثابت ہو گیا

اپنے خاندان کی کہانی بیان کرتے ہوئے حسین نواز نے کہا کہ اتفاق گروپ ختم ہونے کے بعد خاندان میں دراڑیں آ گئی تھیں‘ دادا جان کا دل ٹوٹ گیا تھا لہٰذا انھوں نے ماڈل ٹاؤن چھوڑ کر رائے ونڈ جانے کا فیصلہ کر لیا‘ یہ اس وقت ویران اور بیابان علاقہ تھا‘ کھیتوں کے درمیان چھوٹا سا گھر تھا‘ میاں صاحب کے پرانے ملازمین تک نے وہاں جانے سے انکار کر دیا تھا‘ مریم نواز کے اس وقت دو بچے تھے‘ بیٹی مہرالنساء اور جنید صفدر‘‘ اس دوران جنید کمرے میں آگئے۔ حسین نواز نے ان کی طرف اشارہ کر کے کہا ’’یہ اس وقت والدہ کی گود میں ہی ہوتا تھا‘‘ میں جنید صفدر سے گیٹ پرملا تھا‘ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دوسری بار سلام کیا‘ حسین نواز نے بتایا مریم بہن اس وقت اپنے دونوں چھوٹے بچوں کو ساتھ لے کر دادا جان کے ساتھ رائے ونڈ شفٹ ہو گئیں‘ اس زمانے میں وہاں رات کے وقت بجلی بند ہو جاتی تھی‘ ایک رات بجلی بند ہوئی تو حبس اور گرمی کی وجہ سے مریم نواز کی بیٹی نے رونا شروع کر دیا۔ وہ بچی کو لے کرگاڑی میں گئیں‘ گاڑی اسٹارٹ کی‘ اے سی چلایا اور بیٹی کو گاڑی میں سلا دیا‘ دادا جان تہجد کے لیے اٹھے‘ بچی کو گاڑی میں لیٹا ہوا دیکھا تو اگلے دن جنریٹر بھی لگوا دیا اور مریم نواز کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے گھنٹوں دعائیں بھی دیتے رہے‘ ہمارے دادا نیک اور مثبت انسان تھے۔

حسین نواز نے بتایا کہ میاں شریف زندگی کی آخری سانس تک مریم بہن کو دعائیں دیتے رہے‘ مجھے یقین ہے یہ ان کی دعاؤں کا صدقہ ہے جس کے عوض یہ اپنا سیاسی مقام بناتی چلی جا رہی ہیں جب کہ 2014 تک یہ ایک گھریلو خاتون تھیں‘‘ میں نے پوچھا ’’لیکن آپ کی پارٹی انھیں قبول نہیں کر رہی‘ پرویز رشید اور عرفان صدیقی کے علاوہ کوئی سینئر ان کے ساتھ نظر نہیں آتا‘‘۔ حسین ہنس کر بولے ’’عوام کے ساتھ ساتھ پارٹی کو قائل کرنا بھی مریم نواز کی ذمے داری ہے‘ یہ اگر اسی طرح چلتی رہیں تو وہ وقت بھی آ جائے گا‘‘۔ میں نے ان سے پوچھا ’’کیا جنرل پرویز مشرف کے دور میں اٹل بہاری واجپائی نے جدہ میں میاں صاحب سے رابطہ کیا تھا؟‘‘ وہ بولے ’’جی ہاں جنرل مشرف نے جب بھارت کے ساتھ کشمیر پر مذاکرات شروع کیے تو واجپائی صاحب نے ایس کے لامبا کو جدہ بھجوایا تھا‘ واجپائی صاحب نفیس سیاست دان تھے‘ وہ میاں صاحب کو میاں جی کہتے تھے‘ ایس کے لامبا صاحب نے میاں صاحب کو پیغام دیا ’’ہم نے مل کر کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی لیکن ہم کام یاب نہیں ہو سکے۔ لیکن اب وقت ہمیں ایک اور موقع دے رہا ہے‘ جنرل مشرف ہمارے ساتھ ڈائیلاگ کرنا چاہتے ہیں‘ آپ اگر اجازت دیں تو کیا میں جنرل مشرف سے ڈائیلاگ شروع کر لوں‘‘ میاں صاحب نے خوش دلی سے جواب دیا‘ امن ذاتی اختلافات سے سپریم ہے‘ آپ کھلے دل کے ساتھ مذاکرات کریں‘‘ میاں صاحب واجپائی صاحب کو کوئی تحفہ بھجواناچاہتے تھے لیکن ان کا خیال تھا وہ ایک سادہ انسان ہیں‘ وہ اسے توشہ خانہ میں جمع کرا دیں گے۔

حسین نواز کے بقول والد صاحب کی خواہش تھی کوئی ایسی چیز بھجوائی جائے جسے وہ خود استعمال کریں‘ ہم جانتے تھے واجپائی صاحب کھانے پینے کے شوقین ہیں لہٰذا میں نے ان کے لیے اعلیٰ کوالٹی کی انجیریں خریدیں اور ایس کے لامبا کے ذریعے انھیں بھجوا دیں‘ واجپائی صاحب کی طرف سے باقاعدہ شکریہ کا پیغام آیا‘ میں نے پوچھا ’’کیا میاں صاحب کا یہ ان سے آخری رابطہ تھا؟‘‘ حسین نواز نے جواب دیا ’’ہم مئی 2014 میں جب نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں دہلی گئے تھے تو میاں صاحب واجپائی کی عیادت کے لیے ان کی رہائش گاہ پر گئے تھے‘ وہ اس وقت بہت علیل تھے‘ ڈیمنیشیا کی وجہ سے وہ کسی کو پہچان نہیں پاتے تھے۔ بھارتی حکومت کے پروٹوکول نے میاں صاحب کو روکا لیکن والد صاحب کا جواب تھا اس شخص نے مجھے اس وقت بھی یاد رکھا جب میں جلاوطن تھا‘ یہ مجھے آج پہچانیں یا نہ پہچانیں لیکن میں انھیں ضرور ملوں گا چنانچہ ہم ان کے گھر گئے اور ان کا حال احوال پوچھا‘ انکی یادداشت اس وقت تک مکمل طور پر ختم ہو چکی تھی‘‘۔

جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ میں نے حسین نواز سے پوچھا ’’خواجہ آصف اور نواز شریف کے درمیان تعلقات کی خرابی کی کیا وجہ ہے؟‘‘ حسین نواز ہنس کر بولے ’’یہ دونوں کلاس فیلو بھی ہیں اور دوست بھی‘ ان کے درمیان کبھی تعلقات خراب نہیں ہو سکتے‘‘ میں نے لقمہ دیا ’’بلکہ اسحاق ڈار‘ خواجہ آصف اور میاں صاحب تینوں کلاس فیلوز اور جوانی کے دوست ہیں‘‘ یہ ہنس کر بولے ’’سو فیصد‘ گورنمنٹ کالج سے‘‘ وہ رکے اور بولے ’’میاں صاحب ایک لحاظ سے خواجہ آصف کے فین بھی ہیں۔ یہ انھیں دلیر اور سمجھ دار سمجھتے ہیں چنانچہ میرا نہیں خیال دونوں میں کوئی اختلاف ہو گا‘‘۔ میں نے عرض کیا کہ ’’میری معلومات کے مطابق جنرل قمر باجوہ کی ایکسٹینشن پر اختلافات ہوئے تھے‘‘۔ وہ ہنس کر بولے ’’آپ اپنی معلومات شیئر کریں اگر بات ٹھیک ہوئی تو میں تسلیم کر لوں گا ورنہ معذرت کر لوں گا‘‘۔ میں نے عرض کیا ’’7 دسمبر 2019 کو لندن میں پارٹی کی سینئر قیادت کا اجلاس ہوا تھا۔ اس میں حلف اٹھایا گیا تھا‘ یہ معلومات باہر نہیں جائیں گی‘ پارٹی نے دو فیصلے کیے تھے‘ ایک حکومت سے آرمی چیف کی ایکسٹینشن کا بل مانگا جائے گا اور بل پڑھنے کے بعد حمایت یا انکار کا فیصلہ کیا جائے گا‘ دو‘ ہم اگر بل کی حمایت کریں گے تو وہ غیر مشروط ہوگی‘ ہم اس کے بدلے میں حکومت یا اسٹیبلشمنٹ سے کچھ نہیں مانگیں گے۔ یہ طے ہونے کے بعد فیصلہ ہوا احسن اقبال مولانا فضل الرحمن کو پارٹی کے فیصلے سے مطلع کریں گے اور ایاز صادق پیپلز پارٹی کی قیادت کو بتائیں گے‘ حکومت کو اطلاع ہو گئی لہٰذا اس نے احسن اقبال کو مولانا سے ملاقات سے پہلے گرفتار کر لیا‘ پارٹی نے کسی دوسرے صاحب کو مولانا سے رابطے کا ٹاسک دیا لیکن وہ جان بوجھ کر مولانا سے نہیں ملے‘ رانا تنویر حسین نے مولانا کو میاں صاحب کا پیغام دیا مگر رانا تنویر کو میاں صاحب نے نہیں بھجوایا تھا‘ یہ کسی اور کی وجہ سے گئے تھے‘ دوسری طرف ایاز صادق پیپلز پارٹی سے ملے اور انھوں نے جوابی پیغام بھجوایا‘ سر بلاول بھٹو کی ڈیل ہو چکی ہے۔ یہ بل کے حق میں ووٹ دیں گے اور حکومت ایکٹ آف پارلیمنٹ سے یہ بل پاس کرا لے گی‘‘۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اتنا کہہ کر میں رکا اور حسین سے پوچھا کیا ’’میری معلومات درست ہیں‘‘؟ وہ ہنس کر بولے ’’آپ اپنی بات مکمل کریں‘‘۔ میں نے عرض کیا ’’ 7 جنوری 2020 کو بل پر ووٹنگ ہونی تھی‘ خواجہ آصف نے اس دن پارلیمانی پارٹی کو کہا‘ میاں نواز شریف کی ہدایت ہے ہم بل کی غیرمشروط حمایت کریں گے اور پارٹی نے بل کی حمایت میں ووٹ دے دیا جب کہ میاں صاحب نے خواجہ آصف کو اس قسم کی کوئی ہدایت نہیں دی تھی چنانچہ دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔ پھر خواجہ آصف نے دو جولائی 2022 کو مفتاح اسماعیل کے حق میں یہ بیان دے کر ’’مفتاح اسماعیل نے مشکل حالات میں بہتر کردار ادا کیا ہے‘ ہماری ہمدردیاں وزیرخزانہ کے ساتھ ہیں‘‘ پارٹی کو مزید ناراض کر دیا، کیوں کہ یہ بیان اس وقت دیا گیا جب اسحاق ڈار نے واپسی کا اعلان کر دیا تھا چنانچہ اب میاں صاحب کے ساتھ ساتھ ڈار صاحب بھی خواجہ صاحب سے ناراض ہیں‘‘۔

حسین نواز نے میری پوری بات سننے کے بعد مسکرا کر جواب دیا ’’نو کمنٹس‘ آپ کوئی اور بات کریں‘‘۔ میں نے پوچھا ’’کیا یہ بات درست ہے حمزہ شہباز کوچیف منسٹر بنانے کا مشورہ رانا ثناء اللہ نے دیا تھا‘‘ وہ حیرت سے میری طرف دیکھنے لگے۔

میں نے عرض کیا ’’چوہدری پرویز الٰہی کے یوٹرن کے بعد پارٹی حمزہ شہباز کو چیف منسٹر نہیں بنانا چاہتی تھی لیکن رانا ثناء اللہ نے کہا‘ یہ قدرت کا فیصلہ ہے‘ ہمیں اسے مان لینا چاہیے‘ ہم نے اگر جذباتی ہو کر کوئی فیصلہ کیا تو پارٹی تقسیم ہو جائے گی اور پارٹی کو یہ فیصلہ کرنا پڑ گیا‘ اسٹیبلشمنٹ بھی حمزہ شہباز کے حق میں نہیں تھی‘‘۔ اس پر حسین نواز ہنس کر بولے ’’یہ بات درست ہے۔ یہ فیصلہ ہمارا نہیں تھا‘ اللہ تعالیٰ کا تھا‘ پارٹی چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنا چکی تھی‘ چوہدری شجاعت حسین کی میاں صاحب سے فون پر بات بھی ہوئی تھی اور چوہدری صاحب نے ق لیگ کو ختم کرنے اور اکٹھے چلنے کا عندیہ بھی دے دیا تھا لیکن پھر چوہدری پرویز الٰہی نے یوٹرن لے لیا اور یوں پارٹی کے پاس حمزہ شہباز کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا‘‘۔ جاوید کہتے ہیں کہ میں نے حسین سے پوچھا ’’کیا چوہدری صاحبان نے آپ لوگوں کو یہ بتایا تھا‘ پشاور سے کسی صاحب نے صادق سنجرانی کے ذریعے چوہدریوں کو یہ پیغام دیا تھا آپ عمران خان کے ساتھ ڈٹے رہیں‘ ملک میں کوئی سیاسی تبدیلی نہیں آ رہی اور چوہدری پرویز الٰہی نے یہ بات ان کو بھی بتا دی تھی جن سے یہ گفتگو خفیہ رکھی جا رہی تھی‘‘ حسین نواز نے ہنس کر جواب دیا ’’بھائی صاحب میں جدہ اور لندن میں رہتا ہوں۔ پاکستان کے اندر کیا ہونا ہے مجھے کیا پتا؟ آپ یہ بات پرویز الٰہی یا صادق سنجرانی سے پوچھیں۔

Related Articles

Back to top button