نوازشریف آرمی چیف کا انتخاب کس بنیاد پرکرتے ہیں؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا اپنےتازہ سیاسی تجزیے میں بتاتے ہیں کہ کبھی پاکستانی سیاست میں مارچ کا مہینہ بہت اہم ہوتا تھا۔ لیکن 2007 کے بعد سے یہ سٹیٹس نومبر کو مل چکا ہے۔ اسی لیے ہر تین سال بعد ہر حکومت مارچ سے چھ ماہ پہلے ہی مشکلات میں گھر گئی اور اکثر حکومتیں مارچ آنے سے پہلے ہی گھر چلی گئیں۔

جنہوں نے وزیر اعظم یا اسمبلی کو گھر بھیجنا ہوتا تھا وہ مارچ نہیں آنے دیتے تھے۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اگر مارچ گزر جائے تو زیادہ تر حکومتی جماعتیں ہر تین سال بعد ہونے والے سینیٹ الیکشن میں اپنے زیادہ سینیٹرز منتخب کرانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔

ایسے میں اگر ان کی حکومت گھر بھیج بھی دی جائے تو سینیٹ میں پھر بھی ان کا کنٹرول رہتا ہے جس سے نئی حکومت مشکلات کا شکار رہتی ہے۔ اس دوران حکومت تین سال مکمل کر چکی ہوتی ہے اور عوام میں غیر مقبول ہو چکی ہوتی ہے لہذا تین سال بعد اسے مارچ میں ہونے والے سینیٹ الیکشن سے پہلے گھر بھیجنا آسان ہو جاتا ہے۔ لیکن رؤف کلاسراکہتے ہیں کہ اب صورتحال تبدیل ہوچکی ہے اور مارچ کی جگہ نومبر نے لے لی۔

نومبر کے اہم ہونے کا دور تب شروع ہوا جب پرویز مشرف کے بارے میں سوال اٹھنا شروع ہوا کہ آیا وہ آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ کر سویلین صدر بن جائے گا اور بینظیر بھٹو کی اگلی حکومت کے ساتھ کام کرے گا؟ سوال یہ بھی تھا کہ اگر ایسا ہوا تو اس کی جگہ نیا آرمی چیف کون ہو گا؟ تب بھی دو تین نام زیر غور تھے۔ یوں جب مشرف نے فیصلہ کر لیا کہ وہ نومبر میں چیف کا عہدہ چھوڑ دے گا تو نومبر کا مہینہ اہمیت اختیار کر گیا۔ لیکن ہوا کچھ یوں کہ وردی کے بغیر مشرف ایک سال بھی نہ گزار پایا اور صدارت سے بے دخلی کے خطرے کے پیش نظر اسے استعفیٰ دینا پڑ گیا۔

ترکیہ:دھماکے کی مرکزی کردارشامی نژاد لڑکی گرفتار

تب تک آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نئے آرمی چیف بن چکے تھے۔ تین برس بعد 2010 میں دوبارہ نومبر قریب آیا تو پیپلزپارٹی کی حکومت میموگیٹ اسکینڈل میں پھنس گئی۔ تاہم پیپلز پارٹی نے بھٹو صاحب سے 1976ء کا سبق سیکھتے ہوئےاس دفعہ کوئی رسک نہ لینے کا فیصلہ کیا اور کیانی کو تین سال کی توسیع دے کر نومبر سے پہلے ہی اس مسئلے کو پیدا ہونے سے روک دیا۔ اس دوران 2013 میں نئے الیکشن ہوئے تو نواز شریف وزیر اعظم بن گئے۔

اس دوران جنرل کیانی کی ریٹائرمنٹ قریب آئی تو نومبر کا مہینہ دوبارہ سے اہمیت اختیار کر گیا پھر نومبر کا مہینہ اہم ہو چکا تھا۔ پھر سے توسیع کی باتیں شروع ہو گئیں لیکن نواز شریف نے جنرل کیانی کو توسیع نہیں دی۔ نومبر 2013 میں نواز شریف نے اچانک جنرل راحیل شریف کو نیا آرمی چیف لگا کر بہت سے لوگوں کو حیران کیا کیونکہ ان سے تین سینئر جرنیل موجود تھے۔

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ نوازشریف دراصل کرتے یہ ہیں کہ ریٹائر ہونے والے آرمی چیف سے پوچھتے ہیں کہ ان کی جگہ کس جرنیل کو نیا چیف لگانا چاہئے جو ان کے جانے کے بعد ان کی پالیسیوں اور سوچ کو آگے لے کر چل سکے۔ نواز شریف نے ہمیشہ ہر چیف سے ان کی مرضی کے جنرل کا نام پوچھا مگر اسے لگایا کبھی نہیں ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب نیا آرمی چیف اپنی تعیناتی کے بعد نواز شریف کو ملنے جاتا تو وہ اسے بتاتے کہ ان کے سابق باس انہیں چیف نہیں لگوانا چاہتے تھے۔

انہوں نے فلاں جنرل کا نام لیا تھا لیکن ہم نے آپ کو بنایا۔ مقصد یہ ہوتا کہ نیا چیف پہلے دن سے ہی اپنے سابق باس کی پالیسیوں سے ہٹ کر سوچے اور سب سے اہم بات یہ کہ وہ اپنی تعیناتی کے لیے نواز شریف کا شکر گزار رہے۔ لیکن یہ الگ کہانی ہے کہ پانچ آرمی چیف جو نواز شریف نے لگائے ان کی ہر ایک سے لڑائی ہوئی اور وہ ایک چیف بھی ایسا نہ لاسکے جسے وہ اپنا بندہ کہہ سکتے۔

رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ نومبر 2016ء میں بھی نئے آرمی چیف کا مسئلہ کھڑا ہوا۔ تب بھی یہی سپنس پیدا ہوا کہ آیا جنرل راحیل کو نومبر میں تین سال کی توسیع ملے گی یا نیا چیف آئے گا۔ اس دوران جنرل راحیل شریف اور حکومت کے مابین شدید اختلافات کے بعد ڈان لیکس سامنے آ گئیں جن میں نواز شریف حکومت کی انکوائری ہوئی اور دو تین وزیر فارغ بھی ہوئے۔ حکومت دعویٰ کرتی تھی کہ یہ سب اس لیے ہوا کہ نواز شریف نے جنرل راحیل کو ایکسٹینشن دینے سے انکار کیا تھا۔

چنانچہ نومبر 2016 میں نواز شریف نے راحیل شریف کو توسیع دینے کی بجائے جنرل باجوہ کو آرمی چیف مقرر کردیا جو سنیارٹی لسٹ میں پانچویں نمبر پر تھے۔ تب وقتی طور پر ایسا محسوس ہوا کہ شاید اب بحران ٹھکانے لگ جائے گا، لیکن ایسا نہ ہو پایا اور پانامہ لیکس سامنے آ گئیں جن کی بنیاد پر نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا گیا اور وہ وزارت عظمیٰ سے فارغ کر دیے گئے۔

رؤف کلاسرابتاتے ہیں کہ 2018ء میں الیکشن کے بعد عمران خان وزیر اعظم بن چکے تھے اور نواز شریف جیل میں تھے۔ ایک سال بعد پھر نومبر میں نیا چیف لگنا تھا لیکن عمران نے بھی وہی پیپلز پارٹی والا راستہ چنا اور جنرل باجوہ کو مدت ملازمت میں توسیع دے دی اور بحران ٹل گیا۔

لیکن اب کی دفعہ وہ مستقل انتظام کر گئے کہ آرمی چیف کو توسیع دلانے کا کام پارلیمنٹ سے کروانے کے لیے قانون بنا دیا گیا ۔ یوں ایک بار پھر نومبر کا مہینہ سیاسی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور ہم ایک دائرے میں گھومتے ہوئے ہر تین سال بعد مارچ سے نکلتے ہیں تو نومبر میں پھنس جاتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button