عمران کی نظر میں میرٹ پر کون سا جرنیل نیا چیف بنتا ہے؟

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نئے آرمی چیف کی تعیناتی میرٹ پر کرنے کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا انہوں نے سینئر ترین جرنیل کو نیا آرمی چیف بنانے کی بات کی ہے؟ اگر ان کا مطالبہ یہی ہے تو وزیر دفاع خواجہ محمد آصف بھی پچھلے دنوں یہ تجویز دے چکے ہیں کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرح چیف آف آرمی سٹاف کا تقرر بھی سینیارٹی کی بنیاد پر کیا جائے تاکہ یہ تنازعہ ہی ختم ہو جائے۔ لیکن باخبر حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان در اصل اپنی مرضی کے سینئر ترین جرنیل کو نیا آرمی چیف بنتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنرل فیض حمید کے آرمی چیف بننے کے امکانات معدوم ہونے کے بعد اب عمران خان کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کو آرمی چیف دیکھنا چاہتے ہیں جوکہ جنرل فیض حمید کے لنگوٹیے یار بھی ہیں، فیض حمید اور ساحر شمشاد دونوں کا تعلق چکوال سے ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ عمران کی طرح ساحر شمشاد، فیض حمید اور لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام بھی سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کے احسان مند ہیں، ایک جانب عمران خان سابق سپائی چیف احمد شجاع پاشا کو اپنا سیاسی گرو مانتے ہیں تو دوسری جانب ساحر شمشاد، فیض حمید اور ظہیرالاسلام انہیں اپنا استاد تسلیم کرتے ہیں، یاد رہے کہ احمد شجاع پاشا نے جنرل اشفاق کیانی کے دور میں بطور آئی ایس آئی چیف جو سیاسی کیڑا پالا تھا وہ ان کے بعد پہلے ظہیرالاسلام اور پھر فیض حمید کو ورثے میں ملیں اس ور انہیں مسلسل تنگ کرتا رہا۔ یہ کیڑا اب بھی زندہ ہے اور اب نئے چیف کو بھی تنگ کر رہا ہے۔

پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج کا اعلان

اسلام آباد کے باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے جنرل قمر باجوہ کو اگلے الیکشن تک برقرار رکھنے کی جو تجویز دی گئی ہے اس کا بنیادی مقصد صرف گند ڈالنا ہے چونکہ نہ تو عمران ایسا چاہتے ہیں اور نہ ہی جنرل باجوہ مزید توسیع لینے کے خواہشمند ہیں، بتایا جاتا ہے کہ عمران اس وقت پس پردہ ساحر شمشاد کے لیے لابنگ کر رہے ہیں جن کے لیے جنرل قمر باجوہ بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ذرائع یاد دلاتے ہیں کہ عمران خان نے نواز شریف اور آصف زرداری کو نیا آرمی چیف تعینات کرنے سے روکنے کی بات کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ فوجی سربراہ کا تقرر میرٹ پر کیا جائے، نہ کہ ذاتی پسند اور نا پسند پر۔
لیکن ذرائع بتاتے ہیں کہ عمران خان کا میرٹ اپنی مرضی کا ہے اور وہ ساحر شمشاد کو سینئر ترین جج جرنیل قرار دیتے ہیں حالانکہ وہ سنیارٹی میں دوسرے نمبر پر آتے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ عمران کسی بھی صورت سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو نیا آرمی چیف بنتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے جنہیں انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے عہدے کی معیاد مکمل نہیں کرنے دی تھی۔ اور اسی لئے انہوں نے آرمی چیف کی تقرری کو متنازع بنانے کی کوشش کی ہے۔
پاکستان میں فوجی سربراہ کا عہدہ طاقتور ترین عہدوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تقریبا ہر تین سال بعد نئی تعیناتی کے موقع پر بیان بازی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ تاہم بعض ماہرین کے خیال میں اس سال اس اہم ترین تعیناتی سے متعلق بیان بازی ماضی سے کچھ زیادہ ہی ہو رہی ہے۔
پاکستان فوج کا کہنا ہے کہ وہ سیاست سے دور رہنا چاہتی ہے اور اسے بے وجہ تنازعات میں نہ گھسیٹا جائے لیکن حکومت وقت اور حزب اختلاف اکثر کسی ایک فیصلے پر متفق نظر نہیں آتے اور سمجھا جاتا ہے کہ حکومت وقت نئے آرمی چیف کی تقرری یا توسیع کے فیصلے پر کافی دباؤ میں ہوتی ہے۔ ماضی کی بعض حکومتیں اقتدار سے جانے کے بعد اس بات کا اعتراف بھی کرچکی ہیں کہ ان پر اس حوالے سے کتنا دباؤ تھا۔کیا نئے آرمی چیف کی تقرری پر سیاست کو ختم کرنے کے لیے آرمی ایکٹ میں تبدیلی کر کے سینیارٹی کی بنیاد پر تقرری کی جائے تو اس کے گرد سیاست ختم ہو سکتی ہے؟
لیکن دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی میں سینیارٹی صرف ایک عنصر ہو سکتا ہے۔ لیخن اس میں کسی افسر کی قابلیت اور گرومنگ کے عوامل بھی شامل ہوتے ہیں۔ بعض اوقات اعلی سطح کے افسرکے پاس کوئی خاص قابلیت نہیں ہوتی اس لیے تین چار افراد کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کو دیکھا جائے تو یہاں سیاست دانوں کے ذاتی مفادات ہیں، یہاں آرمی چیف کے انتخاب میں سیاسی زاویہ ہمیشہ حاوی رہتا ہے اس لیے ایک معیار بنایا جانا چاہیے۔
ان کی تجویز تھی کہ قومی سلامتی کمیٹی کے ذریعے تمام افواج کے چیف آف سٹاف کا انتخاب کیا جائے اور اس کی صدارت وزیراعظم کو کرنی چاہیے جہاں کمیٹی اراکین اس معاملہ پر رائے دیں۔ چوں کہ یہ اراکین پروفیشنل ہوں گے تو اس حوالے سے سیاسی حلقہ کو فیصلہ سازی میں بھی آسانی ہوگی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سینیئر ترین ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جرنیل اتنا ہی تجربہ کار بھی ہو۔ انکے مطابق سینیارٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے آرمی چیف کی تقرری پر سیاست تو ختم کی سکتی ہے لیکن اس سے پیشہ ورانہ پہلو نظرانداز ہو جائے گا۔ انکا کہنا ہے کہ اکثر تجویز دی جاتی ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کی طرح آرمی چیف کی تعیناتی بھی سینیارٹی کی بنیاد پر کی جائے۔ لیکن اس کے لیے آئین میں ترامیم کرنا ہوگی۔ لیکن کچھ تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ آرمی چیف کی سینیارٹی کی بنیاد پر تقرری سے سیاست ختم نہیں ہوگی اور نہ ہی تمام لیفٹیننٹ جنرلز اس عہدے کے لیے مناسب ہوتے ہیں۔ اس لیے سینیارٹی کی بنیاد پر آرمی چیف کی تقرری ادارے کے لیے بہتر نہیں ہوگی۔ اسے اسی طرح جاری رہنے دیا جانا چاہیے تھا جیسا کیا جا رہا تھا۔ لیکن عمران نے تعیناتی کے معاملے پر سیاست کی اور اسے متنازع بنایا، یہ نہ فوج کے لیے اور نہ ہی ملک کے لیے اچھا ہے۔ سب جانتے ہیں کیوں صرف عمران خان ہی توسیع کی بات کر رہے ہیں۔
دودری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے عمران خان کے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق بیان پر کہا ہے کہ سابق وزیراعظم غیر معمولی حالات میں آرمی چیف کی تعیناتی روکنے کی بات کر رہے ہیں۔ آئینی اور قانونی طریقے کے مطابق اس وقت جو بھی جی ایچ کیو تجویز کرے گا اس کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ انکا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی پر تاحال کوئی مشاورت نہیں ہوئی۔ سب جانتے ہیں کیوں صرف عمران ہی توسیع کی بات کر رہے ہیں۔ مشاورت اکتوبر کے آخر اور نومبر کے شروع میں ہوگی، اس بارے حتمی فیصلہ وزیر اعظم کریں گے لیکن فوج کے ادارے سے مشاورت کے بعد۔

Related Articles

Back to top button