عدم اعتماد کے بعد سپریم کورٹ کی رہی سہی ساکھ بھی ختم

اتحادی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور ان کے دونوں ساتھی ججوں پر اظہار عدم اعتماد کے بعد عدلیہ کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو گئی ہے۔ 26 جولائی کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کا آغاز کیا تو ڈپٹی سپیکر اور حکومتی اتحاد کے وکلا نے عدالت کی جانب سے فل کوٹ نہ بنائے جانے کے خلاف اظہار عدم اعتماد کرتے ہوئے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم عدالت نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کاروائی جاری رکھی اور پھر اپنی مرضی کا فیصلہ بھی سنا دیا۔ آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کوئی درخواست گزار کسی جج پر اظہار عدم اعتماد کر دے تو انصاف کے اصولوں کے مطابق اسے کیس سننے سے معذرت کر لینی چاہیے لیکن افسوس کی بات ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال ان کے دونون ساتھی ججوں نے ملک کی 13 سیاسی جماعتوں کی جانب سے خود پر مشترکہ اظہار عدم اعتماد کے بعد بھی نہ صرف کیس کی کاروائی جاری رکھی بلکہ فیصلہ بھی سنا دیا۔ یاد رہے کہ یہ ملکی عدالتی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ حکومت کے وکلاء نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر اظہار عدم اعتماد کر دیا ہو۔

کیا چوہدری شجاعت بھی اپنے 10 اراکین ڈی سیٹ کروا لیں گے؟

اس سے پہلے وزیراعلٰی کے انتخاب کے کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست مسترد ہونے پر حکمراں اتحاد نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ ’ہمارے وکلا نے آئین و قانون کے مطابق بینچ کو مشورہ دیا لیکن بینچ نے اسے مسترد کر دیا۔ جمعیتِ علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اتحادی جماعتوں نے سپریم کورٹ پر اظہار عدم اعتماد کرتے ہوئے وزیراعلٰی پنجاب کے حوالے سے کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے چونکہ عدالت اپنا ذہن بنا چکی ہے اور انصاف کی دھجیاں بکھیرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اس موقع پر وزیر خارجہ اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کہنا تھا ’چونکہ فل کورٹ کے حوالے سے ہمارے متفقہ مطالبے کو مسترد کیا گیا اس لیے ہم کل کارروائی میں شریک نہیں ہوں گے۔ اگر عدالت کے چند مخصوص جج اپنی مرضی کا فیصلہ دینے پر تلے ہوئے ہیں تو انکا جو بھی دل کرتا ہے کریں۔

دوسری جانب حکومتی وکلا نے کہا ہے کہ فل کورٹ نہ بنانے کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی اپیل دائر کی جائے گی۔ اس سے پہلے ڈپٹی اسپیکر کے وکیل عرفان قادر 26 جوکائی کی صبح عدالت میں پیش ہوئے اور حکومتی بائیکاٹ سے متعلق بتایا کہ مجھے کہا گیا ہے کہ ہم عدالتی کارروائی کا مزید حصہ نہیں بنیں گے، ہم فل کورٹ درخواست مسترد کرنے کے حکم کیخلاف نظر ثانی دائر کرینگے۔ یہ کہہ کر عرفان قادر سپریم کورٹ سے واپس چلے گئے۔ عدالت کے باہر عرفان قادر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا آئینی حق ہے کہ فل کورٹ نہ بنانے کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر کریں، انہون نے کہا کہ اگر نظر ثانی کی اپیل بھی مسترد ہوئی تو پھر ہماری درخواست فل کورٹ کے سامنے لگے گی، اور مجھے امید ہے کہ وہاں سے مسترد نہیں ہوگی۔

عرفان قادر نے کہا کہ میں بھی ماضی میں جج رہا ہوں، اگر کسی سائل کو کسی جج پر اعتراض ہوتا تھا تو میں خود ہی بینچ چھوڑ دیتا تھا، یہ ایک مسلمہ قانون ہے کہ اگر کسی کو جج پر اعتراض ہے تو بینچ تبدیل ہو جاتا ہے، اگر آپ کا کیس ایسے جج کے سامنے لگا ہو جہاں لاکھوں لوگ اعتراض کر رہے ہوں تو پھر آپکو ہٹ جانا چاہیے۔

دوسری جانب حکومتی وکلاء کی جانب سے سپریم کورٹ پر اظہار عدم اعتماد اور اس کا بائیکاٹ کرنے کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر وکلا اس فیصلے پر نظرثانی کریں تو سب کیلئے بہتر ہوگا، تاہم یہ فقرہ کہہ کر گونگلووں سے مٹی جھاڑنے کے بعد عمر عطا بندیال نے عدالتی کارروائی جاری رکھی۔ باقی دن کی عدالتی کارروائی کے دوران تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر اور چیف جسٹس ایک دوسرے کو دلائل دیتے اور دلواتے رہے جس کے بعد وہی فیصلہ آ گیا جس کی امید کی جا رہی تھی۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے فل کورٹ نہ بنانے کی ضد اور پھر عدالتی بائیکاٹ کے باوجود سماعت مکمل کر کے اپنی مرضی کا فیصلہ سنانے سے سپریم کورٹ کی رہی سہی ساکھ بھی خاک ہو گئی ہے۔

Related Articles

Back to top button