گوادر میں ترقیاتی کاموں کی رفتار غیر تسلی بخش قرار دیدی

وزیر اعظم شہباز شریف نے گوادرمیں جاری ترقیاتی کاموں کی رفتار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر تسلی بخش قرار دے دیا ،اور کہا ہے کہمتعدد منصوبے تاخیر کا شکار ہیں، ڈریجنگ نہ ہونے کی وجہ سے بڑے جہاز لنگر انداز نہیں ہوسکے جبکہ گوادر ایئر پورٹ بھی مکمل نہیں ہوسکا۔

جنرل باجوہ کے ڈاکٹرائن میں سب سے بڑی خرابی کیا تھی؟

گوادر میں ایسٹ بے ایکسپرس وے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ گوادر ایئر پورٹ گرانٹ کے طور پر چینی صدر نے دیا اور 18-2017 میں گوادر ایئر پورٹ کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا، ماضی میں ڈرلنگ نہیں ہوئی اور اس طرح متعدد امور تاخیر کا شکار ہوگئےاور مجھے آگاہ کیا گیا کہ پانی کے ذخیرے میں کمی آسکتی ہے، اگر پہلے سستے داموں ڈی سیلینیشن پلانٹ لگ جاتے تو گوادر کے ہر گھر میں پینےکا پانی ہوتا۔
انکا کہنا تھا احسن اقبال کو کہا ہے کہ متعلقہ وزرا سے اجلاس کرکے ہر منصوبے کو ٹائم لان کے ساتھ مکمل کریں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے زور دیا کہ گوادر شہر کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹ کے لیے فی الفور کام شروع کریں، پانی کی کمی دور کرنے کے لیے ڈی سیلی نیشن پلانٹ لگانا ہوں گے جس پر اربوں روپے خرچ ہوں گے، ڈی سیلی نیشن پلانٹ پہلے لگ جاتے تو کافی پیسے بچ جاتے جبکہ کئی سال بعد بھی بجلی کی ٹرانسمیشن لائنیں نہیں بچھائی جاسکیں،مزید وقت ضائع کیے بغیر گوادر کے لیے بھی ڈی سیلی نیشن پلانٹ لگایا جائے اور گوادر اور ملحقہ علاقوں کے لیے سولر پلانٹ لگادیے جائیں،گوادر میں رہنے والے 3 ہزار 200 خاندانوں کے لیے چین شمسی پینل فراہم کررہا ہے جبکہ ایران سے بجلی لاسکتے ہیں تو خوشی ہوگی اور اچھی بات ہوگی۔

وزیر اعظم نے کہا پیٹرول کی قیمت پر 30 روپے اضافے سے متعلق بات کرتے ہوئےکہا کل رات مجبوراً پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا، ایک ہفتے تک پوری کوشش کی کہ عوام پر اضافی بوجھ نہ ڈالیں لیکن سابقہ حکومت نے قرض کے اوپر ملک چلایا، پچھلی حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کا احساس نہیں ہوا،جب انہیں عدم اعتماد کی کامیابی کا احساس ہوا تو تیل کی قیمتیں کم دیں جس کے بعد ہمیں اضافی بوجھ دینا پڑا کیونکہ ہمارے پاس کوئی دوسرا حل نہیں تھا لیکن اس کے ساتھ 8 کروڑ افراد کے لیے 2 ہزار روپے مہینہ سبسڈی دی۔

دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچے ہیں جہاں وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایئرپورٹ پر وزیراعظم کا استقبال کیا، جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کوئٹہ میں اسٹاف کالج کی پاسنگ آؤٹ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔

وزیر اعظم شہباز شریف گوادر پورٹ کا فضائی دورہ کا کیا اور اور ایسٹ بے ایکسپریس وے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم چینی کمپنیوں کے وفد سے بھی ملاقات کی۔

Related Articles

Back to top button