قرض پر IMF جائزہ اجلاس ملتوی کرنے کی پاکستانی درخواست منظور

عالمی مالیاتی فنڈ نے کپتان حکومت کی جانب سے6 ارب ڈالر کے قرض پروگرام پر 12 جنوری کو ہونے والے نظرثانی

اجلاس کو ملتوی کرنے کی درخواست منظور کر لی ہے۔ اب جائزہ اجلاس 28 یا 31 جنوری کو بلائے جانے کا امکان ہے۔ یوں حکومت کو عوام دشمن منی بجٹ منظور کروانے میں اب جلد بازی کی ضرورت نہیں رہی۔

یاد رہے کہ آئی ایم ایف کی کاسہ لیسی کرنے والی عمران حکومت نے متنازع ضمنی فنانس بل 2021 المعروف منی بجٹ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل 2021 کے ساتھ 30 دسمبر 2021 کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے بعد 4 جنوری کو سینیٹ کے سامنے پیش کیا تھا۔

دونوں بلز کی منظوری اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک کی 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت کے چھٹے جائزے کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری مل جائے۔

حکومت کا پہلے یہ ارادہ تھا کہ 12 جنوری کو ہونے والے آئی ایم ایف بورڈ کے اجلاس سے پہلے دونوں بلز منظور کرالیے جائیں۔ اگر پارلیمنٹ منظور کرلیتی ہے تو منی بجٹ خصوصاً سیلز ٹیکس استثنیٰ واپس لے کر 3 کھرب 43 ارب روپے کی اضافی آمدنی پیدا کرے گا جو کہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 0.6 فیصد کے برابر ہے۔

اگرچہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے اس بات کو مسترد کر دیا ہے کہ نئے ٹیکس اقدامات کی نوعیت مہنگائی والی ہے اور ٹیکس استثنیٰ واپس لینے اور بڑی تعداد میں اشیا پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے سے قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔ اس قانون سازی کے اقدام پر پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کی گئی، چیئرمین سینیٹ نے ضمنی مالیاتی بل کو سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ کو بھجوا دیا تھا اور تین دن میں سفارشات کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی تھی۔

قبل ازیں 2 جنوری کو وزارت خزانہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا تھا کہ آئی ایم ایف نے ایک ارب ڈالر کی قسط کی راہ ہموار کرنے والی نظر ثانی کے لیے کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی۔

کوئٹہ میں بڑی دہشتگردی کا منصوبہ ناکام، 6 دہشتگرد مارے گئے

عہدیدار نے کہا تھا کہ پاکستان کا جائزہ اب بھی 12 جنوری کو ہونے والے آئی ایم ایف بورڈ کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے جس کے لیے وزارت خزانہ نے پہلے ہی مطلوبہ دستاویزات ارسال کردی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ آئی ایم ایف بورڈ باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرتا ہے اور پاکستان نے جائزہ ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے۔ ذرائع نے اب بتایا ہے کہ حکومت کو توقع ہے کہ 28 یا 31 جنوری کو ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس سے قبل منی بجٹ کو پارلیمانی منظوری مل جائے گی جو کہ قرض پروگرام کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف کی بنیادی شرائط میں سے ایک ہے۔

ذرائع میں سے ایک نے کہا کہ ’حکومت کو پورا یقین ہے کہ آئی ایم ایف بورڈ قرض پروگرام کی بحالی کے لیے منظوری دے گا۔‘ ضمنی مالیاتی بل 2021 پر بحث کے دوران سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اراکین نے متفقہ رائے کا اظہار کیا کہ مجوزہ ٹیکس اقدامات سے ’مہنگائی کا سونامی‘ آئے گا۔

کمیٹی نے چیئرمین سینیٹ کی جانب سے مختصر وقت میں بل پر غور کو حتمی شکل دینے کے ’غیر آئینی‘ حکم پر اعتراض کیا۔
کمیٹی نے یاد دہانی کرائی کہ آئین کے مطابق بل پر غور و خوض کے لیے 14 ورکنگ ڈیز درکار ہیں۔

Related Articles

Back to top button