پاکستانی معیشت کا حال سری لنکا سے بھی برا ہونے والا ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ اگر خدانخواستہ پاکستان ڈیفالٹ کر گیا تو ہم سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔ ہم مثالیں تو سری لنکا کی دے رہے ہیں لیکن مجھے ڈر ہے کہ ملک کے دیوالیہ ہونے کی صورت میں پاکستان کی صورتحال سری لنکا سے بھی بدتر ہو سکتی ہے جو نہ تو سیاستدانوں کے حق میں بہتر ہوگا اور نہ ہی فوج کے حق میں اور نہ ہی اس کا سیاسی فائدہ حکومت یا اپوزیشن کو ملے گا۔ سب پچھتائیں گے لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی ہو گی۔ لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ معیشت پر سیاست کرنا بند کر دی جائے، سب سیاستدان سر جوڑ کر بیٹھ جائیں اور پاکستان کو اس مشکل سے نکالنے کی تدبیر کریں۔

وزیراعظم کو حنیف عباسی کے تقرر پر نظر ثانی کا حکم

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں انصار عباسی کہتے ہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے معیشت پر قومی میثاق کے لیے گرینڈ ڈائیلاگ کی بات تو کی ہے لیکن اُنہوں نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اُٹھایا۔ دس بارہ جماعتوں کی اتحادی حکومت کے سربراہ کے طور پر شہباز شریف کو سب سے پہلے عمران خان کو دعوت دینی چاہیے۔ تحریک انصاف کو بھی سیاسی رنجشوں کو ذاتی دشمنی کا رنگ دینے کی بجائے بھلا کر پاکستان اور عوام کی خاطر حکومت کے ساتھ بیٹھنا چاہیے۔ اس وقت معیشت کو سدھارنے، اسے سیاست سے پاک کرنے اور ایک ایسے معاشی مستقبل کے تعین کے لیے ضروری ہے کہ سب سٹیک ہولڈرز مل بیٹھیں جس کا مقصد نہ صرف فوری معاشی مشکلات سے پاکستان کو نکالنا ہو تاکہ ہم ڈیفالٹ سے بچ جائیں بلکہ آئندہ ایسی معاشی پالیسیاں اپنائیں کہ ہماری روز روز کی معاشی مشکلات سے جان چھوٹ جائے اور پاکستان کو ایک مضبوط معاشی مستقبل میسر ہو۔

انصار عباسی کے مطابق ملک میں کوئی بھی حکومت ہو ہم نے اسے دوسرے ممالک سے بھیک مانگتے ہی دیکھا ہے، جو حکمرانی کرنے آتا ہے ہمیشہ اپنے سے پہلے والوں کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ ملک دیوالیہ ہوسکتا ہے اس لیے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ اپوزیشن میں سب آئی ایم ایف کو بُرا بھلا کہتے ہیں لیکن حکومت میں سب اس کے پاس جانے کے جتن یہ کہتے ہوئے کرتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ اب تک ہم کوئی بیس مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس جا چکے ہیں لیکن معاشی مشکلات بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ غلطیاں ہماری اپنی ہیں، ٹیکس یہاں بہت کم لوگ دیتے ہیں، کرپشن اور نااہل طرز حکمرانی کا یہاں راج ہے، بجلی گیس یہاں سالانہ کھربوں کی چوری ہوتی ہے، حکومتی ادارے سالانہ اربوں کمانے کی بجائے کھربوں عوام کا ہی کھا جاتے ہیں۔

انصار عباسی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں ہمارا حکمران طبقہ اور اشرافیہ قومی خزانے کو اپنی عیاشیوں کے لیے ہی استعمال کرتے ہیں۔ وعدہ سب کرتے ہیں کہ کرپشن کا خاتمہ کیا جائے گا، طرز حکمرانی کو بہتر بنایا جائے گا، سالانہ کھربوں کھانے والے قومی اداروں کو درست کیا جائے گا، بجلی اور گیس کی چوری کو روکا جائے گا لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ جس کی حکومت آتی ہے وہ پہلے سے موجود بیماری کو مزید بڑھا کر چلا جاتا ہے اور پھر معاشی معاملات ہوں یا دوسرے اہم قومی نوعیت کےمعاملات، سب پر سیاست کی جاتی ہے۔ آج بھی دیکھ لیں کل کی اپوزیشن اور آج کی اتحادی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد پیٹرول کی قیمت کو بڑھانے کے متعلق کیا کہہ رہی ہے اور کل کی حکومت یعنی عمران کی تحریک انصاف آج اپوزیشن میں آنے کے بعد کیا کہہ رہی ہے۔ مشکلات اور زمینی حقائق کا دونوں اطراف کو پتا ہے لیکن سیاست کے لیے اپنا بیانیہ بدل دیتے ہیں، چاہے ملک کے ساتھ کتنا بھی برا ہو جائے۔

Related Articles

Back to top button