منی لانڈرنگ کیس کا ملزم پرویز الٰہی کا سیکرٹری کیسے بنا؟

بیوروکریسی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ گریڈ 7 کے کلرک سے ترقی کرتے ہوئے گریڈ 22 تک پہنچ جانے والے چوہدری پرویز الہی کے خاص الخاص سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کو وزیر اعلیٰ پنجاب کا پرنسپل سیکرٹری لگا دیا گیا ہے حالانکہ وہ ایک منی لانڈنگ کیس میں مونس الٰہی کے ساتھ شریک ملزم ہیں اور ان کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ 27 جولائی کو سپریم کورٹ کے تین رکنی متنازعہ بینچ کی جانب سے وزیراعلیٰ مقرر کیے جانے کے بعد پرویز الٰہی نے پہلی سرکاری تقرری محمد خان بھٹی کو اپنا پرنسپل سیکریٹری لگا کر کی حالانکہ تب تک انہوں نے اپنے عہدے کا حلف بھی نہیں اٹھایا تھا۔ محمد خان بھٹی نامی جس شخص کو پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو نے اپنا پرنسپل سیکرٹری رکھا ہے وہ پرویز الہی سے اپنی وفاداری کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے پرویز الہی کی سرپرستی میں پنجاب اسمبلی میں بطور سات گریڈ کے کلرک بھرتی ہونے کے بعد سے 22؍ گریڈ کے افسر تک کا سفر طے کیا ہے۔

سینئر صحافی عمر چیمہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے سرکاری ملازمین میں بھٹی پہلے افسر ہیں جو گریڈ 7 سے پرنسپل سیکرٹری کے اعلیٰ ترین عہدے تک پہنچے ہیں۔ یاد رہے کہ محمد خان بھٹی کا ایک بھتیجا ساجد بھٹی پنجاب اسمبلی میں ق لیگ کا پارلیمانی لیڈر ہے جس نے اپنی پارٹی کے ارکان صوبائی اسمبلی کو تب یہ حکم دیا تھا کہ پرویز الٰہی کو ووٹ دیں جب پارٹی کے سربراہ شجاعت حسین نے حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ بھٹی کا ایک اور بھتیجا اور ساجد کا بھائی واجد بھٹی ایک منی لانڈرنگ کیس میں چوہدری مونس الٰہی کیساتھ شریک ملزم ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ محمد خان بھٹی بھی اسی کیس کے شریک ملزم ہیں۔ بھٹی کے کیریئر کی شروعات 90ء کی دہائی سے شروع ہوتی ہے۔ ساجد اور واجد کے والد احمد خان بھٹی اس وقت گجرات کے چوہدریوں کے پاس کام کرتے تھے اور یہیں سے ان کے بھائی محمد خان بھٹی کو سات گریڈ میں بلدیاتی حکومت میں ملازمت ملی۔ یہ 1985 کی بات یے اور تب پرویز الٰہی بلدیاتی حکومتوں کے وزیر تھے۔ پرویز الٰہی کی آشیرباد کیساتھ 1997ء میں محمد خان کو پنجاب اسمبلی میں بھرتی کیا۔ لیکن قلیل عرصہ میں ہی وہ 19؍ گریڈ تک پہنچ گئے۔ جنرل مشرف کی فوجی بغاوت کے بعد جب اسمبلی تحلیل ہوئی اور گجرات کے چوہدریوں نے جنرل مشرف سے ہاتھ ملا لیا۔ اس کے بعد بھی محمد خان کی ترقی کا عمل جاری رہا۔ 2002ء میں اسے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے سیاسی امور کا ایڈیشنل سیکرٹری مقرر کر دیا گیا۔ بعد ازاں موصوف کو پرویز الٰہی کی حکومت میں ہی اسپیشل سیکریٹری کی حیثیت سے ترقی دے دی گئی۔

فیض حمید تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات میں شامل

محمد خان بھٹی کے لیے پرویز الہٰی کی محبت کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ چھوٹے چوہدری نے جی او آر ون میں کلب روڈ لاہور پر بھٹی کے لیے چار کنال کا نیا گھر تعمیر کرایا تھا۔ 2007ء سے یہ سرکاری گھر محمد خان بھٹی کی ملکیت میں ہے۔ 2008ء سے 2018ء کے دوران نون لیگ کی حکومت میں سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال نے محمد خان بھٹی کو ملازمت سے برطرف کر دیا لیکن لاہور ہائی کورٹ نے انہیں بحال کر دیا۔ 2018ء میں جب پرویز الٰہی اسپیکر بنے تو محمد خان بھٹی بھی واپس اسمبلی پہنچ گئے اور تب سے سیکرٹری اسمبلی کے عہدے پر فائز تھے۔ ان ہی کی آشیرباد سے محمد خان کو مزید ترقی نصیب ہوئی اور وہ گریڈ 22 میں پہنچ گے جو کے ایک نیا ریکارڈ ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکریٹری بن جانے کے بعد محمد خان بھٹی اب چیف منسٹر سیکریٹریٹ کے اعلیٰ ترین افسر بن چکے ہیں۔ لیکن پرویز الٰہی فیملی کے ساتھ ان کے تعلقات صرف پنجاب اسمبلی تک محدود نہیں۔ اپنے کیریئر میں ملازمت سے برطرفی کے دوران وہ پرویز الٰہی کے پولیٹیکل سیکریٹری بھی رہے ہیں۔ اسکے علاوہ وہ پرویز الٰہی فیملی کے مالی معاملات میں بھی پوری طرح ملوث ہیں جس کا ثبوت ان کا مونس الہی کے خلاف دائر منی لانڈرنگ کیس میں بطور شریک ملزم نامزد ہونا ہے۔ یہ حقیقت مونس الٰہی کیخلاف جاری منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقاتی رپورٹ میں بھی سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق رحیم یار خان شوگر مل 2007 میں ایک نائب قاصد، نواز بھٹی اور ایک طالب علم مظہر عباس نے مل کر لگائی۔ سابق وزیر خسرو بختیار کے بھائی عمر شہریار نے 2007ء میں رحیم یار خان شوگر مل قائم کرنے کیلئے این او سی کیلئے درخواست دی تو تب کے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے اسے فوراً منظور کیا تھا۔ اس شوگر مل میں نواز کا شیئر 31؍ فیصد جبکہ مظہر کا حصہ 35؍ فیصد تھا۔ شوگر مل کے سرمایہ کی مالیت 2008ء میں بڑھ کر 720؍ ملین روپے ہوگئی اور ان اثاثہ جات کے ذرائع غیر واضح رہے۔ نائب قاصد نواز اور طالب علم مظہر نے 2011ء سے 2014ء کے درمیان اپنے شیئرز فروخت کر دیے لیکن یہ ساری خرید و فروخت غیر واضح رہی۔ مختلف ہاتھوں سے ہوتے ہوئے 34؍ فیصد شیئرز دو آف شور کمپنیوں (کیسکیڈ ٹیک پرائیوٹ لمیٹڈ اور ایکس کیپیٹل پرائیوٹ لمیٹڈ) نے خرید لیے۔

مونس الہی اور محمد خان بھٹی کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی تفتیش کرنے والے ایف آئی اے افسران کا کہنا ہے کہ یہ دونوں کمپنیاں دراصل پرویز الٰہی کی ہیں۔ ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق، ان کمپنیوں میں 10؍ فیصد شیئرز محمد خان بھٹی کے بھتیجے واجد بھٹی کے ہیں جو کہ چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی ساجد بھٹی کے بھائی ہیں۔ مخدوم عمر شہریار (جن کے بھائی خسرو بختیار پرویز مشرف حکومت میں وزیر تھے) اور ان کے بہنوئی طارق جاوید کے پاس مجموعی طور پر 2020ء تک اس شوگر مل کے 31؍ فیصد شیئرز تھے۔ ایف آئی اے کو شبہ ہے کہ ہرویز الٰہی اور مونس الہی نے پراکسی استعمال کرتے ہوئے شوگر مل کے قیام کیلئے فنڈز کی نوعیت کو چھپایا ہے۔

دوسری جانب ق لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد خان بھٹی کو نوازنے کے الزامات بے بنیاد ہیں، ان کی سات گریڈ سے 22 گریڈ تک ترقی آئین اور قانون کے مطابق ہوئی ہے اس میں پرویز الہی کی سفارش کا کوئی عنصر شامل نہیں تھا۔

Related Articles

Back to top button