پرویز ہودبھائی کا ڈاکٹر عطا کو قوم سے معافی مانگنے کا مشورہ

معروف سکالر ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے ڈاکٹر عطا الرحمن کے معافی نامے کے جواب میں انہیں پاکستانی قوم سے معافی مانگنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو سلوک برنی ماڈوف نے امریکہ کی وال اسٹریٹ کے ساتھ کیا، وہی سلوک آپ نے پاکستان کے ہائر ایجوکیشن سسٹم کے ساتھ کرتے ہوئے اس کو تباہ کر دیا۔ پرویز ہود بھائی نے ڈاکٹر عطاء الرحمن کو مشورہ دیا کہ مجھ سے معافی مانگنے کی بجائے آپ ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم کی طرح ٹیلی ویژن پر آ کر پاکستانی قوم کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کریں اور پھر ان سے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو ان لوگوں سے بھی تعاون کرنا چاہئے جو تحقیقات کے لئے آپ کے پاس آ رہے ہیں۔

اسلام قبول کرنے والے مشہور کورین گلوکار کی پاکستان آمد

یہ قصہ تب شروع ہوا جب معروف کیمیاء دان اور سابق وزیراعظم عمران خان کے ٹاسک فورس کے سربراہ برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر عطا الرحمن نے ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کے نام ایک ای میل لکھی، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اب وہ بوڑھے ہو چکے ہیں، ان کی زندگی کے دن تھوڑے ہیں اور وہ پرانی باتیں بھلا کر تمام ناراضیاں ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماضی میں میری آپ سے کوئی تلخی ہوئی ہے تم میں اس پر آپ سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔ اس ای میل کے جواب میں پرویز ہود بھائی نے جوابی میل ارسال کی جو اب لوگ سوشل میڈیا پر بھی شیئر کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر عطا الرحمن نے پرویز ہود بھائی کے نام ای میل میں کہا تھا کہ ”ہمارے باہمی اختلافات لگ بھگ بیس سال سے چل رہے ہیں۔ مہذب دنیا میں یہ معمول ہے کہ اختلاف رائے کے باوجود بھی ایک دوسرے کے ساتھ مہذب انداز میں پیش آیا جائے۔ بعض اوقات ہمارے درمیان ہونے والا مکالمہ ان حدود سے آگے نکل گیا۔ میں 80 سال کا ہو گیا ہوں اور صحت بھی گر رہی ہے۔ میں دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے تمام ناراضیاں دور کرنا چاہتا ہوں۔ آپ سے بحث مباحثے کے دوران اگر میں نے کبھی بھی آپ کے جذبات کو کسی بھی صورت ٹھیس پہنچائی ہو تو میں اس کے لئے معذرت خواہ ہوں اور چاہتا ہوں کہ جو ہو چکا اسے بھلا دیا جائے“۔

اس ای میل کے جواب میں ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے جوابی ای میل لکھتے ہوئے کہا کہ ڈئیر ڈاکٹر عطا الرحمن، آپ کی ای میل سے پتہ چلا کہ آپ بیمار ہیں تو مجھے دکھ ہوا۔ آپ کا ماضی کی تلخیاں بھلا دینے کا جذبہ قابل قدر ہے۔ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے تو اس طرح کی کسی ناراضی یا تلخی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ہم دونوں کے بیچ کوئی ذاتی جھگڑا نہیں تھا۔ اگر اس کے باوجود آپ کو یقین نہیں آتا تو میں حلفاً کہتا ہوں کہ ”مسمی پرویز ہودبھائی کو ڈاکٹر عطا الرحمن سے کسی قسم کی پرخاش نہیں کیونکہ انہوں نے کبھی ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا ہو گا جس سے میرا نقصان مقصود ہوتا“۔

پرویز ہود بھائی نے لکھا کہ لیکن یہ کہنے کے بعد مجھے کہنے دیجئے کہ اکیلے آپ کی ذات پاکستان میں ہائر ایجوکیشن سسٹم کی تباہی کی ذمہ دار ہے۔ یہ تباہی اس قدر شدید ہے کہ مستقبل قریب میں اس کے اثرات کم ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ طاقت، اثر و رسوخ اور پیسے کے اندھا دھند تعاقب میں آپ نے دھوکے بازی، جھوٹ، اور فراڈ کا ہر ہتھیار استعمال کیا۔ اکیڈیمک طور پر بھی، مالی طور پر بھی۔ جو نسل ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی، وہ بھی آپ پر لعن طعن کرے گی۔

کسی بھی کامیاب سیلز مین کی طرح، جسے اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ وہ خراب سیب بیچ رہا ہے، آپ نے ترقی اور سائنس کے نام پر ایسے کتنے ہی سادہ لوح لوگوں کو پھانساجنہیں با آسانی بے وقوف بنایا جا سکتا تھا۔ پہلے جنرل مشرف، پھر عمران خان کی کاسہ لیسی کرتے ہوئے آپ اوپر پہنچے۔ اس کے بعد اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھا کر آپ نے پانی کی طرح ایسے منصوبوں پر پیسہ بہایا جو آپ کے من کو بھائے اور یوں ایسے ضروری منصوبے جہاں سرمایہ کاری کی اشد ضرورت تھی، محروم رہ گئے۔ بطور چیئرمین ایچ ای سی جب آپ کا عروج تھا، اپنی انا کی تسکین کے لئے آپ نے اپنے اور سہیل نقوی کے پوسٹر پورے اسلام آباد میں لگوائے۔

پرویز ہود بھائی نے عطا الرحمن کے نام اپنی ای میل مزید لکھا کے اب جبکہ عمران خان رخصت ہو گئے ہیں اور نئی حکومت نے آپ کی زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کی تو یقیناً آپ پریشان ہوں گے۔

پرویز ہود بھائی نے ڈاکٹر عطاالرحمن کے جرائم کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا اپنی مقبولیت میں اضافے کے لئے فرضی سائنس کو فروغ دینا انتہائی شرمناک بات ہے۔ آپ نے روزنامہ ڈان میں لکھا کہ ہارپ (HAARP) ایک ایسا امریکی ہتھیار ہے جس کی مدد سے موسمی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں اور پاکستان میں سیلاب اور زلزلے امریکی سازش کا نتیجہ تھے۔ انسانی خوف اور جبلت سے وابستہ سفلی جذبات کو ہوا دے کر آپ نے اپنے رہنما عمران خان کی پیروی کی جو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ انہیں امریکہ نے سازش کر کے نکالا۔

انہوں نے لکھا کہ ڈاکٹر عطا الرحمن: آپ کو بہت سے سوالوں کا جواب دینا ہے مگر مجھے نہیں۔ برنی ماڈوف نے جو کچھ امریکہ کی وال اسٹریٹ کے ساتھ کیا، وہی کچھ آپ نے پاکستان کی ہائر ایجوکیشن کے ساتھ کیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم کی طرح آپ کو بھی ٹیلی ویژن پر آ کر پاکستانی عوام کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کرنا چاہئے، پھران سے معافی مانگنی چاہئے۔ کم از کم آپ کو ان لوگوں سے تعاون کرنا چاہئے جو تحقیقات کے لئے آپ کے پاس آ رہے ہیں۔ دریں اثنا، اچھی صحت کے لئے میری نیک تمنائیں اور میری خواہش ہے آپ کافی سال زندہ رہیں تا کہ آپ کو عمر بھر کئے گئے جرائم کا کفارہ ادا کرنے کا موقع مل سکے۔

Related Articles

Back to top button