ن لیگ نے باجوہ اور فیض کو ٹارگٹ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

مسلم لیگ نون کی جانب سے خود کو اقتدار سے بے دخل کرنے والے جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید اور ان کے سہولت کار جج حضرات کے خلاف مہم چلانے کا فیصلہ بنیادی طور پر پارٹی کی گرتی ہوئی مقبولیت کو روکنا اور اگلے عام انتخابات میں عمران خان کے بیانیے کو کائونٹر کرتے ہوئے عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنا ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے 9 ماہ کے دوران مسلم لیگ نون کی کم ہوتی ہوئی مقبولیت کی بنیادی وجہ عمران خان کی جانب سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اپنانا ہے حالانکہ عمران اب اسی جنرل باجوہ کو ٹارگٹ کر رہے ہیں جس کے ساتھ مل کر انہوں نے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے برطرف کروایا تھا۔ ایسے میں نون لیگ کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ چونکہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید ان کی پارٹی کے ولن تھے لہٰذا انہوں نے جو زیادتیاں کیں ان کو ہائی لائٹ کرتے ہوئے ان کے خلاف بھرپور مہم چلائی جائے۔ نواز شریف نے یہ راستہ اپنایا ہے کہ صٖفائیاں دینے کی بجائے لوگوں کی توجہ موجودہ معاشی بحران کے ذمہ دار سابق فوجی جرنیلوں اور ججوں کی طرف مبذول کروائی جائے۔ تاہم ایسا کرتے ہوئے موجودہ اسٹیبلشمنٹ کو بالکل بھی ٹارگٹ نہیں کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ نواز شریف نے حال ہی میں لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے موجودہ بحران کی ذمہ داری سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اور خفیہ ادارے کے سابق سربراہ جنرل (ر) فیض حمید پرعائد کرتے ہوئے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے پہلی بار پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے اس موقع پر ‘عمران پراجیکٹ‘ کا ذکر بھی  کیا اور کہا کہ  ذاتی مفاد کے لیے پاکستان کے ساتھ گھناؤنا مذاق کیا گیا۔”حقیقت سب کے سامنے ہے، اب کوئی نام اور چہرہ چھپا ہوا نہیں ہے، پاکستان کو ذاتی مفاد کی خاطر استعمال کیا گیا اور ان لوگوں کو بے نقاب کرنا لازم ہے۔‘‘ سیاسی تجزیہ نگاروں کے بقول یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین ممکنہ طور پر جاری بیک چینل بات چیت کے حوالے سے پیش رفت کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ عدالتوں سے عمران خان کو ریلیف مل رہا ہے اور پی ٹی آئی کی طرف سے قومی اسمبلی میں واپس جانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

نون لیگ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف تک یہ بات پہنچائی گئی تھی کہ پنجاب اسمبلی نہیں ٹوٹے گی اور پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کر پائیں گے، لیکن اسٹیبلشمنٹ کے حامی سیاستدان چوہدری پرویز الٰہی کا پنجاب اسمبلی میں کامیابی سے اعتماد کا ووٹ لے لینا اور پھر انہی کے ہاتھوں پنجاب اسمبلی کا تحلیل ہونا ایک معنی خیز اقدام تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی جیسے اسٹیبلشمنٹ نواز سیاست دان کا پنجاب اسمبلی توڑ کر اپنی وزارت اعلیٰ ختم کرنا بھی تب تک ممکن نہیں تھا جب تک انہیں کوئی تگڑی یقین دہانی نہیں کروائی جاتی۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ نواز شریف کی طرف سے پرانی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید سے ان کو یہ فائدہ بھی مل رہا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی کارکردگی سے لوگوں کی توجہ ہٹا کر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ملک کی موجودہ بحران کے ذمہ دار وہ نہیں بلکہ جنرل باجوہ اور ان کے ساتھی تھے۔ دوسری طرف وہ ان مسائل کے حل کرنے کا عزم ظاہر کرکے انتخابات اکتوبر تک لے جانے کا پیغام بھی متعلقہ حلقوں تک پہنچا رہے ہیں۔ نواز شریف کہنا یہ چاہتے ہیں کہ چار سال تک ایک پیج پر رہنے والوں  کے پیدا شدہ حالات کو چند مہینوں میں درست کیے جانے کی توقعات نہ رکھی جائے۔ خان صاحب کی طرف سے ہینڈلرز کی بات کرنا اور نواز شریف کی طرف سے سلیکٹرز کی بات کرنا دراصل اپنے بیانیے کو تقویت دینے کے لیے ہے۔‘‘

سینئر تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی کے مطابق نواز شریف بغیر ایسے بیانات داغے اگر ملک واپس آتے ہیں تو عمران ان پر کرپشن کے الزامات لگا کر ان کا استقبال کریں گے۔ اس لیے نواز شریف نے یہ راستہ اپنایا ہے کہ صٖفائیاں دینے کی بجائے لوگوں کی توجہ بحران کے ذمہ داروں کی طرف مبذول کروائی جائے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ نون آنے والے انتخابات میں جنرل (ر)قمر باجوہ، جنرل (ر)فیض حمید، اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سمیت ان کی حکومت ختم کرنے کے ذمہ دار افراد کو نشانہ بنانے والا بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ نواز شریف پہلے سیاست دان ہیں جنہوں نے گوجرانوالہ کے جلسے میں پوری قوت کے ساتھ تب کے آرمی چیف اور خفیہ ادارے کے سربراہ کا نام لے کر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس پر ایک طرف اسٹیبلشمنٹ کی صفوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی تو دوسری طرف نواز شریف کو عوام میں کافی پزیرائی ملی تھی۔ لیکن جب تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران کی چھٹی ہوئی اور شہباز شریف وزیراعظم بنے تو تباہ حال ملک کی معیشت کا ڈھول نون لیگ کے گلے میں پڑ گیا۔ اس دوران خان صاحب نواز شریف کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اپنا کر مقبول ہو گئے اور مسلم لیگ ن کی سیاست عوامی حمایت سے محروم ہوتی چلی گئی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان حالات میں اب نواز شریف کے پاس آپشنز بہت کم رہ گئے ہیں وہ سابق فوجی قیادت پر تنقید کرکے اپنی کھوئی ہوئی عوامی مقبولیت کا ازالہ چاہتے ہیں۔ نواز شریف کو شک ہے کہ عمران کو اب بھی دست شفقت میسر ہو سکتا ہے۔ میڈیا میں ان کو اپنا بیانیہ پیش کرنے کی مکمل سہولت ہے اور انہیں لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان سے پنجاب ہتھیانے کی سازش کی جا رہی ہو۔‘‘ حفیظ اللہ نیازی کے مطابق نواز شریف اس جنرل باجوہ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جس نے موجودہ آرمی چیف عاصم منیر کی تقرری کی مخالفت کی تھی۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اندر بھی جنرل باجوہ کی پالیسیوں پر تحفظات رکھنے والے موجود ہیں اس لیے زیادہ امکان یہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کے ان بیانات کا برا نہیں منائے گی۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا کیونکہ پاکستان کی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ طاقتور کے خلاف اصولی سٹینڈ لینے والے کو عوام پسند کرتے ہیں اور ماضی میں ہم نے دیکھا ہے کہ تنقید کا نشانہ بنانے والوں کو ریلیف ملتا رہا ہے۔

لیکن حفیظ اللہ نیازی نےبتایا کے اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ عمران اور اسٹیبلشمنٹ میں ماضی کی طرح کی کوئی انڈراسٹینڈنگ ہوسکے۔ اگر دونوں مفاہمت کی کوئی کوشش کریں گے بھی تو یہ ایک دوسرے کو دھوکا دے رہے ہوں گے۔ انکا کہنا ہے کہ عمران خان نے ایک تو ڈیلور نہیں کیا دوسرے وہ آرمی پر تنقید میں بہت آگے چلے گئے تھے لہٰذا اب اس بوجھ کو دوبارہ اٹھانا اسٹیبلشمنٹ کے لیے ممکن نہیں رہا ہے۔

وزیراعظم کی نگران وزیراعلیٰ بننے پر محسن نقوی کو مبارکباد

Related Articles

Back to top button