عمران کا ٹیلی تھون: 5 ارب کے دعوے ہوائی نکلے

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سیلاب کی تباہ کاری اور متاثرین کی مدد کے لیے منعقد کی گئی ٹیلی تھون میں 5 ارب روپے کے عطیات وصول ہونے کا دعویٰ حقیقت کا روپ دھارتا دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ رات گئی بات گئی کے مصداق ٹیلی تھون کے دوران فون پر اعلانات کرنے والے پلٹ کر واپس نہیں آئے۔ 29 اگست کی رات تین گھنٹے تک چلنے والی ٹیلی تھون ختم ہوئے تین روز گزر گئے لیکن ابھی تک تحریک انصاف کی جانب سے اکٹھی کی گئی رقم کے حوالے سے کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔
عمران خان کی ٹیلی تھون ختم ہوتے ہی فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر دعویٰ کیا تھا کہ تین گھنٹوں کے دوران 500 کروڑ روپے یعنی 5 ارب اکھٹے کیے گئے۔ دوسری جانب بشریٰ بی بی کے ساتھ اپنی گفتگو لیک ہونے کے بعد “ارسلان بیٹا” کے نام سے پہچان بنانے والے ڈاکٹر ارسلان خالد کا کہنا ہے کہ فنڈ میں ایک کروڑ 39 لاکھ روپے اور ڈالرز میں 10 لاکھ امریکی ڈالر جمع ہو چکے ہیں تاہم سوشل میڈیا پر ارسلان خالد کے دعوے کے جواب میں لیگی صارفین کی جانب سے کی گئی ٹوئیٹس میں کہا گیا ہے کہ عمران کے ٹیلی تھون سے پانچ ارب روپیہ اکٹھا کرنے کا دعویٰ ایک مذاق ہے چونکہ حقیقت میں ابھی تک 5 کروڑ روپے بھی اکٹھے نہیں ہو پائے، اس لیے یوتھیوں کو زبانی جمع خرچ سے پرہیز کرنا چاہئے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ٹیلی تھون میں اربوں روپے اکٹھے کرنے کے اعلانات کے بعد کیا یہ عطیات کبھی جمع ہوں گے اور سیلاب زدگان تک پہنچ پائیں گے؟ تحریک انصاف کے موقف کے مطابق یہ عطیات مخصوص اکاؤنٹس میں ہی جمع ہوں گے اور سیلاب زدگان کی مدد میں استعمال ہوں گے تاہم غیر جانبدار ماہرین اور خیراتی شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق عطیات کے اعلانات کے بعد ان کے تحت رقوم کا 100 فیصد جمع ہونا مشکل ہوتا ہے، ماہرین کے مطابق عطیات کے اعلانات کے بعد 70 سے 75 فیصد رقوم کا آجانا کسی ٹیلی تھون یا مہم کی کامیابی کی علامت ہے ورنہ اکثر اوقات یہ 25 فیصد سے کم ہی رہتی ہیں، تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر فواد چوہدری نے بتایا کہ ٹیلی تھون میں اعلان کردہ ساری رقم اکٹھی نہیں ہو پاتی لیکن اعلان کردہ رقم کا 20 فیصد حصہ تو اکٹھا ہو ہی جاتا ہے۔
لیکن اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب سمجھتے ہیں کہ ٹیلی تھون کے لیے رقم اکٹھی کرنا اس شخص پر بھی منحصر ہے جو ٹیلی تھون کر رہا ہو۔ انہوں نے کہا ٹیلی تھون کتنی کامیاب ہوتی ہے اس کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ ٹیلی تھون کون کر رہا ہے؟ پھر اس کا مقصد کیا ہے؟، اس کے علاوہ ٹیلی تھون دیکھنے یا سننے والے کون ہیں؟ ٹیلی تھون کس وقت کی جا رہی ہے؟ اس میں کون کون شرکت کر رہا ہے اور کیسے پیش کیا جا رہا ہے؟ یہ سب عوامل مل کر ٹیلی تھون کو کامیاب بناتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عمومی طور پر ایک اوسط ٹیلی تھون میں اعلان کردہ رقم کا 20 سے 35 فیصد حصہ اکٹھا کر لیا جاتا ہے لیکن اگر ٹیلی تھون کے تمام عوامل موجود ہوں تو پھر کئی مرتبہ اعلان کردہ رقم کا 50

عمران کے توہین عدالت کیس میں کھوتا کھو میں جا گرا

فیصد حصہ بھی اکھٹا ہو جاتا ہے۔
بینکاری کے شعبے سے وابستہ راشد مسعود عالم نے بتایا کہ انکا تجربہ یہی ہے کہ بینکوں میں عطیات جمع کرنے کے لیے کھولے جانے والے کھاتوں میں عطیات کے اعلانات کے مقابلے میں بہت کم رقم جمع ہوتی ہے، اعلان کی گئی رقم کے مقابلے میں جمع کی جانے والی رقم 20 سے 25 فیصد ہی ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ 30 فیصد رقم کا جمع ہونا بھی غنیمت سمجھا جاتا ہے۔ راشد کہتے ہیں کہ مثال کے طور پر پاکستان ڈیم فنڈ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے جب عطیات جمع کرانے کا کہا گیا تو ایک بڑے کاروباری گروپ بحریہ ٹاؤن نے کئی ارب روپیہ رقم عطیہ کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم چیف جسٹس کے فارغ ہونے کے بعد یہ رقم جمع نہیں کرائی گئی۔
لیکن دوسری جانب بشریٰ بی بی فیم ارسلان بیٹا نے کہا کہ عمران خان کا ریکارڈ ہے کہ ان کی جانب سے فنڈ ریزنگ کی مہم اور ٹیلی تھون میں عطیات کے اعلانات کے بعد رقم جمع کرانے کی شرح 90 سے 95 فیصد رہتی ہے اور اس ٹیلی تھون کے بعد بھی اُمید ہے کہ یہی شرح برقرار رہے گی، انھوں نے کہا کہ شوکت خاتم ہسپتال، نمل کالج اس کی مثالیں ہیں جو عطیات کے ذریعے ہی بنائے گئے ہیں تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ اب تک عمران خان کے ٹیلی تھون فنڈ میں کتنی رقم جمع ہوچکی ہے تو انہوں نے بتایا کہ کہ رقم آنے میں کچھ دن اور ہفتے لگ سکتے ہیں تاہم یہ آ جائے گی۔
ارسلان بیٹا نے بتایا کہ جن بینک کاؤنٹس میں عطیات جمع ہوئے ہیں وہ تحریک انصاف کے نام پر نہیں بلکہ حکومت کے نام پر کھولے گئے ہیں جن میں ایک حکومت پنجاب کے نام پر کُھلا ہے اور دوسرا خیبر پختونخوا کی حکومت کے نام پر کھولا گیا ہے۔

Related Articles

Back to top button