عمران سے ملاقات کرنے والی رابن رافیل جاسوسہ نکلی

چند روز پہلے بنی گالا میں عمران خان سے خفیہ ملاقات کرنے والی سابق امریکی سفیر رابن رافیل کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ ایک مشکوک کردار کی حامل خاتون ہیں جن پر ماضی میں امریکی ادارے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لئے جاسوسی کرنے کا الزام بھی عائد کر چکے ہیں۔ رابن رافیل بطور سفارت کار ریٹائرمنٹ کے بعد امریکی سی آئی اے کی کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی رہی ہیں۔ لیکن پھر سی آئی اے نے ہی ان پر پاکستانی آئی ایس آئی کے لئے جاسوسی کرنے کا الزام عائد کر دیا تھا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 2013 میں امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے رابن رافیل کی ایک پاکستانی سرکاری افسر سے گفتگو کو ریکارڈ کیا جس کے بعد ان کا سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے معاہدہ ختم کر دیا گیا اور ان کے خلاف پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کی تحقیقات کا آغاز ہوا۔

یاد رہے کہ رابن رافیل 30 سالہ سفارتکاری سے 2005 میں ریٹائر ہو گئی تھیں لیکن اوباما انتظامیہ میں پاکستان اور افغانستان کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہولبروک کے ساتھ ان کو کام کرنے کی دعوت دی گئی۔ 2009 میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے انھیں کنٹریکٹر کی حیثیت سے نوکری دی تھی۔ رابن رافیل کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں ملازمت دینے پر کئی لوگوں نے تشویش ظاہر کی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دفترِ خارجہ میں 30 سال نوکری کرنے کے بعد انھوں نے ایک امریکی فرم میں شمولیت اختیار کی تھی جو پاکستان کے لیے لابنگ کرتی ہے۔

2013 میں پاکستانی آئی ایس آئی سے تعلق کی بنا پر امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے شمالی واشنگٹن میں رابن رافیل کے گھر کی تلاشی لی جبکہ امریکی محکمۂ خارجہ نے انکے دفتر کی تلاشی لی اور ان پر پاکستان کے لیے جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا۔ اسکے بعد واشنگٹن کے سفارتی حلقوں میں اہم مقام رکھنے والی رابن رافیل کو انتظامی رخصت پر بھیج دیا گیا اور محکمۂ خارجہ نے ان کے نوکری کے معاہدے کی تجدید نہیں کی۔ رافیل کے خلاف تحقیقات کاؤنٹر انٹیلی جنس یا جاسوسی کرنے سے متعلق تھا جس میں عام طور پر بیرونی ممالک کے لیے جاسوسی کرنا شامل ہوتا ہے۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق ایف بی آئی کو شک تھا کہ رابن رافیل ایک خفیہ پاکستانی ایجنسی کے لیے جاسوسی کرتی ہیں۔

علی وزیر19 لاکھ روپے نہ ہونے کے باعث رہائی نہ پا سکے

رابن رافیل کے شوہر آرنلڈ رافیل پاکستان میں امریکہ کے سفیر تھے جو 1988 میں فوجی صدر جنرل ضیا الحق کے ہمراہ بہاول پور کے علاقے میں ایک طیارہ حادثے میں مارے گئے تھے۔ اب بنی گالہ میں عمران خان سے ایک خفیہ ملاقات کے بعد رابن رافیل دوبارہ سے توجہ کا مرکز ہیں کیونکہ خان صاحب نے اپنی حکومت گرانے کی سازش کا الزام امریکہ پر عائد کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر عمران اور رابن رافیل کی ملاقات کی خبروں کے بعد عمران نے خود اس ملاقات کی تصدیق کی حالانکہ ان کے ترجمان فواد چوہدری نے ایسی کسی بھی ملاقات کی تردید کردی تھی۔ عمران خان نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ رابن رافیل کو وہ پرانا جانتے ہیں اور وہ اب امریکی حکومت کے ساتھ نہیں ہیں بلکہ ایک امریکی تھنک ٹینک کے لیے کام کرتی ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وہی امریکی تھنک ٹینک ہے جس کو تحریک انصاف 25 ہزار ڈالر ماہانہ ادا کرکے اپنی پبلک ریلیشننگ کا کام لیتی ہے۔ عمران اور رافیل کی ملاقات اس تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے کہ عمران اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے شہباز حکومت کو امپورٹڈ قرار دے رہے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کو اقتدار سے نکالنے کے لیے امریکہ نے سازش کی جس میں اپوزیشن جماعتیں شریک کار بنیں۔ تاہم اب ایک انٹرویو میں عمران نے کہا کہ وہ امریکہ سے نفرت نہیں کرتے اور نہ ہی انکی اس سے کوئی دشمنی ہے۔ باہمی تعلقات میں مسئلے آتے ہیں، وہ ٹھیک ہو جاتے ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی سے “کٹی” ہو جاتی ہے۔

یاد رہے کہ بطور وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو اسلام آباد میں ایک جلسہ عام سے خطاب کے دوران الزام عائد کیا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ان کی حکومت کو دھمکی دی گئی تھی اور اقتدار سے نکالنے کی سازش کی گَئی۔ جلسے کے بعد عمران نے ایک اور تقریر میں دعویٰ کیا کہ امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈ لو نے امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر سے کہا کہ ‘اگر عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو وہ پاکستان کو معاف کر دیں گے جس کا ثبوت ایک مراسلے کی شکل میں موجود ہے۔‘ عمران خان کا اصرار تھا کہ ڈونلڈ لو اس امریکی سازش کا حصہ ہیں جس کا مقصد ان کی حکومت کو ہٹانا تھا۔

تاہم امریکی دفتر خارجہ نے ان تمام الزامات کی تردید کی جبکہ قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ میں بھی سازش جیسے کسی بھی اقدام کی نفی کی گئی۔ بعد ازاں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ایک پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا کہ ’قومی سلامتی اجلاس کے دوران تینوں سروسز چیفس میٹنگ میں موجود تھے۔ میٹنگ میں شرکا کو ایجنسیز کی طرف سے آگاہ کیا گیا کہ کسی قسم کی سازش کے شواہد نہیں ہیں۔ میٹنگ میں کلیئر بتا دیا گیا تھا کہ سازش کے شواہد نہیں ملے۔‘

اقتدار سے نکالے جانے کے بعد عمران خان پچھلے چھ ماہ سے مسلسل امریکہ کا رگڑا نکال رہے تھے اور جنرل باجوہ کو اسکا سہولت کار قرار دے رہے تھے۔ لیکن اب اچانک موصوف نے امریکہ اور جنرل باجوہ دونوں کی خوشامد شروع کر دی ہے اور امریکی اہلکاروں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے جو ان کے اپنے ساتھیوں کے لیے بھی حیران کن پیش رفت ہے۔

Related Articles

Back to top button