ریفرنس پر چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانا ممکن کیوں نہیں ہے؟

آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے خلاف تحریک انصاف کی جانب سے دائر کردہ ریفرنس کے باوجود انہیں ہٹانا اس لیے ممکن نہیں کہ چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا طریقہ کار بھی وہی ہے جو کسی جج کو ہٹانے کا ہوتا ہے اور قانون کے مطابق کسی جج کے خلاف اسکے کسی فیصلے کی بنیاد پر کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ لہذا چیف الیکشن کمشنر کی نااہلی ناممکن ہے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف نے سکندر سلطان راجہ کے خلاف ریفرنس دائر کرتے ہوئے ہوئے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کو بنیاد بنایا ہے۔

آئینی اور قانونی ماہرین یا دلاتے ہیں کہ اس سے پہلے عمران خان حکومت نے جنرل مشرف کو سزائے موت سنانے والے جج جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا تا کہ انہیں نااہل قرار دلوایا جا سکے۔ تاہم ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کرنے کے باوجود حکومت اس فیصلے سے بھاگ گئی تھی جس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ وقار سیٹھ نے بطور جج ایک فیصلہ سنایا تھا جس کی بنیاد پر انکے خلاف کوئی کارروائی ممکن نہیں تھی۔ تب وزارت قانون کے کرتا دھرتا افسران کی ذمہ داری لگائی گئی تھی کہ وہ وزارت دفاع کے افسران کو سمجھائیں کہ قانون کے مطابق کسی جج کے خلاف فیصلہ سنانے پر ریفرنس دائر نہیں کیا جاسکتا اور اگر ایسا کیا بھی گیا تو ماضی کی مثالوں کی روشنی میں یہ ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل سے خارج کردیا جائے گا جس سے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت دونوں کو سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وزارت قانون نے عمران حکومت کو یہ رائے دی تھی کہ مشرف کے خلاف عدالتی فیصلے میں ججوں کو کسی بھی فورم پر مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اس سے پہلے فوجی ترجمان آصف غفور نے جسٹس وقار سیٹھ کے فیصلے کو نشانہ مشق بناتے ہوئے کہا تھا کہ مشرف فوج کے سربراہ رہے ہیں اور وہ کسی بھی صورت غدار نہیں ہو سکتے لہٰذا جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف ذہنی معذور ہونے کی بنا پر ریفرنس دائر کیا جائے گا۔

عمران خان کا ‘بندہ ایماندار ہے’ کا بت کیسے پاش پاش ہوا؟

یہ بھی یاد رہے کہ کچھ برس پہلے سپریم جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ کے موجودہ اور لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف ان کے ایک فیصلے کی بنیاد پر جاری شوکاز نوٹس خارج کر دیا تھا اور قرار دیا تھا کہ کسی بھی جج کے خلاف اس کے کسی فیصلے کے حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے قرار دیا تھا کہ آج دن تک پاکستانی تاریخ میں کسی جج کے خلاف اس کے کسی فیصلے کی بنیاد پر کارروائی کی کوئی نظیر موجود نہیں ہے اور اگر ایسا ہو گیا تو پھر جج فیصلے کس طرح سنائیں گے۔

آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے خلاف ریفرنس فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کی بنیاد پر دائر کیا ہے لہذا اس پر کارروائی ممکن نہیں۔ پی ٹی آئی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ریفرنس الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے ایک روز بعد دائر کیا گیا ہے۔ بابر اعوان کے توسط سے دائر ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ مسلسل اور جان بوجھ کر ارادتا ًکی گئی بدانتظامی پر چیف الیکشن کمیشن کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دے۔ریفرنس میں الزام لگایا گیا ہے کہ 29 جولائی کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے ایک وفد نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دیگر 4 اراکین سے ان کے دفتر میں ملاقات کی تاکہ ان پر فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔ الزام لگایا گیا ہے کہ اس ملاقات کا نتیجہ تھا کہ الیکشن کمیشن نے 2 اگست کو فیصلہ سنا دیا۔ ریفرنس میں استدلال کیا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔

ریفرنس میں پی ٹی آئی کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیر قانونی، خلاف ضابطہ اور اس کے دائرہ اختیار سے ماورا ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرے گی۔ریفرنس میں مزید استدلال کیا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اور وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں بخوبی سر انجام دینے میں میں ناکام رہے ہیں۔

اپنی درخواست میں پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے لیے طے شدہ ضابطہ اخلاق کا اطلاق چیف الیکشن کمشنر پر بھی ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ ہائی کورٹ کا جج کبھی کسی شخص یا ادارے کے ساتھ زیر التوا کیسز سے متعلق تبادلہ خیال نہیں کرتا۔

تاہم تحریک انصاف کے اس الزام میں وزن اس لیے نہیں کہ بقول چیف الیکشن کمشنر انہوں نے اس عہدے پر تعینات ہونے کے بعد سب سے زیادہ ملاقاتیں تحریک انصاف کے رہنماؤں سے کی ہیں۔

Related Articles

Back to top button