زندہ ملک واپسی پر مشرف کو ہسپتال لیجایا جائے یا جیل؟

آئین شکنی پر سزائے موت کا مجرم قرار پانے کے بعد اشتہاری قرار دیے جانے والے سابق ملٹری ڈکٹیٹر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اس وقت دبئی میں بستر مرگ پر ہیں اور ان کی پاکستان ممکنہ واپسی کے حوالے سے بحث جاری ہے تاکہ ممکنہ موت کی صورت میں ان کی تدفین اپنے ملک میں ہو سکے۔ اس سے پہلے چند برس قبل مشرف کی والدہ زرین مشرف کی وفات ہوئی تو انہیں دبئی میں ہی دفن کیا گیا تھا۔ مشرف کو انتقال سے پہلے ہی وطن واپس لانے کے لیے انکے خاندان، فوجی قیادت اور شہباز شریف حکومت کے درمیان مشاورت جاری ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جنرل مشرف سزائے موت پانے کے بعد اشتہاری ہیں اور قانون کے مطابق وطن واپس پہنچتے ہی انہیں گرفتار کرنا ہو گا۔ تاہم اب فوجی ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کے علاوہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی مشرف کو وطن واپس لانے کی تجویز کی حمایت کر دی ہے جس کے بعد قانون کے مطابق سابق ملٹری ڈکٹیٹر کی گرفتاری کا امکان ختم ہوگیا ہے۔ لیکن اس معاملے پر نہ صرف عوامی بحث جاری ہے بلکہ سینیٹ میں بھی شدید بحث ہوئی ہے اور زیادہ تر راکین نے مشرف کے لئے قانون کا دوہرا معیار اپنانے پر سخت تنقید کی ہے۔

امریکا کے لیے اسامہ کی مخبری کرنے والا افسر اب کہاں ہے؟

فوجی ترجمان اور نواز شریف کی جانب سے مشرف کے واپس لانے پر اعتراض نہ کیے جانے کے بعد حکومت کو اپنے ہی حامیوں اور مخالفین کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر دو مرتبہ ملکی آئین توڑنے والے کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک نہیں کیا جائے گا اور اسے خصوصی رعایت دی جائے گی تو پھر پاکستانی عدالتوں اور جیلوں کو بند کر دیا جائے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت پرویز مشرف کے خلاف کن مقدمات میں کارروائی کرسکتی ہے یا حکومت کی جانب سے کن کیسوں میں کارروائی کی امید کی جا رہی ہے۔

اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پرویز مشرف کے خلاف سب سے بڑا کیس آئین شکنی سے متعلق ہے۔ تین نومبر 2007 کے پرویز مشرف کے اقدام کے خلاف خصوصی عدالت نے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت ملک سے غداری کا جرم ثابت ہونے پر 17 دسمبر 2019 کو سزائے موت سنائی تھی۔ تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا تھا کہ ’قانون نافذ کرنے والے ادارے مجرم کو گرفتار کرکے سزائے موت پر عمل درآمد کرائیں۔ اس فیصلے پر فوج کی طرف سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا اور بعد میں عمران خان کی پی ٹی آئی حکومت نے بھی اس فیصلے کے خلاف اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا تھا۔

نومبر 2007 کو پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے آئین معطل اور میڈیا پر پابندی عائد کی تھی جبکہ اس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ اور تمام ہائی کورٹس کے ججز کو گھروں میں نظر بند کر دیا تھا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 26 جون 2013 کو انکوائری کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا۔ وزارت داخلہ نے ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جس نے 16 نومبر 2013 کو رپورٹ جمع کرائی۔ وزارت قانون کی مشاورت کے بعد 13 دسمبر 2013 کو پرویز مشرف کے خلاف شکایت درج کرائی گئی جس میں ان کے خلاف سب سے سنگین جرم متعدد مواقع پر آئین معطل کرنا قرار پایا تھا۔ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ چھ سال سے زائد عرصہ چلا۔ وہ صرف ایک بار عدالت میں پیش ہوئے اور پھر فوجی قیادت کے دباؤ کے باعث ملک سے باہر بھیج دیے گئے۔ ان کی غیر موجودگی میں پارلیمنٹ کی جانب سے آرٹیکل 6 کے تحت تشکیل دی گئی خصوصی عدالت نےمشرف کو سزائے موت سنائی اور انھیں واپس لانے کا حکم دیا تھا۔ جسٹس سیٹھ وقار احمد نے اسی فیصلے میں لکھا تھا کہ بیرون ملک وفات پانے کی صورت میں بھی قانون کے تقاضے پورے کرنے کے لیے آئین شکن پرویز مشرف کی لاش کو ڈی چوک پر لٹکایا جائے۔ تاہم یہ فیصلہ سنانے کے کچھ عرصہ بعد جسٹس وقار سیٹھ پراسرار حالات میں کرونا کا شکار ہوکر گزر گئے تھے ۔

بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی نقوی کے بینچ نے مشرف کی اپیل پر فیصلہ دیتے ہوئے سزا سنانے والی عدالت کی تشکیل کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔لاہور ہائی کورٹ نے پرویز مشرف کو سنائی گئی سزا بھی کالعدم قرار دے دی تھی۔تاہم اس عدالتی فیصلے کو اس لیے تسلیم نہیں کیا گیا کیونکہ خصوصی عدالت ہائی کورٹ سے بڑی ہوتی ہے اور اس کا رتبہ سپریم کورٹ کے برابر ہوتا ہے۔ چنانچہ پرویز مشرف کے وکیل نے سزائے موت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تو رجسٹرار نے درخواست اعتراض لگا کر واپس کر دی۔ عدالت کا موقف یہ تھا کہ پرویز مشرف سزا پانے کے بعد مفرور ہیں اور ان کا سٹیٹس اشتہاری کا ہے لہذا اپیل دائر کرنے کے لئے انہیں خود واپس آنا پڑے گا۔ لیکن مشرف نے ایسا نہیں کیا اور اب ان کی جانب سے اپیل دائر کرنے کے لیے مقرر کردہ وقت بھی ختم ہو چکا ہے۔ لہذا اگر قانون پر چلا جائے تو ملک زندہ واپس آنے پر ان کی گرفتاری بنتی ہے۔

ممتاز قانون دان کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ آئین شکن پرویز مشرف کو پاکستان واپس لا کر بیماری کی آڑ میں گرفتار نہ کرنے اور انکی سزا پر عمل نہ کرنے کا تاثر دے کر واہ واہ سمیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ آئین اور قانون کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے۔کامران مرتضیٰ کے مطابق مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا قانونی طور پر اپنی جگہ پر موجود ہے کیونکہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف صرف اور صرف سپریم کورٹ میں ہی اپیل دائر کی جا سکتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ آئین شکنی کے علاوہ بے نظیر بھٹو مرڈر کیس اور لال مسجد کیس میں بھی مشرف کی گرفتاری بنتی ہے کیونکہ اس حوالے سے عدالتی احکامات موجود ہیں۔ کامران مرتضیٰ کے بقول اگر پھر بھی حکومت مشرف کو گرفتار نہیں کرنا چاہتی تو جس قانون کے تحت نواز شریف کو باہر بھیجا گیا اسی قانون کے تحت مشرف کو رعایت دی جائے گی۔ ایسی دفعات تعزیرات پاکستان میں موجود ہیں۔

اس معاملے پر سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا سمجھتے ہیں کہ جب پرویز مشرف کو واپس لایا جا رہا ہے تو انھیں مکمل تحفظ کی یقین دہانی کے بعد ہی لایا جائے گا۔ حکومت اگر چاہے تو صدر مملکت کے ذریعے ان کے خلاف تمام مقدمات واپس لے سکتی ہے۔

یاد رہے کہ سابق صدرمشرف کے خلاف غداری کیس کے فیصلے کے بعد اس وقت قانونی طور پرفعال مقدمہ لال مسجد کیس ہے جو غازی عبد الرشید قتل کیس کے تحت اسلام آباد کی مقامی عدالت میں زیر سماعت تھا۔ ان کے بیرون ملک جانے کے بعد کیس کی سماعت نہیں ہو سکی جبکہ شہداء فاؤنڈیشن کے وکیل طارق اسد ایڈووکیٹ بھی وفات پا چکے ہیں۔ غازی عبد الرشید کے صاحبزادے ہارون الرشید غازی نے بتایا ہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے یہ کیس ایک عرصے سے داخل دفتر کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اب اگر مشرف واپس آتے ہیں تو ہم نیا وکیل کر کے اس مقدمے کو فعال کرنے کی کوشش کریں گے۔

اسکے علاوہ دسمبر 2007 میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو ایک دہشت گرد حملے میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں شہید ہو گئی تھیں۔ ایف آئی اے نے دیگر ملزمان کے ساتھ ساتھ تب کے صدر مشرف کو بھی مقدمے میں نامزد کیا تھا۔ 2017 میں راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بینظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے گرفتار ملزمان کو بری کردیا تھا۔ عدالت نے سابق سٹی پولیس افسر ل سعود عزیز اور سابق سپرنٹنڈنٹ پولیس خرم شہزاد کو مجرم قرار دے کر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ مرکزی ملزم پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیا تھا۔ مقدمے میں پیش نہ ہونے پر 2019 میں انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نمبر ایک کے جج شوکت کمال ڈار نے پرویز مشرف کی جائیداد ضبط کرنے کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسکے نام پر موجود منقولہ و غیر منقولہ تمام جائیداد بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے مشرف کے بینک اکاؤنٹس اور نام پر موجود گاڑیاں بھی ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے عدم حاضری پر مشرف کو اشتہاری قرار دے کر دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے تھے۔ پیپلز پارٹی نے اس فیصلے پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ ملزمان کی جانب سے بھی اس فیصلے کو اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ لہذا اگر وطن واپسی پر مشرف کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جاتی تو یہ قانون اور آئین کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہو گا۔

Related Articles

Back to top button