فارن فنڈنگ کیس میں سپریم کورٹ کیسا انصاف کرے گی؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں عمران خان کی زیر قیادت تحریک انصاف پر ممنوعہ فنڈنگ وصول کرنے کے الزامات ثابت ہو جانے کے بعد اب خان صاحب اور پی ٹی آئی کے مستقبل کا فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کرنا ہے لیکن جوڈیشل کونسل آف پاکستان کے حالیہ اجلاس میں منصفوں نے جو رویہ اپنایا وہ ریاست کی مضحکہ خیز صورتِ احوال کا ثبوت ہے، انہوں نے وارننگ دی کہ آئین سے کھلواڑ کرنے والی قومیں ایک دن اقوامِ عالم میں مذاق بن جاتی ہیں۔

روزنامہ جنگ کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اس مملکتِ خداداد میں ایک ہی تو صادق اور امین تھا، ایک ہی تو تھا نہ بکنے والا نہ جھکنے والا، ایک ہی تو تھا قومی غیرت کا استعارہ، حریت کا ہمالہ، سامراج دشمن، حقیقی آزادی کا داعی، امپورٹڈ حکومتوں کا منکر، لیکن اب خبر آئی ہے کہ یہ سب زیبِ داستاں کے لیے تھا، یہ کہانی گھڑی گئی تھی، ایسا کچھ بھی نہیں تھا، یعنی’’میں تے مذاق کیتا سی‘‘۔ الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آٹھ سال بعد سنا دیا، اکبر ایس بابر نے جو الزامات پی ٹی آئی چیئرمین پر عائد کئے تھے کمیشن نے ان کی تصدیق کر دی، یعنی باہر سے ممنوعہ فنڈنگ آئی، افراد سے بھی اور اداروں سے بھی، جس میں غیر ملکی بشمول ہندوستانی بھی شامل ہیں، عارف نقوی کی منی لانڈرنگ میں ملوث کمپنی ابراج سے بھی عطیات آئے، 13 ایسے اکائونٹس بھی سامنے آئے ہیں جو کہ پی ٹی آئی کے تھے لیکن انہیں الیکشن کمیشن سے چھپایا گیا، یہ بھی ثابت ہوگیا کہ عمران خان نے پارٹی اکائونٹس سے متعلق اپنے حلف نامے میں جھوٹ بولا۔ کمیشن نے پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے، کمیشن نے باقی کارروائی کے لیے فیصلہ وفاقی حکومت کو بھجوا دیا ہے جس نے عمران خان کو نا اہل کروانے اور تحریک انصاف پر پابندی عائد کروانے کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

درست ٹیم کا انتخاب نہ کرنا عمران کی بڑی غلطی تھی

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ غالباً یہ 2016 کی بات ہے، حنیف عباسی نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ عمران خان نے پارٹی فنڈنگ کے حوالے سے جھوٹا حلف نامہ داخل کروایا ہے لہٰذا انہیں آئین کی شق باسٹھ ون ایف کے تحت نا اہل کیا جائے، جس پر سپریم کورٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسا کرنا اسی صورت میں ممکن ہے کہ پہلے الیکشن کمیشن اس بات کی تصدیق کرے کہ پارٹی نے ممنوعہ فنڈنگ وصول کی ہے۔ حماد غزنوی سپریم کورٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مائی لارڈ، اب الیکشن کمیشن نے تصدیق کر دی ہے ممنوعہ فنڈنگ وصول کی گئی، اب کیا حکم ہے؟ اگرحکومت یہ ریفرنس بھیجتی ہے تو کیا یہ کیس بھی عدالتِ عظمیٰ ہی سنے گی؟ اس معاملے سے جُڑی ہوئی فنانشل ٹائمز کی خوف ناک خبر بھی سامنے آ چکی ہے جس میں عمران خان پر سنگین تر الزامات لگائے گئے ہیں، مختصراً، اخبار کہتا ہے کہ عمران کو مسٹر پاشا نے عارف نقوی، ہندو تاجروں اور متحدہ عرب امارات کے طاقت ور شہزادے سے ملوایا، جنہوں نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے عمران کو فنڈنگ دی، ان مقاصد میں سی پیک کو روکنا اور گوادر کے منصوبے کو ترک کرنا بھی شامل تھا، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عمران خان کو ابراج گروپ نے منی لانڈرنگ کا پیسہ بھجوایا تھا۔

یاد رہے کہ عارف نقوی لندن میں مالی فراڈ کے الزامات پر قید ہے، جب کہ امریکا منی لانڈرنگ کیسز میں اس کی حوالگی چاہتا ہے۔ عارف نقوی اگر سال کے آخر میں امریکا کے حوالے ہو جاتا ہے تو تحقیقات میں عمران کا ذِکر خیر بھی متوقع ہے۔ کچھ اصحاب تو عمران کے امریکا مخالف بیانیہ کو آنے والے اسی خطرے کی پیش بندی بتاتے ہیں۔ چنانچہ یہ سیدھا سادہ پاکستان کے مفادات کو زک پہنچانے کا کیس ہے۔

قانون کو اپنا راستہ خود ڈھونڈنا ہے، مگر یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ہمارے جیسے کمزور اور بے اعتبار اداروں والی ریاست میں کسی مقبول سیاست دان کیخلاف عدلیہ کے فیصلے عوامی سطح پر تسلیم نہیں کیے جاتے رہے، اداروں کی ساکھ ہوتی تو اور بات تھی۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اگر طاقتور لوگ جوئے سیاست کو اپنے فطری بہائو پہ بہنے دیتے تو ہم آئین کے بادبان تلے، معاشرے کی کشتی کو محفوظ ساحلوں کی جانب دھکیلتے رہتے، مگر ایسا نہیں ہو پایا۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ سے ہی مقبول سیاستداانوں سے چڑتی رہی، چنانچہ انکے خلاف جھوٹے مقدمے بنتے رہے، اور عدلیہ اور قانون بے اعتبار ہوتے چلے گئے۔ حسین شہید سہروردی اور باچا خان سے ذوالفقار علی بھٹو تک، درجنوں قومی رہنمائوں پر بے سروپا کیسز بنائے گئے، کوئی سرِدار کھینچا گیا، اکثر عقوبت خانوں میں دھکیل دیے گئے، مگر وقت سب سے بڑا منصف ٹھہرا، تاریخ کی عدالت نے ان سب سیاست دانوں کو باعزت بری کر دیا۔نواز شریف کا کیس اس ضمن میں بہترین مثال ہے، کبھی اسے ہائی جیکر قرار دیا گیا اور کبھی بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر اسے جھوٹا اور خائن بتایا گیا، وزارتِ عظمیٰ سے نکال دیا گیا، پارٹی صدارت سے ہٹایا گیا، جیل کی کوٹھڑی میں ڈالا گیا، اور آج بھی اس کی تصویر اور آواز میڈیا پہ دکھانا ممنوع ہے۔خود سر سیاستدانوں کو سبق سکھانے کیلئے اداروں نے ہماری تاریخ میں اتنا جھوٹ بولا ہے کہ اب اگر وہ کسی سچ مچ کے مجرم کو بھی سزا دیں توکوئی نہیں مانے گا، اور یہی ایک بات عمران خان کے حق میں جاتی ہے۔

بقول حماد، یہ گزشتہ 75 سال کی گرہیں ہیں، اور پلک جھپکتے نہیں کھل سکتیں، مگر کہیں سے تو آغاز کرنا ہو گا۔ اب ہم محترمہ فاطمہ جناح کو ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب تو جتوا نہیں سکتے اور نہ ہی بھٹو صاحب کو واپس لا سکتے ہیں، مگر نواز شریف ابھی حیات ہیں، ہم ان کے خلاف مضحکہ خیز کیسز واپس لے کر ان کی پاکستان باعزت واپسی کا راستہ ہموارکر سکتے ہیں، یہ ایک نارمل ریاست بننے کی طرف پہلا قدم ہو سکتا ہے۔ حماد غزنوی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیاست دانوں کو لیول پلئینگ فیلڈ دیجیے اور خود براہ کرم پیچھے ہٹ جائیے، اسی میں آپ کی اور آپ کے ادارے کی بہتری ہے، ورنہ جو بچا ہے وہ بھی لُٹ جائے گا، جب تک کھیل تماشہ ہو سکتا تھا، ہوتا رہا، لیکن اب اس کی گنجائش نہیں رہی لہٰذا اب بس کر دیجئے کیونکہ آئین سے کھلواڑ کرنے والی قومیں ایک روز اقوامِ عالم میں مذاق بن جاتی ہیں۔

Related Articles

Back to top button