طیبہ گل کا جسٹس جاوید اقبال سے انتقام لینے کا فیصلہ

سابق چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی زیادتیوں کا نشانہ بننے والے خاتون طیبہ گل نے پنجاب حساب برابر کرنے کے لیے انکے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ سندھ رجسٹری نے دعا زہرا کیس نمٹا دیا

یاد رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے اپنے دور اقتدار میں طیبہ گل اور انکے شوہر کو گرفتار کروا دیا تھا اور دونوں پر فراڈ کا ریفرنس دائر کیا تھا جو بعد میں جھوٹا ثابت ہوا اور دونوں میاں بیوی کو رہائی مل گئی۔ اس دوران پہلے جسٹس جاوید اقبال کی طیبہ گل کے ساتھ قابل اعتراض گفتگو کی آڈیو سامنے آئی اور پھر ایک ویڈیو بھی سامنے آگئی جس میں وہ خاتون کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

سینئر صحافی سلیم صافی کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں طیبہ گل نے انکشاف کیا ہے کہ یہ آڈیوز اور ویڈیوز انہوں نے سابق وزیر اعظم کے سیکرٹری اعظم خان کے حوالے کی تھیں تا کہ وہ جاوید اقبال کی بلیک میلنگ سے بچ سکیں لیکن وزیر اعظم کے حکم پر جاوید اقبال کو دباؤ میں لانے کے لیے ان آڈیوز اور ویڈیوز کو مارکیٹ کردیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے اعتماد کا خون کیا گیا اور عمران خان نے جسٹس جاوید اقبال کو نیچے لگانے کے لئے میرے فراہم کردہ خفیہ مواد کو استعمال کیا گیا۔ اب اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے طیبہ گل نے جسٹس جاوید اقبال کے خلاف پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین کو خط لکھ دیا ہے۔ طیبہ گل کی طرف سے سابق چیئرمین نیب جسٹس ریڑائرڈ جاوید اقبال اور ڈی جی نیب سلیم شہزاد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ چیئرمین پی اے سی نورعالم خان نے خط میڈیا کو بھی دے دیا ہے۔

نور عالم خان کی جانب سے کی طرف سے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اور طیبہ گل کو پی اے سی میں بلانے کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ مئی 2019ء میں نجی ٹی وی نے چیئرمین نیب کی ٹیلی فونک گفتگو اور طیبہ گل سے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی اپنے دفتر میں ملاقات کی ویڈیو نشر کی تھی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نور عالم خان کے زیر صدارت اجلاس میں ویڈیو سکینڈل پر کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ چیئرمین نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ طیبہ گل نے سابق چیئرمین نیب کے خلاف شکایت بھیجی ہے۔ نور عالم خان کا کہنا تھا کہ خاتون طیبہ گل نے نا صرف سابق چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال بلکہ ڈی جی نیب سلیم شہزاد کیخلاف بھی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

چیئرمین پی اے سی نے خط کی کاپی ممبران کمیٹی اور میڈیا کو بھی دیتے ہوئے کہا کہ خاتون کی شکایت قائم مقام چیئرمین نیب کو بھیج کر رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اور شکایت کنندہ خاتون کو طلب کرنا چاہیے اور ہر ایک کو سننے اور اپنی بات کہنے کا موقع دینا چاہیے۔ انکا کہنا تھا کہ سابق چیئرمین نیب ہوں یا کوئی اور، اگر کسی نے بھی اختیارات سے تجاوز کیا تو اس کو جواب دینا ہوگا۔
نور عالم خان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچايا جائے گا۔ سابق چيئرمين نیب اور خاتون کو اپنی بات کہنے کا پورا موقع ديا جائے گا جبکہ الزام لگانے والی خاتون کو ثبوت لانا پڑيں گے۔

Related Articles

Back to top button