لشکر طیبہ کا گرفتار کمانڈر بی جے پی کا لیڈر نکل آیا

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی میں گرفتار کیے جانے والے لشکر طیبہ کے دو مجاہدین میں سے ایک ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا لیڈر نکلا ہے جس کے بعد کانگریس اور دیگر جماعتوں نے بڑے پیمانے پر مودی حکومت کی مذمت شروع کر دی ہے۔ جموں کشمیر پولیس نے 3 جولائی کو بتایا تھا کہ ریاسی کے ٹکسن ڈھوک نامی گاؤں کے دیہاتیوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لشکر طیبہ کے دو مطلوب ترین عسکریت پسندوں کو پکڑ کر ہمارے حوالے کیا تھا۔پولیس نے ان کی شناخت طالب حسین ولد حیدر شاہ ساکن راجوری اور فیصل احمد ڈار ولد بشیر احمد ڈار ساکن پلوامہ کے طور پر کی ۔تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ پولیس نے جوں ہی لشکر کے عسکریت پسندوں کی تصاویر میڈیا میں جاری کیں تو کانگریس اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں نے یہ دعوی ٰکر دیا کہ طالب حسین نامی عسکریت پسند تو بی جے پی کا مرکزی رہنما ہے۔

طالب حسین کی شناخت بی جے پی کے اقلیتی ونگ کے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ سوشل میڈیا انچارج کے طور پر ہوئی ہے جس کے بعد میڈیا سرکار بری طرح پھنس گئی ہے۔کانگریس نے سوشل میڈیا پر طالب حسین کی تصویریں شیئر کی ہیں جن میں انہیں بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ، بی جے پی جموں و کشمیر کے صدر رویندر رینہ، رکن پارلیمان جگل کشور شرما اور دیگر سینئر رہنماؤں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ کانگریس کی طرف سے جاری کردہ ایک تقرر نامے کے مطابق طالب کو 9 مئی 2022 کو بی جے پی کے اقلیتی انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ سوشل میڈیا سیل کا سربراہ بنایا گیا تھا۔یعنی اس کا مطلب ہے کہ گرفتاری سے ایک ماہ اور 24 دن پہلے اسے جموں صوبے کا آئی ٹی اینڈ سوشل میڈیا انچارج مقرر کیا گیا تھا۔

شہباز کیطرح وزیراعظم بنتے وقت عمران پر بھی کیسز تھے

کانگرس پارٹی کے مطابق طالب حسین ’فل ٹائم لشکر کمانڈر‘ اور پارٹ ٹائم ’بی جے پی آئی ٹی سیل کا انچارج‘ تھا۔ جموں کشمیر کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس مکیش سنگھ کے مطابق پولیس کافی دنوں سے طالب حسین کی تلاش میں تھی۔ یہ راجوری میں لشکر طیبہ کا بہت بڑا دہشت گرد تھا۔ کچھ ہی دن پہلے اس کے گھر سے پانچ گھریلو ساختہ بم برآمد ہوئے تھے اور اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ راجوری میں پولیس اور فوج کے مسلسل دباؤ کی وجہ سے ریاسی آیا تھا۔ پولیس کے مطابق طالب کو ٹکسن ڈھوک کے دیہاتیوں نے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پلوامہ سے تعلق رکھنے والے ایک ساتھی سمیت دبوچ کر پولیس کے حوالے کیا۔ ان دونوں کے پاس اے کے 47 رائفلیں، ہتھ گولے اور دیگر اسلحہ و گولہ بارود تھا۔

دوسری جانب پولیس نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ طالب حسین پاکستان میں مقیم لشکر طیبہ کمانڈر قاسم کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا اور راجوری ضلع میں شہری ہلاکتوں اور گرنیڈ دھماکوں کے علاوہ کم از کم تین آئی ای ڈی دھماکوں میں ملوث تھا۔ ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ دونوں دہشت گرد لشکر طیبہ کے ایک پاکستانی ہینڈلر سلمان سے بھی رابطے میں تھے۔ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے طالب حسین اور ان کے ساتھی کو پکڑنے والے دیہاتیوں کے لیے بالرتیب دو اور پانچ لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔

جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ اودے پور قتل میں ملوث شخص کے بعد اب راجوری میں گرفتار لشکر طیبہ سے وابستہ عسکریت پسند کے بی جے پی سے سرگرم روابط رہے ہیں۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا: ’حکمران جماعت اپنے فرقہ وارانہ تقسیم اور نفرت کے ایجنڈے کو دوام بخشنے کے لیے مجرمانہ عناصر خواہ وہ گاؤ رکشک ہوں یا دہشت گرد کو استعمال کر رہی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا: ’ذرا سوچئے کہ اگر ان مجرموں میں سے کسی کا تعلق کسی بھی اپوزیشن لیڈر سے ہوتا تو بہت کچھ ہو چکا ہوتا ۔ اب تک متعدد ایف آئی آر درج ہو چکی ہوتیں اور گرفتاریاں ہو گئی ہوتیں۔

جموں کشمیر کے مسلم رہنماؤں کا دعوی ٰہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے بی جے پی والے اپنے لوگوں کو لشکر طیبہ والے بنا کر دہشت گردی کی کارروائیاں کرواتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button