ڈٹ کر کھڑا کپتان چھپ کر زرداری سے NRO مانگتا پکڑا گیا

بحریہ ٹاؤن کے کھرب پتی مالک ملک ریاض کی جانب سے آصف زرداری سے عمران خان کے لیے این آر او مانگنے کی ٹیلی فونک گفتگو لیک ہونے کے بعد ڈٹ کر کھڑا رہنے کا دعویدار کپتان شدید تنقید کی زد میں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ گفتگو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل ہونے کے بعد کی ہے اور ملک ریاض دراصل عمران کے ایما پر زرداری سے تحریک عدم اعتماد واپس لینے کی درخواست کر رہے تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ آصف زرداری کے اس انکار کے بعد آرمی چیف جنرل باجوہ نے بھی سابق صدر کو یہی مشورہ دیا تھا۔ آرمی چیف

نے عمران کے ایما پر زرداری کو یہ فارمولہ دیا تھا کہ اگر تحریک عدم اعتماد واپس لے لی جائے تو عمران اسمبلیاں توڑ کر استعفیٰ دے دیں گے جس کے بعد نئے الیکشن کے لیے راستہ ہموار ہوجائے گا۔ لیکن زرداری اور اتحادی جماعتوں نے آرمی چیف کا فارمولا قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس انکار کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال پر دباؤ بھی ڈالا گیا کہ وہ قومی اسمبلی بحال نہ کریں لیکن جب پانچ رکنی بینچ کے چار ججوں نے سپیکر قومی اسمبلی، وزیر اعظم اور صدر کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ کیا تو چیف جسٹس کے پاس بھی ان کا ساتھ دینے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا، لہذا متفقہ فیصلہ آ گیا۔

اب اپنی حکومت کے خاتمے کو عمران خان نے امریکی سازش کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے نئی حکومت کے خلاف فوری الیکشن کے لیے تحریک شروع کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا مطالبہ منظور ہونے تک ڈٹ کر کھڑے رہیں گے۔ تاہم ڈٹ کر کھڑا رہنے والے کپتان کی ساکھ کو تب سخت دھچکا پہنچا جب ملک ریاض کی آصف زرداری کے ساتھ کپتان سے متعلق ٹیلی فونک گفتگو کی آڈیو لیک ہوگئی۔ اس گفتگو میں ملک ریاض زرداری کو بتا رہے ہیں کہ خان بار بار فون کر کے منتیں کر رہا ہے، جس پر جواب ملتا ہے کہ اب کچھ کرنا امپوسبل ہے۔ یعنی اب تحریک عدم اعتماد واپس لینا ممکن نہیں۔ آڈیو میں ملک ریاض کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ ’سر بس بتانا تھا، میں نے پہلے بھی آپ کو بتایا تھا، آپ سے بات کرنی تھی، آپ نے کہا تھا بعد میں کریں گے، آپ کو اطلاع دینی تھی، کہ خان کی طرف سے مجھے بڑے بار پیغامات آرہے ہیں کہ میری مصالحت کروا دیں آپ کے ساتھ۔ آج تو اس نے خان نے مجھے بہت ہی میسجز کیے‘۔ لیکن جواب میں آصف زرداری کی جانب سے کہا گیا کہ ’اب یہ ناممکن ہے‘، اس پر ملک ریاض کی جانب سے کہا گیا کہ ’کوئی بات نہیں، میں صرف یہ آپ کے علم میں لانا چاہتا تھا‘ ۔

اب اس آڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آصف زرداری اور پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کی ٹیلی فونک گفتگو نے عمران خان کی منافقت اور دہرے معیار کو بے نقاب کر دیا ہے جس سے موصوف کا جھوٹ ظاہر ہو گیا ہے۔ اپنے ٹوئٹر بیان میں آڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ’آڈیو ریکارڈنگ نے عمران خان کو بے نقاب کردیا ہے، گردش کرنے والی آڈیو سے ان کی منافقت اور دہرا معیار ظاہر ہوچکا ہے جو کہ اس کے دعوے کے برعکس ہیں جس نے خود کو اور اپنی حکومت کو بچانے کے لیے این آر او مانگا‘۔ شہبار شریف نے کہا کہ تمام کوششیں کرنے کے باوجود بھی غیر ملکی سازش کی جھوٹی کہانی ناکام ہو چکی ہے اور اس کا جھوٹ بے نقاب ہوگیا ہے۔ اس بارے مریم نواز نے بھی اپنا رد عمل دیا اور کہا کہ جلسوں میں ڈٹ کر کھڑا رہنے کے دعوے کرنے والا عمران چھپ کر آصف زرداری کی منتیں کرتا ہے اور این آر اع۔مانگتا ہے اور یہی اس کی اصلیت ہے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس کل طلب، 6 نکاتی ایجنڈا جاری

یاد رہے کہ یہ ریکارڈنگ تب سامنے آئی ہے جب عمران نے اسلام آباد کی جانب اپنا لانگ مارچ ناکام ہونے کے بعد دھرنا دینے کا فیصلہ ملتوی کر دیا۔ اس سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کے ایک دھڑے اور انکے درمیان پس پردہ رابطوں کی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں۔ لیکن پی ٹی آئی کے ترجمان شہباز گِل نے اس آڈیو ریکارڈنگ کو جھوٹ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ’ایک کاروباری شخص اور ایک عمران کا مخالف سیاستدان آپس میں بات چیت کر رہے ہیں۔ لیکن عمران سے جو بھی باتیں منسوب کی جارہی ہیں ان کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’عمران خان کو کسی این آر او کی ضرورت نہیں بلکہ یہ تمام لوگ عمران خان سے این آر او مانگتے رہے ہیں جو کہ نہیں ملا، یہ اسٹوری جھوٹ ہے‘۔

Related Articles

Back to top button