پنجاب حکومت نے سپیکر پرویز الٰہی کو کھسی کر دیا

اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے دو روز تک بجٹ اجلاس میں رکاوٹیں ڈالنے کے بعد تنگ آکر پنجاب حکومت نے گورنر بلیغ الرحمان کے ذریعے تین آرڈیننس جاری کر کے پنجاب اسمبلی، اس کے اسپیکر اور سیکرٹری اسمبلی کے اختیارات چھین کر صوبائی وزارت قانون کو سونپ دیے ہیں اور پرویز الٰہی اور احمد خان بھٹی کو مکمل طور پر کھسی کردیا ہے۔ اب چودھری اور اس کا چماٹ دونوں گند ڈالنے کے قابل نہیں رہے۔

بشریٰ بی بی کی سہیلی فرح خان نے کہاں سے کتنا مال بنایا؟

پنجاب کابینہ نے آرڈیننس کے ذریعے اسمبلی کا اجلاس بلانے کے قواعد و ضوابط میں تبدیلی کرتے ہوئے اسمبلی کا سٹیٹس بدلنے کا کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پنجاب اسمبلی کا آزادانہ سٹیٹس ختم کر دیا گیا ہے، اور اب اسمبلی وزارت قانون کے ایک انسٹی ٹیویٹ کی حیثیت سے کام کرے گی۔ پرویز الٰہی کے چماٹ خاص سیکرٹری پنجاب اسمبلی احمد خان بھٹی کو وزارت قانون کے ماتحت کر دیا گیا ہے اور سپیکر پنجاب اسمبلی کے اختیارات بھی وزارت قانون کو سونپ دیے گئے ہیں۔ خیال رہے کہ رات گئے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ صوبے کے نظم و نسق کو چلانے کے لیے پنجاب اسمبلی کا سٹیٹس تبدیل کرنا ضروری ہے۔ بدھ کو ہونے والااسمبلی کا ایک بجٹ اجلاس گورنر پنجاب نے ایوان اقبال میں طلب کر لیاجبکہ دوسرا اجلاس سپیکر پرویز الٰہی نے پنجاب اسمبلی میں طلب کیا۔ گورنر پنجاب نے منگل کی رات بجٹ کے لیے بلایا گیا پنجاب اسمبلی کا چالیسواں اجلاس تب ختم کر دیا تھا جب آٹھ گھنٹے گزرنے کے باوجود سپیکر پنجاب اسمبلی نے دوسرے روز بھی اجلاس شروع نہ کیا۔ گورنر بلیغ الرحمن نے اجلاس ختم کرتے ہوئے بجٹ کا نیا اجلاس بدھ کو دوپہر دو بجے ایوان اقبال میں طلب کر لیا تاکہ پنجاب کا بجٹ پیش کیا جا سکے۔

گورنر کی جانب سے اجلاس ختم کرنے کی خبر کے بعد منگل کی رات سپیکر نے آٹھ گھنٹے کے بعد اچانک اجلاس شروع کر دیا اور بجٹ تقریر پیش کرنے کی ہدایت دی تاہم حکومتی وزیر اویس لغاری نے سپیکر کو بتایا کہ یہ اجلاس گورنر نے ختم کر دیا ہے اب اس میں بجٹ پیش کرنا غیر قانونی ہو گا۔ حکومتی اراکین اجلاس چھوڑ کر باہر نکل آئے تھے جبکہ پرویز الٰہی نے اجلاس دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دیا۔ خیال رہے کہ پرویز الٰہی چالیسویں اجلاس کی صدارت کریں گے جبکہ گورنر اکتالیسواں اجلاس بلا چکے ہیں۔ لیکن پاکستان کے آئین کے مطابق نیا اجلاس صوبے کا گورنر ہی کال کرتا ہے۔

حمزہ شہباز کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ چودھری پرویزالٰہی کی جانب سے مسلسل آئین کی دھجیاں بکھیرنے اور بجٹ اجلاس شروع نہ کرنے پر مجبور ہو کر حکومت کو ایسا کرنا پڑا۔ اب پنجاب اسمبلی کو محکمہ قانون کے ماتحت کردیا گیا جس کے نتیجے میں اسمبلی کی خود مختار حیثیت ختم ہوگئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ پنجاب کابینہ کی سفارش پر گورنر پنجاب نے تین آرڈیننس جاری کر دیے جن کے تحت سرکاری افسران کو سزا دینے کا اسپیکر کا اختیار بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی بجٹ اجلاس اس لیے شروع نہیں کر رہے تھے کہ وہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کو اسمبلی طلب کرکے اپنے اختیارات کے تحت سزا دینا چاہتے تھے لیکن حمزہ شہباز اس کے لئے تیار نہیں تھے۔ پنجاب کابینہ کی سفارش پر گورنر پنجاب نے سیکرٹری اسمبلی کے لامحدود اختیارات ختم کر کے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے کا اختیار سیکرٹری قانون کو دینے کا آرڈیننس جاری کر دیا۔

عطا تارڑ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اب اجلاس بلانے کا نوٹیفکیشن سیکرٹری قانون جاری کریں گے اور اجلاس کو نوٹیفائی اور ڈی نوٹیفائی کرنا سیکرٹری اسمبلی کا اختیار ہوگا، انہوں نے کہا کہ میں پرویز الٰہی کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ایوان اقبال آ کر ہمارے اجلاس کی صدارت کریں۔ دوسری جانب سابق صحافی اور موجودہ سیکرٹری قانون احمد رضا سرور نے سیکرٹری اسمبلی کی حیثیت سے اختیارات سنبھال کر لیے ہیں اور اسمبلی سیکرٹریٹ کو ایوان اقبال میں بنانے کی ہدایت کی۔

Related Articles

Back to top button