میری گفتگو کا مقصد فوج میں انتشار پیدا کرنا نہیں تھا

سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان مزاری نے فوج کی جیگ برانچ کی جانب سے اپنے خلاف درج کروائی گئی ایف آئی آر کے جواب میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنی والدہ کی گرفتاری کی وجہ سے ذہنی طور پر منتشر تھیں اور ان کے بیان کا مقصد فوج میں انتشار پیدا کرنا ہر گز نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گرفتاری سے چند روز پہلے ان کی والدہ کا آرمی چیف سے سخت فقروں کا تبادلہ ہوا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایمان مزاری کی وکیل کی جانب سے تحریری جواب داخل کرواتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کی والدہ کی گرفتاری سے قبل اور بعد میں پیش آئے چند واقعات کے باعث وہ سٹریس میں تھیں اور ان واقعات کے پس منظر میں اُن کے دیے گئے بیانات کا مقصد فوج میں انتشار پھیلانا نہیں تھا۔

واضح رہے کہ ایمان مزاری پر پاکستان فوج کے جیگ (لیگل) برانچ کی طرف سے فوج کو بدنام کرنے اور قیادت کے خلاف ہرزہ سرائی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے بعد ایمان نے اس مقدمے کے اخراج کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ یہ معاملہ تب شروع ہوا تھا جب شیریں مزاری کو 21 مئی کو اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے گرفتار کیا۔ ایمان مزاری نے اسے ’اغوا‘ قرار دیتے ہوئے اس کا الزام فوج کے سربراہ پر عائد کیا تھا حالانکہ ان کی والدہ نے رہائی کے بعد اپنی گرفتاری کا الزام شہباز شریف اور رانا ثناءاللہ خان پر لگایا تھا۔ عدالت میں جمع کروائے گئے اپنے تحریری بیان میں ایمان مزاری نے لکھا کہ اُن کی والدہ شیریں مزاری نے گرفتار کیے جانے سے چند روز قبل بتایا تھا کہ ان کے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان دو مواقع پر سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ تاہم ایسا کس معاملے پر ہوا، یہ ایمان نے نہیں بتایا۔

عمران خان کی جنونیت انہیں کہاں پہنچانے والی ہے؟

اپنے تحریری جواب میں ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ نے انھیں بتایا تھا کہ اس واقعے کے بعد ان کے ساتھ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ رونما ہو سکتا ہے جس کے بعد 21 مئی کو انہیں ان کے گھر کے باہر سے انسداد رشوت ستانی کے اہلکار زبردستی گرفتار کر کے لے گئے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں درخواست کی سماعت کے دوران ایمان کی وکیل زینب جنجوعہ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ان کی موکلہ کا جو ویڈیو کلپ وائرل ہوا، جس میں وہ فوج کے سربراہ کے بارے میں کچھ کہہ رہی ہیں، دراصل وہ اپنی والدہ کی گرفتاری کی وجہ سے ذہنی دباؤ میں تھیں جس کی وجہ سے ان کے منہ سے ایسے الفاظ نکل گئے جبکہ ان کا مقصد فوج میں انتشار پھیلانا نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت نہ تو اسلام آباد کی انتظامیہ اور نہ ہی مقامی پولیس ذمہ داری لے رہی تھی کہ ان کی موکلہ کی والدہ کو کس نے اغوا کیا تھا جس کی وجہ سے ’ان کی موکلہ سٹریس میں تھیں۔‘ زینب جنجوعہ کا کہنا تھا کہ ان کی موکلہ نے تو پاکستانی فوج کے خلاف کوئی بات ہی نہیں کی تو پھر فوج میں انتشار پھیلانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس بیان کے بعد تو ادارے کو اپنی شکایت واپس لے لینی چاہے تھی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ نے لکھا ہے کہ جس بیان کی بنیاد پر مقدمہ ہوا وہ غیر ارادی طور پر دیا گیا تھا، آپ نے تو واضح کیا ہے کہ وہ سٹریس میں تھیں اور انھوں نے ایک خدشے کا اظہار کیا تھا۔ بینچ کے سربراہ کے استفسار پر ایمان مزاری کی وکیل نے بتایا کہ ان کی موکلہ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے سامنے بھی پیش ہوئی ہیں اور ان کے سوالوں کے جواب دیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران تفتیشی افسران کی طرف سے دو ویڈیو کلپ چلائے گئے جن میں سے ایک کلپ ایمان مزاری کے اسلام آباد ہائی کورٹ میں داخل ہونے سے پہلے کا تھا جبکہ دوسرا کلپ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ فوج کی طرف سے درج ایف آئی آر میں لیفٹیننٹ کرنل سید ہمایوں افتخار نے پولیس کو بتایا کہ 21 مئی کو غروب آفتاب سے قبل پانچ سے چھ بجے کے درمیان شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے فوج، آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے خلاف تضحیک آمیز بیان دیا تھا۔ اپنے تحریری جواب میں ایمان مزاری نے تفتیش کے دوران پوچھے گئے چند سوالوں کا بھی ذکر کیا ہے جس میں ایک سوال یہ تھا کہ کیا ان کا تعلق کسی شدت پسند گروہ سے تو نہیں تھا جبکہ دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا ان کے غیر ملکیوں کے ساتھ رابطے ہیں۔ دوسرے سوال کے بارے میں کہا گیا ہے کہ تفتیشی ٹیم نے یہ بات واضح نہیں کی کہ غیر ملکیوں سے تعلق سے ان کی کیا مراد ہے۔

ایمان مزاری نے اپنے تحریری جواب میں کہا ہے کہ ان کے والد کو گذشتہ برس کینسر کی چوتھی سٹیج کی تشخیص ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ بیرون ملک نہیں جا سکیں۔ ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ جس بنیاد پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تو کیا کوئی ایسا واقعہ پیش آیا کہ اس بیان کی بنیاد پر فوج میں انتشار پھیلا ہو۔ اس کے علاوہ اس مقدمے میں فوج کو بدنام کرنے کی دفعہ بھی لگائی گئی ہے جبکہ ہتک عزت کا قانون انفرادی حیثیت پر لاگو ہوتا ہے اور فوج بطور ادارہ اس قانون کا استعمال نہیں کرسکتی۔ انھوں نے کہا کہ فوج کے جیگ برانچ کی طرف سے ان کے خلاف درج کروایا گیا مقدمہ دراصل ریاست پاکستان کے معاملات میں مداخلت کے مترداف ہے اور اظہار رائے کی آزادی پر قدغن کے مترادف ہے۔

واضح رہے اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایمان مزاری کی عبوری ضمانت منظور کر رکھی ہے اور پولیس کو انہیں گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے ایمان مزاری کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں ایک ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے ایمان مزاری کو اس کیس میں شامل تفتیش ہونے کا بھی حکم دے رکھا ہے۔ عدالت نے مقدمے کے اخراج کے بارے میں فریقین کو نوٹسز جاری کردیے ہیں اور اس درخواست کی سماعت اب 9 جون کو ہوگی۔ دوسری جانب اسلام آباد پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کی تفتیش ابھی جاری ہے اور مختلف نکات پر تفتیش کی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل کرنے کے بعد جلد ہی اس مقدمے کا چالان متعلقہ عدالت میں جمع کروا دیا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button