نا اہلی کے خطرے سے دوچار عمران بیک فٹ پر چلے گئے

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب تحریک انصاف کے خلاف عائد فارن فنڈنگ کےالزامات ثابت ہو جانے کے بعد عمران خان نا اہلی کے خوف میں مبتلا ہو کر بیک فٹ پرجاتے نظرآتے ہیں۔ اقتدارسے بے دخلی کے بعد سے حکومت کی چھاتی پر مونگ دلنے والے اوراسٹیبلشمنٹ کو میرجعفر اور میرصادق کے القابات سے نوازنے والےعمران الیکشن کمیشن کے ہاتھوں اپنی چوریاں پکڑے جانے کے بعد سے انتہائی بیک فٹ پر ہیں۔ اب ان کی گفتگو میں نہ تو دھمکیاں ہیں اور نہ کوئی سازش کی کہانی ہے۔ حکومت کو پسوڑی ڈالنے والے عمران کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد اپنی پڑ گئی ہے وہ وضاحتیں دینے میں مصروف ہیں۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں آرٹیکل 62 ایف کے تحت نااہلی کا ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسکے علاوہ پی ڈی ایم نے الیکشن کمیشن میں عمران کے خلاف توشہ خانہ سے خریدے گئے تحائف اثاثوں میں ڈکلیئر نہ کرنے کی بنیاد پر نااہلی کا ریفرنس دائر کردیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں تحریک انصاف پر پابندی عائد کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوا رہی ہے۔ ایسے میں عمران خان کو چاروں جانب سے پریشانیوں نے گھیر لیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد بنی گالا میں سوگ کا منظر ہے۔ ایک جانب عمران خان اس صورتحال سے کافی پریشان ہیں تو دوسری جانب پارٹی سیکرٹری جنرل شاہ محمود قریشی جیسے کچھ رہنما خوش بھی نظر آرہے ہیں کیونکہ خان کی نا اہلی کی صورت میں انہیں اپنا چانس بنتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان کی اپنی قانونی ٹیم کے کئی اہم اراکین کو یقین ہے کہ اگر پارٹی کے اکائونٹس چھپانے اور جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے کا کیس سپریم کورٹ چلا گیا تو عمران اور تحریک انصاف دونوں کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ اگر عمران خان نااہل ہو گئے تو ساری عمر نہ تو وہ وزیر اعظم بن پائیں گے اور نہ ہی پارٹی صدارت کر سکیں گے۔

جنرل باجوہ کے ڈاکٹرائن میں سب سے بڑی خرابی کیا تھی؟

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کے ساتھ ساتھ جو کچھ ہونے جارہا ہے وہ شاید مکافات عمل ہے۔ یاد رہے کہ 2017 میں عمران خان کی جانب سے پاناما کیس میں دائر کردہ پٹیشن کے نتیجے میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے فارغ کر دیا تھا۔ بعد ازاں عمران کی جانب سے دائر کردہ ایک اور پٹیشن میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو پارٹی صدارت سے بھی تا حیات نااہل قرار دے دیا تھا۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں عمران خان بھی نواز شریف کی طرح نا اہل قرار پاتے ہیں تو ان کی پارٹی کے ٹوٹنے کا امکان بھی پیدا ہو جائے گا کیونکہ پی ٹی آئی عمران خان کے گرد گھومتی ہے اور ان کے بغیر کچھ نہیں۔ اس جماعت میں اتنے زیادہ گروپ ہیں کہ عمران کے نااہل ہوتے ہی پارٹی کی صدارت پر جھگڑے ہونا شروع ہو جائیں گے۔ لہذا اگر جہانگیر خان ترین کی طرح عمران خان بھی نااہل قرار دے دیئے جاتے ہیں تو انکی پارٹی کا مستقبل بھی تاریک ہو جائے گا۔

ذرائع دعویٰ کر رہے کہ اس وقت الیکشن کمیشن کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس داخل کرنا یا الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کرنا فیس سیونگ مہم کاحصہ ہے جس کا کوئی حاصل وصول نہیں ہوگا۔ اصل میں عمران اب بیک فٹ پر ہیں اور پیچھے ہٹتے ہوئے خود کو بچانا چاہتے ہیں کیونکہ الیکشن کمیشن کے فیصلے نے ان کو ایسی بند گلی میں دھکیل دیا ہے جہاں سے وہ لڑ کر نہیں نکل سکتے۔ ذرائع کا کہنا ہے کے اب عمران کی توجہ فوری الیکشن اور حکومت کے خاتمے کے مطالبے سے ہٹ کر الیکشن کمشنر کے استعفے پر مرکوز ہوگئی ہے جس کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ اب عمران کا سارا فوکس خود کو فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات سے بچانے پر ہے۔ اسی لیے ذرائع دعوی ٰکر رہے ہیں کہ عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے بھی رابطے استوار کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے لیکن ابھی تک انہیں کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر بیٹھ کر 2018 کے دھاندلی زدہ انتخابات کے نتیجے میں اقتدار میں آنے والے عمران کو اچھی طرح سمجھ آ چکی ہے اب اگر کوئی انہیں بچا سکتا ہے تو وہ اسٹیبلشمنٹ ہی ہے اس لیے انہوں نے اپنی تقریروں میں فوجی قیادت کو میر جعفر اور میر صادق کے القابات سے پکارنا بھی بند کردیا ہے۔

دوسری طرف حکومتی ذرائع دعویٰ کررہے ہیں کہ عمران خان اب ان کے شکنجے میں بری طرح پھنس چکا ہے اور کسی بھی قیمت پر اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا جائے گا۔ حکومتی فیصلہ سازوں کا کہنا ہے کہ انکی پارٹی بھلے کالعدم ہو یا نہ ہو لیکن عمران خان کو نااہل کروانا ان کی پہلی اور لازمی ترجیح بن چکی ہے۔ اسی وجہ سے عمران نے فرنٹ فٹ پر آ کر حملے کرنے کے بجائے بیک فٹ پر جاکر دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے ہوئے خود کو بچانے کی کوششوں پر فوکس کرلیا ہے۔

Related Articles

Back to top button