25 مئی کی ٹھکائی کا بدلہ لینے کیلئے پنجاب پولیس کو دھمکیاں

پنجاب کے ضمنی الیکشن میں کامیابی کے بعد پی ٹی آئی نے 25 مئی کے لانگ مارچ کے دوران یوتھیوں پر ہونے والے پولیس تشدد کا بدلہ لینے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر پولیس والوں کی وردیاں اُتارنے سے لے کر انھیں راجن پور ٹرانسفر کروانے تک کی دھمکیاں وائرل ہیں، کچھ افراد ان پولیس افسران کی تصاویر شئیر کر رہے ہیں جو گزشتہ ساڑھے تین ماہ کے دوران تحریکِ انصاف والوں کے لیے مشکلات کا باعث بنے۔

ایسے ہی ایک افسر کے متعلق پی ٹی آئی کے ایک حامی نے لکھا کہ اس پولیس افسر نے جلسہ گاہ کو تہس نہس کر دیا تھا اور خان صاحب کو سکیورٹی نہیں دی تھی، ٹوئٹر پر ٹرینڈ چلاؤ اس کے خلاف۔پولیس والوں سے انتقامی کارروائیوں اور بدلے کی یہ باتیں پی ٹی آئی کے کارکنان اور اس جماعت سے وابستہ ٹرول اکاؤنٹس تک ہی محدود نہیں بلکہ جماعت کے اہم عہدیداران بھی ایسی ہی باتیں کر رہے ہیں۔

امریکا کو پاکستان کیساتھ طویل شراکت داری پر فخر ہے

عمران خان کے بھانجے اور تحریکِ انصاف کے فوکل پرسن برائے قانونی امور حسان نیازی نے سی سی پی اولاہور اور ڈی آئی جی کو ٹیگ کر کے پوچھا کہ ‘کیا آپ کو 25 مئی کا دن یاد ہے؟حتیٰ کہ عمران کی جانب سے بھی گذشتہ روز بنی گالہ میں پی ٹی آئی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد خطاب میں کہا گیا تھا کہ 25 مئی کو میں کبھی نہیں بھولوں گا، پی ٹی آئی کے سپورٹرز پر ظلم کرنے والا ایک ایک پولیس افسر مجھے یاد ہے۔عمران خان نے یہ بھی کہا کہ پولیس والوں نے نہ صرف حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ بنانے میں مدد کی بلکہ مسلم لیگ (ن) کے جیالے بن کر ہمارے خلاف کارروائیاں کیں، ہمیں ایک ایک پولیس والے کی شکل یاد ہے اور ان سب سے حساب لیا جائے گا۔

پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گل کا کہنا تھا کہ آئی جی پنجاب راؤ سردار نے جس بے شرمی کا اظہار کیا، اس کا جواب کس نے دینا ہے؟ جس دن ہماری حکومت آئے گی ہم اسمبلی میں ایک قرارداد لائیں گے کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی راؤ سردار کے خلاف آرٹیکل چھ لگنا چاہئے۔

سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی سے وابستہ بیشتر افراد ‘بدلے‘ کی باتیں دہراتے ہوئے پنجاب پولیس کے سپاہیوں سے لے کر افسران تک کی تصاویر ایسے عنوانات کے ساتھ شئیر کر رہے ہیں جن میں حکومت میں آنے کے بعد واضح الفاظ میں ‘بدلہ‘ لینے کی بات دہرائی گئی، اس کے ساتھ ان پولیس والوں میں سے اکثر کی نجی معلومات اور اہلِ خانہ کی تصاویر بھی شیئر کی جا رہی ہیں۔

تحریکِ انصاف کے رہنما افتخار درانی کا کہنا ہے کہ ‘اخلاقاً ان پولیس اہلکاروں کی تصاویر اور شناخت ظاہر نہیں کی جانی چاہئے لیکن 24 مئی کی رات تحریکِ انصاف کے لوگوں کے گھروں میں گھسنے والوں اور اگلے دن ان پر تشدد کرنے والےپولیس اہلکاروں کی تمام ویڈیوز سوشل میڈیا پر پہلے ہی موجود ہیں اور یہ سب پبلک انفارمیشن ہے جن پولیس والوں نے ڈاکٹر یاسمین کی گاڑی توڑی یا جس نے حماد اظہر پر حملہ کیا اور دوسرے رہنماؤں پر تشدد کیا، ان کے نام اور عہدے کی معلومات پبلک ہیں۔ عمران خان کے بھانجے حسان نیازی یہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں کہ ان پولیس اہلکاروں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے انکار لوگوں کو کوئی خطرہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ آؤ ان کو مارنے چلیں، مگر ہم چاہتے ہیں کہ جب ہماری حکومت آئے گی تو ان لوگوں کا احتساب ہونا چاہئے۔

اسی طرح فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ جن پولیس والوں نے قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے، لوگوں پر تشدد کیا ہے، اور وارنٹ کے بغیر لوگوں کے گھروں میں گھسے ہیں ان کے خلاف محکمانہ کارروائیاں ضروری ہیں اور وہ ہو کر رہیں گی مگر کوئی کارروائی قانون کے دائرے سے باہر نہیں ہوگی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے دعوؤں کے برعکس سوشل میڈیا پر جس لب و لہجے، انداز اور طریقہ کار سے پولیس اہلکاروں کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے، اس سے قانون کے تحت احتساب جیسا کوئی مقصد نظر نہیں آتا اور سرکاری اہلکاروں کی تصاویر لگا کر ان کی شناخت، ان کے اہلِ خانہ کی معلومات شیئر کرتے ہوئے بظاہر ایسا تاثر مل رہا ہے کہ شاید لوگوں کو بدلے کے لیے بھڑکایا جا رہا ہے تا کہ وہ قانون ہاتھ میں لے لیں۔

Related Articles

Back to top button