مراعات یافتہ طبقے سے دو ہزار ارب کی ٹیکس چھوٹ واپس لی جائے

سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد نے شہباز شریف حکومت کو مشورہ دیا یے کہ وہ تباہ حال معیشت کا سارا بوجھ غریب عوام پر ڈالنے کی بجائے مراعات یافتہ طبقے کو دی گئی دو ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کرے اور ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے اقدامات کرے۔ عمران خان کے دور حکومت میں انتقامی کاروائی کا شکار ہوکر لمبی قید کاٹنے والے فواد حسن فواد کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مشکل ترین فیصلوں میں سے سب سے آسان فیصلہ تھا اور اس سے بھی مشکل فیصلے کرنا ابھی باقی ہیں۔
نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ تاجروں اور پیپلز پارٹی کسانوں کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے کیونکہ یہی طبقات ان کا بڑا ووٹ بنک ہیں۔ ٹیکس وصولی ان ہی دو طبقوں سے سب سے کم ہوتی ہے۔ اگر ٹیکس وصولی حکومتی ہدف سے پچاس فیصد کم ہے تو اسے بڑھائے بغیر ٹیکس ریونیو میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکتا ۔ فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف مراعات یافتہ طبقوں کو دی جانے والی 17 سو ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا بھی مسلسل مطالبہ کر رہا ہے۔

یوتھیوں نے خانہ خدا میں بدتہذیبی کی نئی تاریخ رقم کردی

درحقیقت یہ رقم دو ہزار ارب سے بھی زیادہ ہے مگر یہ چھوٹ ختم کرنے کی بجائے ٹیکسوں کا مزید بوجھ عام عوام پر منتقل کیا جارہا ہے جو کمر توڑ مہنگائی کی وجہ سے پہلے ہی بے حال ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک پر قرض کا بوجھ بڑھ رہا ہے، انرجی سیکٹر کا قرض 2018 میں 1152 ارب سے بڑھ کر مارچ 2022 تک 2466 ارب ہو چکا ہے۔ فواد کے مطابق یہ دراصل 114 فیصد اضافہ ہے۔ اسکے علاوہ 1100 ارب روپے گیس سیکٹر کا قرض ہے لہذا آنے والے دنوں میں عوام پر مزید بوجھ پڑنے والا ہے۔
فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کی نمائندگی بظاہر سیاسی جماعتوں کرتی ہیں مگر حقیقت میں فیصلہ سازی کے عمل میں نہ تو عوام کا کوئی عمل دخل ہے اور نہ ہی ان کی آواز سنی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نہ کیا جاتا تو پاکستانی روپے کی قدر مزید کم ہونی تھی جس کا بوجھ بھی آخر کار عوام نے ہی اٹھانا تھا۔ فواد حسن فواد کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ مشکل فیصلوں میں سب سے آسان فیصلہ ہے۔
معیشت کی بحالی کے لئے اس سے بھی سخت فیصلے کرنے ابھی باقی ہیں کیونکہ پچھلے چالیس سال کے برعکس اب پاکستان کو بیرونی مالی معاونت یا امداد میسر نہیں ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے آخری دور حکومت میں سیاسی قیادت کو مالیاتی فیصلوں کی پوری آزادی حاصل تھی۔ رہی فیصلہ سازی میں پابندیوں کی بات تو سکیورٹی اور حساس معاملات میں پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے سب ممالک میں حکومتوں پر بعض قدغنیں ضرور ہوتی ہیں۔ انکے مطابق پاکستان میں اصل مسئلہ پیچیدہ حالات میں سیاسی حکومتوں اور بیوروکریسی کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کا ہے۔

Related Articles

Back to top button