بھٹو کی معزولی اور پھانسی میں امریکہ کا کتنا ہاتھ تھا؟

قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے حوالے سے عمومی تاثر یہی پایا جاتا ہے کہ انہیں جنرل ضیاءالحق اور امریکہ کی ملی بھگت سے تختہ دار تک پہنچایا گیا تھا۔حال ہی میں امریکی حکام کی جانب سے ڈی کلاسیفائیڈ کی جانے والی دستاویزات کے مطابق اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور امریکی حکومت کے مابین بھٹو کے آخری دنوں میں اہم ترین خط و کتابت چلتی رہی جس میں واشنگٹن کو لمحہ بہ لمحہ ہوئی صورتحال سے آگاہ رکھا جاتا رہا جس کا اختتام بھٹو کے خلاف فوجی بغاوت اور ان کی پھانسی کی صورت میں ہوا۔

ملک ریاض نے عمران کو کتنے ارب کی زمین رشوت دی؟

امریکی حکام کی جانب سے ڈی کلاسیفائیڈ کی جانے والی دستاویزات سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ نے بھٹو کی جان بچانے کی کوشش بھی کی حالانکہ بھٹو نے اپنے اقتدار کے خاتمے کی سازش کا الزام جنرل ضیاءالحق کے ساتھ امریکا پر بھی عائد کیا تھا۔ پاکستان میں امریکی سفارت خانے نے بھٹو کے دور حکومت اور اس کے خاتمے تک امریکی حکومت کو لمحہ بہ لمحہ خبردار رکھا۔ یہ خط و کتابت تب شروع ہوئی جب بھٹو کے وزارت عظمیٰ کی پانچ سالہ مدت پوری ہونے میں ڈیڑھ سال باقی تھا۔ ادھر امریکہ میں ڈیموکریٹ امیدوار جمی کارٹر انتخابات جیت کر صدارت سنبھالنے کو تیار تھے۔

امریکہ اور پاکستان کے بنتے، بگڑتے تعلقات کی یہ کہانی ان ٹیلی گرامز، خطوط اور پیغامات پر مبنی ہے جن کا تبادلہ پاکستان میں امریکی سفارت خانے اور امریکی حکومت کے درمیان سال 1977 میں پاکستانی تاریخ کے اہم ترین برسوں میں ہوا۔

14 جنوری 1977 کو ایک ٹیلی گرام میں امریکی سفارت خانے نے بھٹو کے اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے پر کیے گئے تجزیہ پر مبنی ایئر گرام میں بتایا کہ پانچ سال میں ان کی بڑھتی ہوئی طاقت سے ایک نئے بھٹو نے جنم لیا ہے جس کو ابھی عوامی حمایت حاصل ہے۔

03 مارچ 1977 کو نئے امریکی صدر جمی کارٹر نے وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کو ایک خط میں ماضی کی مشکلات اور غلط فہمیوں سے قطع نظر امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کی مضبوطی، چین کے ساتھ تعلقات اور ایٹمی عدم پھیلاؤ میں مدد کیلئے براہ راست رابطہ کی خواہش کا اظہار کیا۔ 10 مارچ کے ایک اور ٹیلی گرام میں بتایا گیا کہ انتخابات کے بعد وزیراعظم بھٹو نے اپنا غالب مقام برقرار رکھا ہے، 12 مارچ کو امریکی سفارت خانے نے واشنگٹن کو یہ اطلاع دی کہ قومی اتحاد کی قیادت نے 14 مارچ سے پاکستان بھر میں مطالبات پورے ہونے تک مظاہروں کا اعلان کیا۔ 13 مارچ کے ٹیلی گرام میں، سفارت خانے نے بھٹو کے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھانے تک مبارکباد کا پیغام ملتوی کرنے کی سفارش کی، 14 مارچ کے ٹیلی گرام میں بتایا گیا کہ بھٹو کو اس بڑھتے ہوئے عوامی تاثر کا سامنا ہے کہ الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی۔

23 مارچ کے ٹیلی گرام میں امریکی سفارت خانے نے واشنگٹن میں اپنے افسران کو بتایا کہ کراچی میں اس قدر ہنگامہ ہوا کہ امن کی بحالی کے لیے فوج کو بلانا اور مزید تشدد کو روکنے کے لیے سخت کرفیو نافذ کرنا پڑا۔ 25 مارچ کے ٹیلی گرام میں بتایا گیا کہ قومی اتحاد کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد بھٹو نے حزب اختلاف سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 30 مارچ کو اسلام آباد بھیجے گئے ٹیلی گرام میں کارٹر نے بھٹو کو ان کے عہدے پر فائز ہونے پر مبارکباد کا مختصر پیغام بھیجا، 13 اپریل کے ٹیلی گرام میں ان ‘افواہوں’ کا تذکرہ ہے کہ امریکہ پاکستان قومی اتحاد کی مالی امداد اور حمایت کر رہا ہے۔

20 اپریل کے ٹیلی گرام کے مطابق بھٹو اور اپوزیشن کے مابین تنازع بڑھتا جا رہا ہے۔26 اپریل کو امریکی سفارت خانے کو بھیجے گئے امریکی محکمہ خارجہ کے ٹیلی گرام میں اس امید کا اظہار کیا گیاکہ بھٹو حکومت کی اپوزیشن کے ساتھ بات چیت ہوگی۔ واشنگٹن سے 27 اپریل کو صدر کے معاون برائے قومی سلامتی امور کی صدر کارٹر کے لیے یادداشت میں کہا گیا کہ کل ہمارے نائب سفیر نے سیکریٹری خارجہ آغا شاہی سے بڑھتے ہوئے امریکہ مخالف بیانات پراحتجاج کیا۔

27 اپریل کو اسلام آباد سے ٹیلی گرام میں کہا گیا کہ حکومت مخالف قومی اتحاد کو غیر ملکی رقوم دیئے جانے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

28 اپریل کو امریکی محکمہ خارجہ نے وزیراعظم بھٹو کے نام ٹیلی گرام میں کہا کہ یہ جان کر تشویش ہوئی کہ 28 اپریل کو پارلیمان میں ایک تقریر میں آپ نے امریکہ پر شدید تنقید کی۔ 30 اپریل کو اسلام آباد سے ٹیلی گرام میں، غیر ملکی صحافیوں سے موصول اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ بھٹو پنڈی میں گھوم رہے ہیں، وہ ایک کاغذ کا ٹکڑا لہراتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ یہ امریکی سکریٹری وینس کا خط ہے۔ 30 اپریل کو امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اپنے سفارت خانے کو لکھا گیا ٹیلی گرام خفیہ ہی رکھا گیا، 03 مئی کے ٹیلی گرام کے مطابق وینس کا 28 اپریل کو بھٹو کو لکھا گیا خط 03 مئی کو محکمہ خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران جاری کر دیا گیا۔

4 مئی کو امریکی محکمہ خارجہ نے سفیر بائیروڈ کے لیے ٹیلی گرام بھیجا، اس میں بھٹو کے وینس کو لکھے گئے خط کا متن شامل تھا۔ 13 مئی کو صدر کارٹر کے لیے یادداشت میں قائم مقام سیکریٹری خارجہ وارن کرسٹوفرنے لکھا بھٹو نے کل اعلان کیا کہ حزب اختلاف نے بات چیت کے ذریعہ تنازع کے حل، غالباً نئے انتخابات بھی اس میں شامل ہیں۔ 31 مئی کو امریکی صدر کارٹر کو امریکی وزیر خارجہ وینس نے بتایا کہ میں نے پاکستانی وزیر خارجہ عزیز احمد سے ملاقات کی جن کا کہنا ہے کہ امریکی مفادات کے لیے پاکستان نے بہت قربانیاں دی ہیں مگر امریکہ نے اکثر اسے بیچ منجدھار چھوڑا۔

11 جون کے امریکی سفارت خانہ کے ٹیلی گرام میں بتایا گیا کہ بھٹو نے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی خواہش کے ساتھ ہی امریکی مداخلت کا دعویٰ بھی دہرایا ہے اور ان کا خیال ہے کہ ان کے خلاف سازش میں امریکہ کا ہاتھ ہے۔ واشنگٹن سے 05 جولائی کو صدر کے معاون برائے قومی سلامتی کی صدر کارٹر کے لیے یادداشت میں کہا گیا کہ پاکستان میں سیاسی بحران کے مذاکرات سے حل کی کوئی اُمید نہیں، پاکستانی فوج نے اسی رات اقتدار سنبھال لیا اور ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کردیا۔ اسلام آباد میں امریکی سفیر کی جانب سے صدر کارٹر کے لیے لکھی گئی 5 جولائی کی یادداشت میں کہا گیا کہ شہر پُرسکون ہیں، کوئی امریکی یا دوسرے غیر ملکی متاثر نہیں ہوئے، سعودی عرب اور ایران نے پاکستان میں فوجی قبضے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، لیکن اس خط کو پڑھنے کے بعد اس کی ایک سائیڈ پر صدر جمی کارٹر نے لکھا کہ “ہمارے دیرینہ دوست بھٹو کے ساتھ بہت بُرا ہوا”۔ اب یہ تو کارٹر بہتر بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے بھٹو کے حوالے سے واقعی اظہار افسوس کیا تھا یا طنز کیا تھا؟

Related Articles

Back to top button